ٹائم ہونے کے باوجود عصر و عشاء کی سنت قبلیہ ادا نہ کرنے کا حکم

ٹائم ہونے کے باوجود عصر و عشاء کی سنت قبلیہ ادا نہ کرنے کا حکم

سوال: امام مسجد کے پاس ٹائم ہونے کے باوجود وہ عصراور عشاء کی سنتیں ادا نہیں کرتا اس بارے میں فرمائیں ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب

ظاہر یہی ہے کہ یہ سوال عصر اورعشاء کی سنت غیرمؤکدہ کے متعلق ہے، سنت غیر مؤکدہ کو چھوڑنا یا چھوڑنے کی عادت بنا لینا گناہ نہیں،لہذا مذکورہ امام کے پیچھے نماز جائز ہے، مگر شرعاً سنت غیرمؤکدہ کو پڑھنا افضل اور ترک کرنا ناپسند ہے تو امام کو ان کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

’’(تركه لايوجب إساءةً ولا عتابًا كترك سنة الزوائد) ھی السنن الغیر الؤکدۃ(لكن فعله أفضل).‘‘ ترجمہ:(نماز کے) ادب کا ترک کرنا اسائت و ملامت کو واجب نہیں کرتا جیسا کہ زائد سنتوں کو ترک کرنا وہ سنت غیر غیر مؤکدہ ہیں ( رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلوۃ ، جلد1، صفحہ 477, مطبوعہ دارالفکر)

بہارِ شریعت میں ہے: ”سنتِ غیر موکدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے عام ازیں کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا نہیں ،اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادتاً ہو موجبِ عتاب نہیں۔“(بہار شریعت، جلد1، حصہ2، صفحہ 283، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

✍️ ابو حزقیل محمد ارسلان جلالی

16جمادی الاول 1446ھ 19 نومبر 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں