مہندی اور مائیوں کی رسم کا حکم

مہندی اور مائیوں کی رسم کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ شادیوں میں مہندی یا مائیوں کی رسم کرنا یا ابٹن لگانا جائز ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون المک الوھاب

بیان کی گئی صورت میں حکم شرعی یہ ہے کہ ابٹن ملنے مائیوں اور مہندی کی رسم کرنا جائز ہے جبکہ مرد کو مہندی نہ لگائی جاۓ اور اس میں دیگر خلافِ شرع امور(مثلاً:مردو عورت کا اختلاط،گانے باجے، وغیرھم) نہ ہوں ۔ کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ ہر چیز اصل کے اعتبار سے جائز ہے جب تک شریعت نے ممانعت بیان نہ کی ہو۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ:تخمینا ماہ سوا ماہ شادی سے قبل دولھا اور دولھن کو ابٹن ملا جاتا ہے اس کےلئے اپنے خویش واقارب برادری کی عورتیں بلائی جاتی ہیں دولھا خود بالغ ہو یانابالغ ان کو اکثر وہ عورتیں جن سے رشتہ مذاق کا ہوتا ہے وہی بدن وغیرہ سارے بدن میں ابٹن لگاتی ہیں اور اس کے بعد سب کو گڑ تقسیم کیا جاتاہے یہ اسراف ہے یانہیں؟

الجواب:

ابٹن ملنا جائزہے اور کسی خوشی پر گڑ کی تقسیم اسراف نہیں اور دولھا کی عمر نو دس سال کی ہو تو اجنبی عورتوں کا اس کے بدن میں ابٹن ملنا بھی گناہ وممنوع نہیں۔ہاں بالغ کے بدن میں نامحرم عورتوں کا ملنانا جائز ہے اور بدن کو ہاتھ تو ماں بھی نہیں لگاسکتی یہ حرام اور سخت حرام ہے۔اور عورت ومرد کے مذاق کا رشتہ شریعت نے کوئی نہیں رکھا یہ شیطانی وہندوانی رسم ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(فتاویٰ رضویہ جلد 22 ص:245 مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن)

بہار شریعت میں ہے:

دولھا ، دلھن کو بٹنا لگانا ، مائیوں بٹھانا،جائز ہے ان میں کوئی حرج نہیں ۔

(بہار شریعت حصہ7 ص:106)

“رسم و رواج کی شرعی حیثیت” کتاب میں تیل مہندی کی رسم کے بارے میں ہے:

اس رسم میں لڑکے کو عورتیں تیل لگاتی ہیں اور لڑکی کو مہندی لگاتی ہیں۔ تیل مہندی کی رسم کئی حرام کاموں کا مجموعہ ہے۔ ناچ گانا، نا محرموں کا چھونا، عورتوں مردوں کا اختلاط سب اس رسم میں ہوتا ہے۔ ہمارے پیارے آقا ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد گانے باجے کو ختم کرنا تھا۔ چنانچہ مشکوۃ شریف میں بحوالہ احمد سے مروی ہے۔

عن ابی امامۃ قال قال رسول اللہ ﷺ انّ اللہ بعثنی رحمۃً للعالمین وھدی للعالمین وامرنی ربی بمحق المعازف والمزامیز۔

ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:بے شک میرے رب نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ اور مجھے تمام جہانوں کے لیے ھدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے مجھے ڈھول اور بانسری توڑنے کا حکم دیا ہے۔

(المشکوۃ شریف کتاب الحدود ،باب بیان الخمر ووعید شاربھا ، الفصل الاول ،جلد 2 ص:332 ،المکتب الاسلامی،بیروت)

(رسم و رواج کی شرعی حیثیت ص:234/235 مطبوعہ: مکتبہ اشاعت الاسلام لاہور)

مزید اسی کتاب میں ہے کہ:

اگر تیل مہندی میں یہ سب ناجائز افعال نہ ہوں تو یہ رسم جائز ہے۔ جیسے لڑکیاں مل کر لڑکی کو مہندی لگائیں اور لڑکے کو اسکے بہن بھائی تیل لگائیں۔

(رسم و رواج کی شرعی حیثیت۔ص:238 مطبوعہ:مکتبہ اشاعت الاسلام لاہور)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اپنی کتاب اسلامی زندگی میں فرماتے ہیں:

دولہا دلہن کے خوشبو یعنی اپٹن ملا جاۓ تو کوئی حرج نہیں کہ یہ اپٹن ایک طرح کی خوشبو ہے اور خوشبو نبی کریم ﷺ کو بہت پسند تھی، بلکہ شادی کے وقت خوشبو استعمال کرنا صحابہ کرام علیھم الرضوان سے ثابت ہے، لیکن ان کاموں کے ساتھ کی حرام رسمیں گانا بجانا، عورتوں مردوں کا اختلاط ہونا، بیہودہ مذاق سب بند کر دیے جائیں۔

(اسلامی زندگی ص:40۔۔مطبوعہ:المدینۃ العلمیہ)

تمام اشیاء اصل کے اعتبار سے مباح ہیں اسکے حوالے سے الاشباہ النظائر میں ہے:

الاصل فی الاشیاء اباحة

ترجمہ: اشیاء میں اصل اباحت ہے۔

(الاشباہ والنظائر ص 56 ۔۔مکتبہ رشیدیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

،رول نمبر۔ Arqf-2025-216

14 شوال المکرم 1446ھ بمطابق 13اپریل 2025ء

اپنا تبصرہ بھیجیں