کیا استاد کی مار سے جہنم کی آگ حرام ہو جاتی ہے؟

کیا استاد کی مار سے جہنم کی آگ حرام ہو جاتی ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ جس جگہ پر استاد کی مار لگتی ہے اسکو جہنم کی آگ نہیں جلا سکتی کیا یہ بات صحیح ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

اُستاد کی مار جہاں لگتی ہے اس جگہ کو جہنم نہیں جلائے گی یہ من گڑھت اور جھوٹ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ البتہ بوقت ضرورت اساتذہ بچوں کو مار سکتے ہیں مگر ہاتھ سے نہ کہ ڈنڈے وغیرہ سے اور ایک ساتھ میں تین ضرب سے زائد بھی نہیں مارنا چا ہیے، اسی طرح چہرہ پر مارنا بھی درست نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے۔پھر جب مار کے حوالے سے حکومت و اداروں کی طرف سے سختی ہو تو بالکل ہی نہیں مارنا چاہیے۔

صحیح مسلم میں ہے:

” عن جابر ، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الضرب في الوجه، وعن الوسم في الوجه ترجمہ:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرما یا کہ منہ پر مارا جا ئے یا منہ پر نشانی ثبت کی جائے۔(صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ ، باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجھہ ووسمہ فیہ ،ج 2 ص 210،مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں:

”ضرورت پیش آنے پر بقدر حاجت تنبیہ، اصلاح اور نصیحت کے لئے بلاتفریق اجرت وعدم اجرت استاد کا بدنی سزادینا اور سرزنش سے کام لیناجائزہے مگریہ سزالکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائے۔“(فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۶۵۲رضا فاؤنڈیشن مرکزالاولیا ء لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں :

” کسی گناہ پر بغرض تادیب جو سزا دی جاتی ہے اس کو تعزیر کہتے ہیں شارع نے اس کے لیے کوئی مقدار معین نہیں کی ہے بلکہ اس کو قاضی کی رائے پر چھوڑا ہے جیسا موقع ہو اس کے مطابق عمل کرے۔ تعزیر کا اختیار صرف بادشاہ اسلام ہی کو نہیں بلکہ شوہر بی بی کو آقا غلام کو ماں باپ اپنی اولاد کو استاذ شاگرد کو تعزیر کرسکتا ہے۔“(بہارِ شریعت جلد 2 ،حصہ 9، صفحہ 403 ،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ

ابو نجیب علی حیدر عطاری مدنی

09 صفر المظفر 1447ھ

04 اگست 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں