مردار جانور کی خریدوفروخت

مردار جانور کی خریدوفروخت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین اس بارے میں کہ مردار جانور(جیسے مرغی،بکرا، گائےوغیرہ) کو فروخت کرنا کیسا ہے؟ اور اسکے کھانے کا شرعی حکم کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایتہ الحق والصواب

بیان کی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ جو جانور شریعت کے مطابق ذبح نہ کیا گیا ہو بلکہ وہ خود بخود طبعی موت مرجائے، تو اسے(میتة) مردار کہتے ہیں اورشرعاً مردار کی خریدو فروخت باطل ہے کیونکہ بیع کا ایک رکن یہ ہے کہ مال کا مال سے تبادلہ ہو، جب کہ مردار( جانور) مال نہیں ہے، لہذا مردار (جانور) کا بیع کا رکن نہ پائے جانے کی وجہ سے مردار کی خرید وفروخت باطل ہے اور مردار جانور کا گوشت کھانا بھی حرام ہے۔

قرآن پاک میں ہے:

”اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ “

ترجمہ: اس نے تم پر صرف مردار اور خون حرام کیا۔(سورۃ البقرۃ، آیت: 173)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

” الميتة في الشرع اسم للحيوان الميت غير المذكى، و قد يكون ميتة بأن يموت حتف أنفه من غير سبب لآدمي فيه۔۔۔فإنه يتناول سائر وجوه المنافع، و لذلك قال أصحابنا: لا يجوز الانتفاع بالميتة على وجه و لا يطعمها الكلاب و الجوارح لأن ذلك ضرب من الانتفاع بها، و قد حرم اللہ الميتة تحريما مطلقا“

ترجمہ: شریعت میں میتة اس مردہ حیوان کا نام ہے جس کو شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو اور اس کو بھی مردار کہا جاتا ہے کہ جو آدمی کے کسی سبب کے بغیر طبعی موت مرجائے۔ پس یہ (حرمت) مردار سےمنافع حاصل کرنے کی تما م صورتوں کو شامل ہے، اسی وجہ سے ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ مردار سے کسی بھی صورت میں نفع حاصل کرنا جائز نہیں اور اسے کتے اور دیگر چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کو کھلانا بھی جائز نہیں، کیونکہ اس عمل میں مردار سے نفع حاصل کرنا ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے مردار کو مطلقا حرام قرار دیا ہے۔ (احکام القرآن ،ج1،ص 130، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:

”یہاں آیت میں چار چیزوں کا بیان ہے: (۱)مردار، (۲)خون، (۳)خنزیر کا گوشت، (۴)غیرُاللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔ ان کی تفصیل یہ ہے :

(1)مردار:جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو شرعی طریقے کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً مسلمان اور کتابی کے علاوہ کسی نے ذبح کیا ہو یا جان بوجھ کر تکبیر پڑھے بغیر ذبح کیا گیا ہو یا گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر، ڈھیلے، غلیل کی گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یاوہ بلندی سے گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے اسے سینگ مارکر مار دیا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اسے مردار کہتے ہیں اور اس کا کھانا حرام ہے البتہ مردار کا دباغت کیا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی ، پٹھے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔“( صراط الجنان،ج1،ص311 ،مکتبہ المدینہ کراچی)

مشكوة المصابيح میں ہے :

”وعن جابر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح وهو بمكة: إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام فقيل: يا رسول الله أرأيت شحوم الميتة؟ فإنه تطلى بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس؟ فقال: لا هو حرام ثم قال عند ذلك: قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها أجملوه ثم باعوه فأكلوا ثمنه“

ترجمہ : حضرت جابر سے روایت ہے کہ میں نے فتح مکہ والے سال جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! آپ یہ بتلائیں کہ ہمارے لیے مردار کی چربی کا کیا حکم ہے۔ وہ کشتیوں پر ملی جاتی ہے اسی طرح چمڑوں کو بھی اس کے ذریعے چکنا کیا جاتا ہے اور چراغ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ مردار کی چربی حرام ہے۔ اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت کرے کہ اللہ نے جب جانوروں کی چربی ان پر حرام کر دی تو یہود نے چربی کو پگھلا کر اس کو فروخت کر کے اس کے مال کو کھانا شروع کر دیا۔(‌‌‌‌ مشکوة المصابیح ،كتاب البيوع،ج1،ص 247، مطبوعہ لاہور)

ہدایہ میں ہے:

”البيع بالميتة و الدم باطل۔۔۔لانعدام رکن البیع، و ھو مبادلۃ المال بالمال، فان ھذہ الاشیاء لا تعد مالا عند احد“

ترجمہ: مردار اور خون کی بیع باطل ہے،بیع کے رکن کے نہ پائے جانے کی وجہ سے، اور وہ رکن مال کا مال سے تبادلہ ہے، کیونکہ کسی (امام) کے نزدیک ان اشیا کو مال شمار نہیں کیا جاتا۔(ہدایہ ،ج 3،ص 42، دار احياء التراث العربی، بيروت)

تبیین الحقائق میں ہے:

” والاصل فیہ ان بیع ما لیس بمال عند احد کالحر و الدم و المیتۃ۔۔۔ باطل“

ترجمہ: اس باب میں اصول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو کسی کے نزدیک مال نہیں اس کی بیع باطل ہے، جیسے آزاد، خون اور مردار کی بیع۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، 4، ص 44، دار الكتب الاسلامی، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے:

” جو جانورمردار ہو گیا بغیر ذبح شرعی کے مر گیا اس کا بیچنا حرام ہے اور اس کے دام حرام۔“(فتاوی رضویہ،ج17،ص171،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

واللہ ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ

ممبر فقہ کورس

23 صفر المظفر 1447ھ بمطابق 18 اگست 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں