حضرت امیر معاویہ کی زوجہ میسون کیا عیسائیہ تھیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ صحابئ رسول حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدنا میسون بنت بحدل رضی اللہ تعالی عنہا غیر مسلمہ یعنی عیسائیہ خاتون تھیں کیا یہ بات درست ہے؟ معتبر کتب سے اس بات کی حقیقت ارشاد فرما دیجئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بعض لوگوں کی یہ ناپاک کوشش رہی ہے کہ وہ اہل بیت اطہار کی محبت کی آڑ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست فیض یافتہ ہستیوں یعنی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی گستاخیاں کرتے ہیں اور بالخصوص یزید پلید بد بخت کی وجہ سے عظیم صحابی رسول کاتب وحی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے خاندان پر زبان درازی کرکے اپنے لیے جہنم کا سامان کرتے ہیں۔ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدتنا میسون بنت بحدل کلبی رضی اللہ تعالی عنہا نہ صرف مسلمان بلکہ تابعیت کے مرتبہ پر فائز تھیں اور انتہائی نیک اور دیندار خاتون تھیں جس پر معتبر کتب سے کثیر دلائل موجود ہیں جبکہ ان کے عیسائی ہونے پر کوئی معتبر دلیل موجود نہیں۔
حضرت میسون بنت بحدل رضی اللہ تعالی عنہا کے مسلمان ہونے پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک حدیث پاک بھی روایت کی ہے علمائے محدثین کا آپ کی روایات لینا اور انہیں قبول رکھنا بھی آپ رضی اللہ تعالی عنہا کے ایمان پر دلالت کرتا ہے کیونکہ احادیث مسلمانوں سے ہی روایات کی جاتیں ہیں نہ کہ غیر مسلموں سے۔
التکملہ والذیل للصغانی (متوفی 650ھ)میں ہے:
” وميسون أم يزيد بن معاوية من التابعيات“
ترجمہ:یزید بن معاویہ کی والدہ میسون ،تابعیات میں شمار ہوتی ہیں۔(التکملۃ والذیل والصلۃ،جلد 3، صفحہ 434،مطبوعہ دار الكتب القاهرة)
امام زبیدی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب تاج العروس میں لکھتے ہیں:
”مَيْسُونُ بِنْتُ بَحْدَلِ بْنِ أُنَيْفٍ، مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ جَنَابِ بْنِ هَبَلٍ، مِنْ بَنِي كَلْبٍ، أُمُّ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْ أَبِيهِ، وَعَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى مَا يَسْتَحِقُّ، قَالَ الصَّاغَانِيُّ: وَهِيَ مِنَ التَّابِعِيَّاتِ“
ترجمہ: حضرت ميسون بنت بحدل بن انیف یہ قبیلہ بنی حارثہ سے ہیں، یزید بن معاویہ کی والدہ ہیں، اللہ اس کے والد حضرت امیر معاویہ سے راضی ہو اور یزید کو وہ سزا دے جس کا یہ مستحق ہے، امام صاغانی کہتے ہیں یہ تابعیات میں سے ہیں۔( تاج العروس، جلد 16، صفحہ 529، مطبوعہ دار الهداية)
البدایۃ والنہایۃ میں حافظ ابن کثیر (متوفی 774ھ) لکھتے ہیں:
”وَكانَتْ حازِمَةً عَظيمَةَ الشَّأْنِ جَمالًا وَرِياسَةً وَعَقْلًا وَدِينًا“
ترجمہ: آپ بڑی دور اندیش، حسن وجمال، ریاست، عقل مندی اور دین میں بڑی شان والی تھی۔(البداية والنهاية، جلد 11، صفحہ 463، مطبوعہ دار هجر للطباعة والنشر)
امام ابن عساکر علیہ الرحمۃ (متوفی 571 ھ) تاریخ دمشق میں فرماتے ہیں:
”مَيْسُونُ بِنْتُ بَحْدَلِ بْنِ أُنَيْفِ بْنِ دُلْجَةَ، زَوْجُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَأُمُّ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، رَوَتْ عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَرَوَى عَنْهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، وَكَانَتِ امْرَأَةً لَبِيبَةً“
ترجمہ: میسون بنت بحدل بن انیف بن دلجہ جو کہ حضرت امیر معاویہ کی زوجہ اور یزید کی ماں ہیں، انھوں نے امیر معاویہ سے روایت کی، اور ان سے محمد بن علی نے روایت کی، اور یہ عقلمند خاتون تھیں۔( تاريخ دمشق، جلد 70، صفحہ130، مطبوعہ دار الفکر بیروت)
تبصیر المتنبہ لابن حجر عسقلانی میں ہے:
” ميسون بنت بحدل الكليبة، والدة يزيد بن معاوية، روت عن معاوية “
ترجمہ:میسون بنت بحدل الکلیبہ ،یزید بن معاویہ کی والدہ ہیں ،اور انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث روایت کی ہے۔ (تبصیر المتنبہ بتحرير المشتبه، جلد 4،صفحہ1280،مطبوعہ المكتبة العلمية، بيروت)
عظیم محدث جمال الدین یوسف المعروف سبط ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 654ھ) لکھتے ہیں:
”وَيَزِيدُ أُمُّهُ مَيْسُونُ بِنْتُ بَحْدَلِ بْنِ أُنَيْفِ بْنِ دُلْجَةَ، وَلَدَتْ لَهُ يَزِيدَ وَابْنَةً فَمَاتَتْ صَغِيرَةً، رَوَتْ مَيْسُونُ عَنْ مُعَاوِيَةَ الحَدِيثَ. (مُلْتَقَطًا)“
ترجمہ: اور یزید کی والدہ میسون بنت بحدل بن انیف بن دلجہ ان سے یزید اور ایک لڑکی پیدا ہوئی جو بچپن میں فوت ہو گئی، حضرت میسون بنت بحدل نے امیر معاویہ سے روایت لی ہے۔(مرآۃ الزمان لسبط ابن الجوزی، جلد 8، صفحہ 98 ٬مطبوعہ دار الرسالة العالمية)
امام جرح و تعدیل امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”وَأُمُّهُ مَيْسُونُ بِنْتُ بَحْدَلٍ الكِلَابِيَّةُ، رَوَى عَنْ أَبِيهِ“
ترجمہ: اور یزید کی ماں میسون بنت بحدل رضی اللہ عنہا نے اس کے والد ( حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کی۔(تاريخ الاسلام، جلد 2، صفحہ 731، مطبوعہ دار الغرب الاسلامي)
حضرت میسون بنت بحدل رضی اللہ عنہا کی روایت: امام ابو احمد بن عدی جرجانی (متوفی 365ھ) نے اپنی کتاب الکامل میں آپ سے ایک روایت نقل کی ہے:
”عَنْ مَيْسُونَ بِنْتِ بَحْدَلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: ”سَيَكُونُ قَوْمٌ يُنَالُهُمُ الإِخْصَاءُ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا أَوْ نَحْوَ هَذَا الكَلَامِ“
ترجمہ: میسون بنت بحدل سے مروی، وہ حضرت امیر معاویہ سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عن قریب ایک قوم ہوگی جو اپنی نسل کشی کریں گے تو انہیں خیر کی وصیت کرنا یا اسی کی مثل فرمایا۔(الكامل في ضعفاء الرجال، جلد 3، صفحہ 432، مطبوعہ دار الكتب العلميه بیروت)
صحیح مسلم میں ہے:
”عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ لَمْ يَکُونُوا يَسْأَلُونَ عَنْ الْإِسْنَادِ فَلَمَّا وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ قَالُوا سَمُّوا لَنَا رِجَالَکُمْ فَيُنْظَرُ إِلَی أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ وَيُنْظَرُ إِلَی أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ“
ترجمہ:حضرت ابن سیرین نے فرمایا کہ پہلے لوگ اسناد کی تحقیق نہیں کیا کرتے تھے لیکن جب دین میں بدعات اور فتنے داخل ہوگئے تو لوگوں نے کہا کہ اپنی اپنی سند بیان کرو پس جس حدیث کی سند میں اہلسنت راوی دیکھتے تو ان کی حدیث لے لیتے اور اگر سند میں اہل بدعت راوی دیکھتے تو اس کو چھوڑ دیتے۔(صحیح مسلم ٬مقدمۃ الکتاب٬ صفحہ 14 ٬مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
محمد عرفان مدنی قصوری
23 صفر المظفر 1447ھ بمطابق 18 اگست 2025ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری