خواجہ سرا (shemale) کے غسل کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر خواجہ سرا (ہیجڑا)فوت ہو جائے اور اس میں مرد عورت دونوں کی علامات پائی جائیں تو اسکو غسل کون دے گا ؟رہنمائی فرما دیجئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب الھم ہدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا حکم شرعی یہ ہے کہ خواجہ سرا (shemale)(جس میں مرد اور عورت دونوں کی علامتیں پائی جائیں اور یہ ثابت نہ ہو کہ مرد ہے یا عورت)کا انتقال ہوجائے، تو اسے نہ مرد نہلا سکتا ہے نہ عورت، بلکہ تیمم کرایا جائے گا۔ اگر تیمم کرانے والا اجنبی ہو تو غسل دینے والا ہاتھ پر کپڑا لپیٹے اور کلائیوں پر نظر نہ کرے۔
نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے:
”وکذا خنثی المشکل یمم فی ظاہر الروایۃ“
ترجمہ: اور اسی طرح خنثی مشکل(جس میں مرد عورت دونوں کی علامات ہوں) کو تیمم کرایا جائے۔(نور الایضاح مع مراقی الفلاح، باب احکام الجنائز، صفحہ290، مطبوعہ مکتبہ المدینہ)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
”والخنثى المشكل المراهق لا يغسل رجلا ولا امرأة ولم يغسلها رجل ولا امرأة و يتمم وراء ثوب“
ترجمہ: بالغ خنثی مشکل نہ کسی مرد کو غسل دے گا نہ عورت کو اور اسی طرح مرد اور عورت خنثی مشکل کو غسل نہیں دے سکتے بلکہ کپڑا لپیٹ کر تیمم کرائیں گے۔(فتاوی عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی و العشروں فی الجنائز جلد1،صفحہ174، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
” خنثی مشکل کا انتقال ہوا تو اسے نہ مرد نہلا سکتا ہے نہ عورت بلکہ تیمم کرایا جائے، اور تیمم کرانے والا اجنبی ہو تو ہاتھ پر کپڑا لپیٹ لے اور کلائیوں پر نظر نہ کرے، یوہیں خنثیٰ مشکل کسی مرد یا عورت کو غسل نہیں دے سکتا، خنثی مشکل چھوٹا بچہ ہو تو اسے مرد بھی نہلا سکتے ہیں اور عورت بھی یوں ہی عکس۔“(بہار شریعت، میت کو نہلانے کا بیان، جلد1، صفحہ814، مطبوعہ مکتبہ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
15صفر المظفر1447ھ بمطابق 10اگست2025ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری