نمازِ جنازہ کی چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ باندھنا یا چھوڑنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز جنازہ میں بعض لوگ چوتھی تکبیر کے بعد دونوں ہاتھوں کو چھوڑ دیتے ہیں اس کے بعد دونوں طرف سلام پھیرتے ہیں اور بعض چوتھی تکبیر کے بعد دائیں طرف سلام پھیر کر دایاں ہاتھ چھوڑ تے ہیں اور بائیں طرف سلام پھیر کر بایاں ہاتھ چھوڑ تے ہیں اس بارے میں درست طریقہ کار کیا ہے ارشاد فرما دیجئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نماز میں حالتِ قیام میں ہاتھ باندھنے کے حوالے سے اصول یہ ہے کہ ہر وہ قیام جس میں ذکرِ مسنون ہو وہاں پر ہاتھ باندھے جائیں گے اور جہاں پر ایسا نہ ہو تو وہاں پر ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے جیسے نماز میں جب رکوع سے اٹھتے ہیں تو ہاتھ باندھے نہیں جاتے۔لہٰذاپوچھی گئی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ نماز ِجنازہ میں چونکہ چوتھی تکبیر کے بعد ذکر مسنون نہیں ہے اس لیے چوتھی تکبیر کے بعد دونوں ہاتھوں کو چھوڑ دیا جائے اور اس کے بعد دونوں طرف سلام پھیرا جائے کیونکہ فقہاء کرام نے اسی طریقہ کار کو صحیح قرار دیا ہے۔بعض لوگ جو دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد دائیاں ہاتھ اور بائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد بائیاں ہاتھ چھوڑتے ہیں یہ طریقہ درست نہیں۔
خلاصۃ الفتاوی میں ہے:
”ولایعقد بعد التکبیر الرابع؛ لأنه لایبقی ذکر مسنون حتی یعقد، فالصحیح أنه یحل الیدین، ثم یسلم تسلیمتین،کذا في الذخیرة“
ترجمہ:چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے، کیونکہ اس کے بعد کوئی مسنون ذکر باقی نہیں رہتا جس کے لیے ہاتھ باندھنا ضروری ہو۔ لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ ہاتھ چھوڑ دے، پھر دو سلام کہے، یہی ‘الذخیرة’ میں ہے۔(خلاصۃ الفتاوی ٬جلد1 ٬کتاب الصلوۃ ٬جنس آخر فی صلوۃ الجنازۃ ٬مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)
السعایہ فی کشف ما فی شرح الوقایہ میں ہے:
”هل يضع مصلي الجنازة بعد التکبير الاخير من تکبير اته ثم يسلم ام يرسل ثم يسلم وهو انه ليس بعد التکبير الاخير ذکرمسنون فيسن فيه الارسال“
ترجمہ:کیا جنازہ پڑھنے والا آخری تکبیر کے بعد (ہاتھ) باندھے رکھے پھر سلام پھیرےیا ہاتھ چھوڑ دے پھر سلام پھیرے؟ اس بارے میں یہ ہے کہ چونکہ آخری تکبیر کے بعد کوئی مسنون ذکر نہیں ہے، اس لیے (اس وقت) ہاتھ چھوڑ دینا سنت ہے۔(السعایہ فی کشف ما فی شرح الوقایۃ ٬جلد 2 ٬صفحہ 159 ٬ مطبوعہ کوئٹہ )
اعلی حضرت علیہ الرحمۃ سے اسی طرح کا ایک سوال ہوا کہ نماز جنازہ میں ہاتھ سلام سے پہلے چھوڑے جائیں یا بعدِ سلام تو آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں:
”ہاتھ باندھنا سنت اس قیام کی ہے جس کے لئے قرار ہو ، کما في الدر المختار وغير ہا من الاسفار ( جیسا کہ در مختار و غیره کتابوں میں ہے۔ ت) سلام وقت خروج ہے اُس وقت ہاتھ باندھنے کی طرف کوئی داعی نہیں، تو ظاہر یہی ہے کہ تکبیر چہارم کے بعد ہاتھ چھوڑ دیا جائے۔“(فتاوی رضویہ ٬ جلد 9 ٬ صفحہ 195 ٬مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”چوتھی تکبیر کے بعد بغیر کوئی دُعا پڑھے ہاتھ کھول کر سلام پھیر دے۔“(بہار شریعت ٬نماز جنازہ کا بیان ٬ جلد 1 ٬حصہ 4 ٬ صفحہ 840 ٬مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
فقیہ اعظم مولانا محمد نوراللہ نعیمی رحمہ اللہ تعالی فتاوی نوریہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
” نماز جنازہ میں چوتھی تکبیر تک ہاتھ باندھے جائیں بعد ازاں دونوں ہاتھ چھوڑ دے اور پھر دونوں سلام کہے۔“(فتاوی نوریہ٬کتاب الصلاۃ٬جلد1 ٬صفحہ275 ٬مطبوعہ شعبہ تصنیف و تالیف دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیرپور)
واللہ اعلم عزوجل وسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
مولانا محمد عرفان مدنی قصوری
9 صفر المظفر 1447ھ بمطابق 4 اگست 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری