مرنے والے کی تدفین کے متعلق وصیت

مرنے والے کی تدفین کے متعلق وصیت

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت نے اپنے آبائی گاؤں میں یا فلاں کے قریب دفن ہونے کی وصیت کی ہو تو کیا ورثاء پر اس وصیت پر عمل کرنا واجب ہے؟

بسم ﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ یہ وصیت کرنا کہ مجھے فلاں قبرستان یا فلاں جگہ یا فلاں کی قبر کے قریب دفن کرنا یہ ایسی وصیت ہے کہ اس وصیت پر عمل کرنا واجب نہیں بالخصوص اس صورت میں کہ جب مقامِ وفات اور تدفین کی وصیت والی جگہ میں فاصلہ کافی زیادہ ہو کیونکہ اس صورت میں بلا وجہ شرعی میت کی تدفین میں تاخیر ہو رہی ہے جو کہ درست نہیں ،شرعی حکم یہی ہے کہ جلد از جلد میت کو دفن کیا جائے زیادہ تاخیر نہ کی جائے۔البتہ اگر مقامِ وفات اور تدفین کی وصیت والے مقام میں فاصلہ کم ہو مثلا ایک یا دو میل تک ہو تو وصیت پر عمل کرتے ہوئے وہاں قبرستان تک لے جانے میں حرج نہیں۔

الجوھرۃ النیرۃ میں ہے:

’’وإن أوصی بأن یحمل بعد موتہ إلی موضع کذا فہو باطل‘‘

ترجمہ: اگر وصیت کی کہ اس کی موت کے بعد اسے فلاں مقام پر دفن کرے تو یہ وصیت باطل ہے۔(الجوہرۃ النیرۃ،کتاب الوصایا، قبول الوصیۃ بعد الموت، جلد 2،صفحہ296، مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

”ويستحب في القتيل والميت دفنه في المكان الذي مات في مقابر أولئك القوم، وإن نقل قبل الدفن إلى قدر ميل أو ميلين فلا بأس به كذا في الخلاصة، وكذا لو مات في غير بلده يستحب تركه“

ترجمہ:قتل ہونے والے اور عام میت کے بارے میں مستحب ہے کہ اسے اسی جگہ دفن کیا جائے جہاں اس کی موت ہوئی ہو، اور وہاں کے لوگوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔اگر دفن سے پہلے اسے ایک یا دو میل کے فاصلے تک منتقل کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ خلاصة میں ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے شہر کے علاوہ کسی اور جگہ فوت ہو جائے مستحب یہی ہے کہ اُسی جگہ دفن کیا جائے۔(الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الصلوۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، جلد 1 ، صفحہ 182 ٬مطبوعہ کتب خانہ کراچی)

ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے:

”أوصى بأن يصلي عليه فلان أو يحمل بعد موته إلى بلد آخر أو يكفن في ثوب كذا أو يطين قبره……. فهي باطلة سراجية“

ترجمہ:اگر کسی نے وصیت کی کہ فلاں شخص اس (مرنے والے) پر نماز جنازہ پڑھے، یا مرنے کے بعد اسے کسی دوسرے شہر لے جایا جائے، یا فلاں کپڑے میں کفن دیا جائے، یا اس کی قبر پر مٹی کا لیپ کیا جائے تو یہ سب وصیتیں سراجیہ کے مطابق باطل ہیں۔(ردالمحتار علی الدر المختار٬ جلد 6، صفحہ 666، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں:

’’وصیت دربارہ دفن واجب العمل نہیں۔‘‘(فتاوٰی رضویہ،جلد9، صفحہ 405، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صحیح مسلم میں حدیث پاک ہے:

” عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَکُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ لَعَلَّهُ قَالَ تُقَدِّمُونَهَا عَلَيْهِ وَإِنْ تَکُنْ غَيْرَ ذَلِکَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِکُمْ“

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنازہ کو جلدی لے چلو پس اگر وہ نیک ہے تو اس کو خیر کی طرف جلدی پہنچا اور اگر اس کے علاوہ بد ہے تو تم اس کو اپنی گردنوں سے اتار دو۔(صحیح مسلم٬ کتاب الجنائز ٬باب الاسراع بالجنازۃ٬ صفحہ 338 ٬مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

”عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: سمعت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ“

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:”جب تم میں سے کوئی فوت ہو جائے تو اسے روکے نہ رکھو، بلکہ جلدی اسے اس کی قبر کی طرف لے جاؤ۔”(مشکوۃ المصابیح ٬ کتاب الجنائز٬ باب دفن المیت٬صفحہ 149 ٬ مطبوعہ بیروت لبنان)

اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے ملا علي قاري علیہ الرحمۃ مرقاۃ المفاتیح میں فرماتے ہیں:

” أي لا تؤخروا دفنہ من غیر عذر، قال ابن الہمام: یستحب الإسراع بتجہیزہ کلہ من حین یموت“

ترجمہ: یعنی بغیر کسی عذر کے اس (میّت) کی تدفین میں تاخیر نہ کرو۔ابن الہمام علیہ الرحمۃ نے فرمایا: میت کے فوت ہوتے ہی اس کی مکمل تیاری (یعنی غسل، کفن، دفن وغیرہ) میں جلدی کرنا مستحب ہے۔(مرقاۃ المفاتیح ٬ باب دفن المیت٬ جلد 4 ٬صفحہ 172 ٬مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

بہار شریعت میں ہے:

” جس شہر یا گاؤں وغیرہ میں انتقال ہوا وہیں کے قبرستان میں دفن کرنا مستحب ہے اگرچہ یہ وہاں رہتا نہ ہو، بلکہ جس گھر میں انتقال ہوا اس گھر والوں کے قبرستان میں دفن کریں اور دو ایک میل باہر لے جانے میں حرج نہیں کہ شہر کے قبرستان اکثر اتنے فاصلے پر ہوتے ہیں اور اگر دوسرے شہر کو اس کی لاش اٹھا لے جائیں تو اکثر علما نے منع فرمایا اور یہی صحیح ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ دفن سے پیشتر لے جانا چاہیں اور دفن کے بعد تو مطلقاً نقل کرنا ممنوع ہے۔“(بہار شریعت ٬کفن و دفن کا بیان٬ جلد 1 ٬حصہ چہارم ٬ صفحہ 851-852 ٬مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم

کتبہ

محمد عرفان مدنی قصوری

یکم صفر المظفر 1447ھ بمطابق 28 جولائی 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں