سرکہ کے متعلق دومختلف فتاوی
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ میری نظر سے دو فتاوی گزرے؛ایک سیب کے بنے سرکہ سے متعلق تھا جس کو حلال قرار دیا گیا تھا اور دوسرا نان الکوحلک بیئر سے متعلق تھا جس کو حرام قرار دیا گیا تھا،دونوں میں کیا فرق ہے؟ ایک حلال اور ایک حرام کیسے ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایة الحق و الصواب
شرعاسیب کے رس سے بنا سرکہ،وائٹ وائن سرکہ اور شراب کے دیگر سرکے حلال ہیں جبکہ نان الکوحلک بیئر،جو کے پانی کی بیئر اور ایسے ہی دیگر مشروبات جن کو اولا الکوحلک بیئر سے بناکر خاص عمل کے ذریعے الکوحل ختم کرنے کی ترکیب کی جاتی ہے؛لیکن چونکہ اس میں بالکل قلیل مقدار میں الکوحل باقی ہوتا ہے لہذا یہ سب بھی حرام ہیں۔
مسئلہ کی تفصیل:
سب سے پہلے بنیادی اصول سمجھ لیا جائے کہ شراب جب کسی بھی طرح سے سرکہ بن جائے تو اب وہ سرکہ حلال اور پاک ہے کیونکہ شراب کی حقیقت اور ماہیت تبدیل ہوگئی اور اب وہ شراب نہ رہی اور جب کسی بھی چیز کی حقیقت بدل جائے تو اس کا حکم بھی بدل جاتا ہے لیکن اگر اس کی حقیقت تبدیل نہ ہو بلکہ اس میں الکوحل اگرچہ قلیل مقدار میں ہی باقی رہے تو وہ حرام ہی رہے گی کیونکہ جس کی کثیر مقدار نشہ لائے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔اس تفصیل کو سمجھنے کے بعد یہ سمجھا جائے کہ اوپر ذکر کیے گئے سرکے جو شراب سے بنتے ہیں؛چونکہ اب وہ شراب نہ رہے بلکہ سرکے ہوگئے لہذا ان کا استعمال حلال ہے اور نان الکوحلک بیئر اور اس طرح کے دیگر مشروبات عام الکوحلک بیئر سے بنتے ہیں اور پھر اگرچہ الکوحل کو نکالنے کا عمل کیا جاتا ہے مگر اس میں قلیل مقدار الکوحل کی باقی رہتی ہے لہذا یہ حرام ہیں۔
مسلم شریف میں ہے:
”نعم الادم الخل“
ترجمہ:بہترین سالن سرکہ ہے۔(مسلم،کتاب الاشربۃ،باب فضیلۃ الخل و التادم بہ،حدیث2051)
شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
”عندنا جاز تخلیلھا“ترجمہ:ہم احناف کے نزدیک شراب کا سرکہ بنانا جائز ہے۔
کچھ آگے چل کر فرماتے ہیں:
”لنا اطلاق قوله -عليه السلام:(نِعمَ الإدامُ الخَلُّ)، ولأن بالتخليل يزول الوصف المفسد، ويثبت صفة الصلاح من حيث تسكين الصفراء وكسر الشهوة،والتغذي به،والإصلاح مباح“
ترجمہ:ہماری دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلق فرمانا ہے:سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے،اور اس لئے کہ شراب کو سرکہ بنانے سے برے اوصاف ختم ہوجاتے ہیں اور اصلاح کی صفت پیدا ہوجاتی ہے جیسا کہ صفرا میں سکون دینا،شہوت کو کم کرنا،اس کے ذریعے غذا کا حصول اور اصلاح جائز ہے۔(لمعات التنقیح،باب بیان الخمر و وعید شاربھا،الفصل الاول،جلد6،صفحہ429،دار النوادر دمشق)
الاختیار میں ہے:
”واذا زال المفسد الموجب للحرمۃ حلت کما اذا تخللت بنفسھا واذا تخللت طہر الاناء ایضا لان جمیع ما فیہ من اجزاء الخمر یتخلل“
یعنی:اور جب فاسد وصف جو حرمت کو لازم کرتا ہے؛زائل ہوگیا تو حلال ہوگئی جیسا کہ وہ خود بخود سرکہ بن جائے اور جب سرکہ ہوجائے تو برتن بھی پاک ہوگیا اس لئے کہ اس میں موجود تمام اجزاء خمر سرکہ ہوگئے۔(الاختیار لتعلیل المختار،کتاب السرقہ،جلد4،صفحہ102،مطبعۃ الحلبی)
بدایۃ المبتدی میں ہے:
”واذا تخللت الخمر حلت سواء صارت خلا بنفسھا او بشئی یطرح فیھا ولا یکرہ تخلیلھا“
یعنی اور جب شراب سرکہ ہوجائے تو حلال ہے چاہے وہ خود بخود سرکہ ہوجائے یا اس میں کوئی چیز ڈالی جائے اور شراب کا سرکہ بنانا مکروہ نہیں۔(بدایۃ المبتدی،فصل فی الجوارح،صفحہ227،مکتبۃ و مطبعہ محمد علی صبح)
مجمع الانهر میں ہے:
”ویطھر نحو الروث و العذرۃ بالحرق حتی یصیر رمادا عند محمد ھو المختار و علیہ الفتوی لان الشرع رتب وصف النجاسۃ علی تلک الحقیقۃ وتنتفی الحقیقۃ بانتفاء بعض اجزاء مفہومھا فیکف بالکل الا یری ان العصیر الطاھر اذا صار خمرا یتجنس واذا صار خلا یطھر اتفاقا“
یعنی لید اور پاخانہ جیسی چیزیں جلانے سے پاک ہوجاتی ہیں یہاں تک کہ راکھ ہوجائے امام محمد کے نزدیک یہی مختار ہے اور اسی پر فتوی ہے اس لئے کہ شریعت نے نجاست کا وصف اس حقیقت پر مرتب کیا ہے اور حقیقت منتفی ہوجاتی ہے اس کے مفہوم کے بعض اجزا کے منتفی ہوجانے سے تو کل کے منتفی ہونے سے کیسے نہیں ہوگی؟ کیا نہ دیکھا کہ مشروب جب شراب ہوجائے تو ناپاک ہے اور سرکہ ہوجائے تو بالاتفاق پاک ہے۔(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر،کتاب الاطہارۃ،باب الانجاس،جلد1،صفحہ 61،دار احیاء التراث)
ابن ماجہ میں ہے:
”کل مسکر حرام و ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام“
ترجمہ:ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس کا کثیر نشہ آور ہو اس کا قلیل بھی حرام ہے۔(ابن ماجہ،کتاب الاشربہ،باب ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام،حدیث3392،دار احیاء الکتب)
حاشیہ سندی میں ہے:
”ما اسكر كثيره اي ما يحصل السكر بشرب كثيره فهو حرام قليله وكثيره وان كان قليله غير مسكر وبه اخذ الجمهور وعليه الاعتماد عند علمائنا الحنفية“
ترجمہ:جس کا کثیر نشہ لائے یعنی جس کے کثیر کو پی کر نشہ آئے تو اس کا قلیل و کثیر دونوں حرام ہے اگرچہ قلیل میں نشہ نہ ہو اور اسی کو جمہور نے اختیار کیا اور اس پر اعتماد کیا ہمارے حنفی علما نے۔(حاشیہ سندی علی سنن نسائی،کتاب الاشربہ،جلد8،صفحہ300،مکتب المطبوعات الاسلامیہ)
درمختار میں ہے:
”وحرمھا محمد ای الاشربۃ المتخذۃ من العسل و التین ونحوھما قالہ المصنف مطلقا قلیلھا و کثیرھا وبہ یفتی“
یعنی امام محمد نے ان کو حرام قرار دیا ہے یعنی وہ مشروبات جو شہد اور زیتون اور اس کے علاوہ(کھجور،کشمش انگور) سے حاصل ہوں مصنف نے مطلقا فرمایا یعنی اس کا قلیل و کثیر حرام ہے اور اسی پر فتوی ہے۔(درمختار،کتاب الاشربہ،صفحہ677،دار الکتب العلمیہ)
فتاوی تاج الشریعہ میں ہے:
”بیئر میں جبکہ الکوحل کی آمیزش ہے تو وہ مثل پیشاب کے ناپاک و حرام ہے کہ الکوحل شراب ہے اور شراب نجس و حرام لہذا اس کی اجازت نہیں ہو سکتی۔“(فتاوی تاج الشریعہ،جلد9،صفحہ434،شبیر برادز)
واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ابو البنات فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل
مورخہ 30 جولائی، 2025 بمطابق 4 صفر المظفر،1447ھ بروز بدھ
نظرِ ثانی:
ابو احمد مفتی انس رضا قادری