میت کی طرف سے نماز اور روزے رکھنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی زندگی میں کئی نمازیں قضا کیں اور فرض روزے ترک کیے ۔ اب وہ مرگیا تو کیا اولاد یا دیگر رشتہ دار اس کی نمازوں اور روزوں کو اب ادا کرسکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
پوچھی گئی صورت کا حکم شرعی یہ ہے کہ مرنے والے کی اگر فرض نمازیں اور روزے رہتے ہوں تو اب ان کی طرف سے زندہ بندہ قضا نہیں کرسکتا البتہ ہر نماز اور روزہ کا فدیہ دیا جاسکتا ہے۔یعنی ہر نمازبشمول وتر اور روزہ کے بدلے میں ایک صدقہ فطر کی رقم شرعی فقیر کو صدقہ کی جائے۔ جتنی نمازیں اور روزے قضا کیے ہوں اتنے ہی صدقہ فطر دیں۔
السنن الکبری میں ہے:
”عن ابن عباس لا یصلی احد عن احد، ولا یصوم احد عن احد ولکن یطعم عنہ مکان کل یوم مدا من حنطۃ“
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی کسی دوسرے کی طرف سے نماز نا پڑھے اور نا روزہ رکھے بلکہ اسکی جگہ ہر دن کے بدلے میں ایک مد گندم صدقہ کرے۔(السنن الکبری،کتاب الصیام، صوم الحی عن المیت وذکر اختلاف۔۔۔، جلد3، صفحہ257، مؤسسہ الرسالہ، بیروت)
البحر الرائق میں ہے:
”الولی لایصوم عنہ و لا یصلی لحدیث النسائی لایصوم احد عن احد ولا یصلی احد عن احد “
ترجمہ: ولی میت کی طرف سے نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے کیونکہ حدیث نسائی میں ہے کوئی شخص کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے اور نا نماز پڑھے۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصوم، فصل فی العوارض، جلد2، صفحہ499، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”ولی میت کی طرف سے نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے کیونکہ حدیث نسائی میں ہے کوئی شخص کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے اور نا نماز پڑھے۔“(فتاوی رضویہ، باب الفدیہ، مکروہات صوم، جلد10، صفحہ554،553، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ: ممبر فقہ کورس
Arqf_2025_215
25 محرم الحرام1447ھ بمطابق/21جولائی2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری