اہل بیت کی محبت میں نوحہ اور مرثیہ پڑھنا اور سننا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرح متین اس بارے میں کہ محرم الحرام میں شہداء کربلا اورمحبتِ اہل بیت میں نوحہ اور مرثیہ پڑھنے اور سننے کا شرعی حکم کیا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایتہ الحق والصواب
بیان کی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ مرثیہ ونوحہ سے مراد ہے مرنے والے کے اوصاف کو یاد کرکے زور زور سے چلانا، رونا پیٹنا، سینہ کوبی کرنا اور خاص طور پر محرّم الحرام میں واقعہ کربلا کو یاد کرکےاس پر صبر وتحمل کرنے کے بجائے رسمی دکھ اور غم منانا ۔شرعا یہ سب ناجائز و حرام ہے۔ نوحے سننا اور ان ماتم کرنے والوں دیکھنا بھی شرعا جائز نہیں۔
فیروز اللغات اردو میں ہے:
”مرثیہ وہ نظم ہے جس میں مردے کے اوصاف بیان کئے گئے ہوں یا وہ نظم جس میں شہدائے کربلا کے مصائب اور شہادت کا ذکر ہو ۔۔۔۔نوحہ بھی مرثیہ کی طرح عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی صیحہ کرنے کے ہیں ( یعنی بلند آواز سے گریہ کرنے کو کہتے ہیں)ماتم کرنا لاش پر چلا کر رونا۔نوحہ اور مرثیہ دونوں ہم معنی ہیں یعنی لاش پر گریہ کرنا چلانا سینہ کوبی کرنا اس کے اوصاف بیان کرنا ۔“(فیروز اللغات،ص243، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مشکوة المصابیح میں ہے:
”عن أبي سعيد الخدري قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم النائحة والمستمعة“
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےلعنت فرمائی نوحہ خوانی کرنے والی پر اور اس کو سننے والی پر۔(مشكوة المصابيح، کتاب الجنائز،باب دفن الميت،ج1، ص:543، مطبوعہ المکتب الاسلامی)
مشکوة المصابیح میں ہے:
”وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية“
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو رخساروں کو پیٹے، گریبان چاک کرے اور ایام جاہلیت کی طرح آواز بلند کرے (یعنی رونے کے وقت زبان سے ایسے الفاظ اور ایسی آواز نکالے جو شرعا ممنوع ہے جیسے نوحہ یا واویلا کرنا وغیرہ وغیرہ)۔ (مشكوة المصابيح،کتاب الجنائز، باب دفن الميت،ج1، ص541، مطبوعہ المکتب الاسلامی)
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے :
”وعن أبي مالك الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن: الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة “وقال:النائحة إذا لم تتب قبل موتها تقام يوم القيامة وعليها سربال من قطران ودرع من جرب”
ترجمہ: حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:زمانہ جاہلیت کی چار باتیں ایسی ہیں جنہیں میری امت کے (کچھ) لوگ نہیں چھوڑیں گے: (1) حسب پر فخر کرنا (2) نسب پر طعن کرنا (3) ستاروں کے ذریعہ پانی مانگنا (4) نوحہ کرنا۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: نوحہ کرنے والی عورت نے اگر مرنے سے پہلے توبہ نہیں کی تو وہ قیامت کے دن اس حال میں کھڑی کی جائے گی کہ اس کے جسم پر ”قطران“ (تارکول) کی شلوار اور ” خارش“ کا کرتا ہوگا۔(مشكوة المصابيح، کتاب الجنائز،ج1، ص541، مطبوعہ:المکتب الاسلامی)
مراۃ المناجیح میں ہے :
” رال میں آگ جلدلگتی ہے اور سخت گرم بھی ہوتی ہے۔جرب وہ کپڑا ہے جو سخت خارش میں پہنایاجاتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ نائحہ پر اس دن خارش کا عذاب مسلّط ہوگا کیونکہ وہ نوحہ کرکے لوگوں کے دل مجروح کرتی تھی تو قیامت کے دن اسے خارش سے زخمی کیاجائے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نوحہ خواہ عملی ہو یا قولی سخت حرام ہے،چونکہ اکثرعورتیں ہی نوحہ کرتی ہیں اس لیے عمومًا نائحہ تانیث کا صیغہ فرمایا۔۔۔اس زمانہ میں نوحہ پربھی فخر ہوتا تھا لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ امام حسین ا ور دیگر شہداءکربلا کو بھی عذاب ہو کہ ان پر رافضی بہت نوحہ اورکوٹا پیٹی کرتے ہیں کیونکہ ان سرکاروں نے نہ اس کی وصیت کی نہ اس سے راضی ہوئے….مردے کے سچے اوصاف بیان کرنا مذبہ کہلاتا ہے اوراس کے جھوٹے اوصاف بیان کرکے رونا نوحہ ہے۔مذبہ جائز ہے،نوحہ حرام۔حضرت فاطمۃ الزہرہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم پر مذبہ کیا تھا نوحہ نہیں۔ “( مشکوٰۃ المصابیح،ج 2 ،ص 124، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
فتاوی عالمگیری ہے
’’النوح العالی لایجوز‘‘ (فتاوی ہندیہ،ج1،ص167،نورانی کتب خانہ،پشاور)
فتاوی رضویہ میں ہے:
” عام ورثاء پر تین دن اور بیوی پر 4 ماہ 10 دن سوگ ہے اس کے بعد سوگ نہیں۔ لہٰذا تین دن کے بعد جہاں سوگ منع ہے وہیں تجدید حزن بھی جائز نہیں ہے یعنی فوت شدہ یا شہید ہو جانے والے کو اس انداز میں یاد کرنا کہ حزن و غم تازہ ہو یہ بھی جائز نہیں ہے۔“ ( فتاویٰ رضویہ،ج 23،ص739،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”نوحہ یعنی میت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کر کے آواز سے رونا ، جس کو بین کہتے ہیں بالاجماع حرام ہے۔ یوں ہی واویلا یا وا مصیبتا کہہ کر چلانا۔“ (بہار شریعت ، ج1،ص 854،مکتبہ المدینہ کراچی)
بہار شریعت میں ہے :
”مرثیہ میں غلط واقعات نظم کیے جاتے ہیں ، اہل بیتِ کرام کی بے حرمتی اور بے صبری اور جزع فزع کا ذکر کیا جاتا ہے اور چونکہ اکثر مرثیہ رافضیوں ہی کے ہیں ، بعض میں تَبَرَّا بھی ہوتا ہے مگر اس رو میں سنّی بھی اسے بے تکلف پڑھ جاتے ہیں اور انھیں اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں ، یہ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں ۔“(بہار شریعت،ج3،ص650،مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)
احکام شریعت میں ہے :
”محرم کی مجالسوں میں جانا،۔ مرثیہ سننا حرام ہے ۔“(احکام شریعت،ج1،ص 141 ،مطبوعہ نظامیہ کتب گھر)
امام احمدرضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’جو فعل حرام ہے اس میں شریک ہونا اس کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج24،ص91،رضا فائونڈیشن،لاہور)
واللہ ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
محمد نعمان خواجگی
4 محرم الحرام 1447ھ بمطابق 30 جون 2025ء
نظرثانی و ترمیم:
مفتی محمد انس رضا قادری