وتر کی تکبیر قنوت میں ہاتھ اٹھانا واجب یا سنت؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ وتر کی نماز میں تکبیر قنوت کے وقت ہاتھ اٹھانا واجب ہے یا سنت ؟اور اس کو ترک کرنے کی صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟نیز اگر کوئی شخص لوگوں کے سامنے وتر کی نماز قضاء پڑھ رہا ہو تو کیا اسے ہاتھ نہ اٹھانے کی رخصت ہے؟ شرعی رہنمائی فرمادیجیے.
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ نماز وتر میں تکبیر قنوت کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا واجب نہیں بلکہ سنت موکدہ ہے اور اس کو ترک کرنے کی صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا کیونکہ سنت موکدہ کو ترک کرنے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔ البتہ اگر اس نے بھولے سے تکبیر قنوت چھوڑ دی تو سجدہ سہو واجب ہوگا٬ کیونکہ تکبیر قنوت واجب ہے اور واجب اگر بھولے سے رہ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے اور اگر اس نے جان بوجھ کر تکبیر قنوت ترک کی تو نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ اگر وہ شخص لوگوں کے سامنے وتر کی نماز قضاء پڑھ رہا ہے تو تکبیر قنوت کے وقت ہاتھ نہیں اٹھائے گا تاکہ لوگ اس کی نماز قضاء کرنے والی تقصیر (کوتاہی) پر مطلع نہ ہوں لیکن اگر اس کے آس پاس کوئی بھی نہ ہو تو وہ تکبیر قنوت کے وقت ہاتھوں کو اٹھائے گا۔
الدرالمختار علی تنویر الابصار میں ہے:
”( ولا يسن ) مؤكداً ( رفع يديه إلا في ) سبع مواطن كما ورد۔۔۔۔ثلاثة في الصلاة ( تكبيرة افتتاح وقنوت وعيد) “
ترجمہ: رفع یدین کرنا سات مواقع پر سنتِ مؤکدہ ہے جیسا کہ روایت میں بیان ہوا۔۔۔۔ان میں سے تین مواقع نماز میں ہیں:تکبیرِ تحریمہ، تکیبرِ قنوت اور تکبیراتِ عیدین کے وقت۔ (ردالمحتار مع الدر المختار، کتاب الصلوۃ، جلد 2، صفحہ 263-262، مطبوعہ کوئٹہ، ملخصا)
رد المحتار على الدر المختار” میں علامہ شامی علیہ الرحمۃ تکبیر قنوت کے وقت ہاتھوں کو اٹھانے کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
”قوله رافعا يديه: أي سنة إلى حذاء أذنيه كتكبيرة الإحرام، وهذا كما في الإمداد عن مجمع الروايات لو في الوقت“
ترجمہ:صاحب در مختار کا قول”رافعاً یدیه”(اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے)یعنی سنت ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کی طرح(تکبیر قنوت کے وقت) کانوں کے برابر تک ہاتھ اٹھائے، جیسا کہ ‘الإمداد’ میں ‘مجمع الروایات’ کے حوالے سے ہے،یہ حکم اس وقت ہے جب (نماز) وقت کے اندر پڑھی جارہی ہو۔(ردالمحتار علی الدرالمختار٬ کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل ٬ جلد 2 ٬صفحہ 6 ٬ مطبوعہ ایج ایم سعید)
علامہ شیخ ابراہیم حلبی علیہ الرحمۃ غنیۃ المستملی میں ارشاد فرماتے ہیں:
”لا يجب بترك السنن والمستحبات كالتعوذ والتسمية والثناء والتامين“
ترجمہ: سنن و مستحبات جیسے تعوذ، تسمیہ، ثناء اور آمین کے چھوڑ دینے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔(غنیۃ المستملی، کتاب الصلوۃ ٬صفحہ 455 ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور)
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ترکِ سنت سے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:
”نماز ہوگئی اور سجدہ سہو کی اصلاً حاجت نہیں۔“(فتاوی رضویہ ، جلد 8، صفحہ 216، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”ولو ترك التكبيرة التي بعد القراءة قبل القنوت سجد للسهو“
ترجمہ:اور اگر اس شخص نے(دعاء) قنوت سے پہلے قراءت کے بعد کی تکبیرقنوت چھوڑ دی تو وہ سجدۂ سہو کرے گا۔(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلوۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، جلد 1 ، صفحہ 128 ٬ مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے:
”قنوت یا تکبیر قنوت یعنی قراء ت کے بعد قنوت کے ليے جو تکبیر کہی جاتی ہے بھول گیا سجدۂ سہو کرے۔“(بہارشریعت، سجدہ سہو کا بیان٬ جلد 1، صفحہ 719، حصہ 4 ٬مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )
صدرالشریعۃ مفتی امجد علی اعظمی بہار شریعت میں مزید ارشاد فرماتے ہیں:
”قصداً واجب ترک کیا تو سجدۂ سہو سے وہ نقصان دفع نہ ہو گا بلکہ اعادہ واجب ہے۔ یوہیں اگر سہواً واجب ترک ہوا اور سجدۂ سہو نہ کیا جب بھی اعادہ واجب ہے۔“(بہار شریعت ٬ سجدہ سہو کا بیان ٬ جلد 1 ٬ حصہ 4 ٬صفحہ 713 ٬ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
رد المحتار على الدر المختار” میں ہے:
”أما في القضاء عند الناس فلا يرفع حتى لا يطلع أحد على تقصيره“
ترجمہ:بہر حال قضاء نماز میں تو وہ(نمازی) لوگوں کے پاس ہاتھ نہیں اٹھائے گا تاکہ کوئی اس کی تقصیر (نماز چھوڑنے والی کوتاہی) پر مطلع نہ ہو ۔(ردالمحتار علی الدرالمختار٬ کتاب الصلوة، باب الوتر والنوافل ٬ جلد 2 ٬صفحہ 6 ٬ مطبوعہ ایج ایم سعید)
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح”میں ہے:
”وإذا فرغ من قراءة السورة فيها أي الركعة الثالثة رفع يديه حذاء أذنيه كما قدمناه إلا إذا قضاه حتى لا يرى تهاونه فيه برفعه يديه عند من يراه.قوله: إلا إذا قضاه: أي عند الناس بدليل ما بعده، قوله: برفعه:متعلق بيرى، قوله: عند من يراه أي سواء كان في مسجد أم في غيره وإذا لم يكن أحد عنده يرفع“
ترجمہ:اور جب وہ نمازی تیسری رکعت میں سورت پڑھ چکے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھائے، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے، مگر اس صورت میں نہ اٹھائے جب وہ (نماز) قضاء کر رہا ہو، تاکہ دیکھنے والے کو نماز کے معاملے میں اس شخص کی سستی کا گمان نہ ہو۔
مصنف کا قول: ‘إلا إذا قضاه’ یعنی لوگوں کے سامنےقضاء نماز پڑھ رہا ہو اس کی دلیل بعد کے الفاظ ہیں
مصنف کا قول: ‘برفعه’ یعنی ہاتھ اٹھانے کا تعلق ‘يرى’ (گمان کرے) کے ساتھ ہے۔
مصنف کا قول: ‘عند من يراه’ یعنی خواہ مسجد میں ہو یا مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ، اور جب اس کے آس پاس کوئی نہ ہو تو وہ(تکبیر قنوت کے وقت)ہاتھ اٹھائے۔”(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح ، کتاب الصلاة، باب الوتر وأحكامه، صفحہ 375 ٬مطبوعہ دار الکتب العلمیة بیروت لبنان)
بہار شریعت میں وتر کے بیان میں ہے:
“البتہ قضا میں تکبیر قنوت کے ليے ہاتھ نہ اٹھائے جب کہ لوگوں کے سامنے پڑھتا ہو کہ لوگ اس کی تقصیر پر مطلع ہوں گے۔“(بہارشریعت ، وتر کا بیان ٬جلد 1، صفحہ 663 ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
محمد عرفان مدنی قصوری
ممبر فقہ کورس رولنمبر 157
19 ذوالحج 1446ھ بمطابق 16 جون 2025
نظرثانی:
مفتی محمدا نس رضا قادری