غیر مسلم والدین کے لیے دعائے مغفرت
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید مسلمان ہے جبکہ اس کے والدین کافر تھے اور وہ کفر پر ہی مرے ،تو کیا زید اپنے کافر والدین کے لیے مغرت کی دعا کرسکتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ زید اپنے کافر والدین کے لیے دعائے مغفرت نہیں کرسکتا، کیونکہ جب کافر مرجائے تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کفر ہے، البتہ کافر زندہ ہو تو اس کے لیے ہدایت کی دعا کی جا سکتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ پاک ارشادفرماتا ہے:
”اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللہُُ لَهُمْ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اللہُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ“
ترجمہ کنزالایمان: تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا ۔
ردالمحتار میں ہے:
”انَّ الدُّعَاءَ بِالْمَغْفِرَةِ لِلْكَافِرِ كُفْرٌ لِطَلَبِهِ تَكْذِيبَ اللہِ تَعَالَى فِيمَا أَخْبَرَ بِهِ“
ترجمہ: بے شک کافر کے لیے دعائے مغفرت کرنا کفر ہے، کہ اﷲ عزوجل نے جو خبر دی وہ اس کی تکذیب چاہتا ہے ۔(رد المحتار، مطلب في الدعاء المحرم ، جلد 1،ص 522، مطبوعہ مصطفی البابی،مصر)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”کافر کے لیے دعائے مغفرت و فاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیبِ قرآن عظیم ہے۔“(فتاوی رضویہ جلد 21،ص228،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
بہارشریعت میں ہے:
”جو کسی کافر کے لیے اُس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یا کسی مردہ مُرتد کو مرحوم یا مغفور، یا کسی مُردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی کہے، وہ خود کافر ہے۔“(بہار شریعت جلد 1، حصہ 1، ص 185، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حدیث پاک میں ہے رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ دوس والے کفار کے لیے یوں دعا فرمائی:
” اللّٰهم اهد دوسا وأت بهم“
اے اللہ قبیلہ دوس کو ہدایت عطافرما اور ان کو میرے پاس بھیج دے۔صحیح البخاری، جلد 3، ص1073، رقم الحدیث 2779، مطبوعہ دار ابن کثیرم دمشق)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”ولا يدعو للذمي بالمغفرة ولو دعا له بالهدى جاز “
ترجمہ:مسلمان ذمی کافر کے لیےدعائے مغفرت نہ کرے اور اگر کسی مسلمان نے ذمی کافر کے لیے ہدایت کی دعا کی تو یہ جائز ہے۔(فتاوی ہندیہ ، جلد5، ص 348، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”کافر کے لیے مغفرت کی دعا ہرگز ہرگز نہ کرے، ہدایت کی دعا کرسکتا ہے۔“(بہار شریعت جلد 3، حصہ 16، ص 658، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس (الرضا قرآن وفقہ اکیڈمی)
16ذیقعدہ1446ھ بمطابق 15 مئی 2025ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری