غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دینا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کہا جاتا ہے کہ غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دینا جائز ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ قربانی کا گوشت تقسیم کرنا یہ ایک نفلی صدقہ ہے لہذاغیر مسلم کو بھی دیا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمیں قرآن و احادیث میں مطلقا پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے لہذا اگرغیر مسلم پڑوسی یا رشتہ دار ہو تو ان کو قربانی کا گوشت دینے سے حسن سلوک کا ثواب ملنے کی امید ہے۔ کیا یہ بات درست ہے ؟شرعی رہنمائی فرما دیجئے نیز یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اگر غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دے دیا تو قربانی کا کیا حکم ہوگا ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ اس کا گوشت تقسیم کرنا نفلی عبادت اور احسان ہے جوکہ غرباء و مساکین اور مالدار مسلمانوں کو دینا جائز اور ثواب ہے۔کتب فقہ میں ذمی کافر(وہ کافر جو مسلمانوں کے ملک میں رہنے کا ٹیکس حکومتِ اسلام کو ادا کرے) کو دینا جائزلکھا ہے جبکہ فی زمانہ ذمی کافر موجود نہیں ہیں بلکہ سارے کافر حربی ہیں۔ لہذا ان (کفار) کو قربانی کا گوشت دینامنع ہے۔ کیونکہ قرآن و احادیث اور فقہی کتابوں میں صراحتاً حربی کفار کے ساتھ احسان وغیرہ کرنے سے منع کیا گیا ہے اور حدیث پاک میں غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دینے سے منع کیا گیا ہے۔
اگر کسی نے قربانی کا گوشت کافر کو دے دیا تو اس پر دوبارہ قربانی کرنا واجب نہیں ہوگا۔لیکن فقیر نے اگر قربانی کی ہوگی تو اتنی رقم صدقہ کرنا ضروری ہوگی۔
اگر کافر کو قربانی کا گوشت دینے کی ضرورت ہو مثلا گھر میں کام کاج کرنے والے نوکروں یا ہمسائے کو دینا پڑتا ہے توبہتر ہے وہ گوشت جو کسی اور کی طرف سے آیا ہے وہ بطور احسان نہیں بلکہ اسلام کی طرف مائل کرنے کی نیت سے کافر کو دیا جا سکتا ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
”فيندب إشراك الكل فيها ويطعم الفقير والغني جميعا لكون الكل أضياف الله تعالى عز شأنه في هذه الأيام وله أن يهبه منهما جميعا…….وأما) التصدق باللحم فتطوع“
ترجمہ:پس مستحب ہے کہ سب کو (قربانی کے گوشت میں) شریک کرے اور فقیر و امیر دونوں کو کھلائےکیونکہ ان دنوں میں سب اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں۔ اور اسے اجازت ہے کہ ان دونوں (فقیر و امیر) کو (قربانی کا گوشت) ہبہ کرے (یعنی تحفہ دے)۔…..بہرحال قربانی کے گوشت کا صدقہ کرنا، تو وہ نفل (یعنی نفلی عبادت) ہے۔(بدائع الصنائع ٬کتاب الاضحیہ، فصل فی بیان ما یستحب قبل التضحیۃ و بعدھا و ما یکرہ ، جلد نمبر 5 ٬ صفحہ نمبر 81، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية“
ترجمہ:اور وہ (قربانی کے گوشت) میں سے جو چاہے ہبہ (تحفہ) کر سکتا ہے، چاہے غنی (مالدار) ہو یا فقیر، مسلمان ہو یا ذمی (ان سب کو گوشت دے سکتا ہے )، ایسا ہی غیاثیہ میں ہے۔(فتاوی ھندیہ ٬ کتاب الاضحیۃ٬ باب بیان محل اقامۃ الواجب٬ جلد 5 ٬مطبوعہ کتب خانہ کراچی)
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
”لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَOاِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚوَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ“
ترجمہ:اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں ۔اللہ تعالی تمہیں ان سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ستمگار ہیں ۔(سورہ ممتحنہ ٬پارہ 28 ٬ آیت نمبر 8 ٬ 9)
ان دو آیات مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے ملا جیون علیہ الرحمۃ تفسیرات احمدیہ میں فرماتے ہیں:
”ھاتان الآیتان الاولیٰ فی جواز الاحسان الی الذمی والثانیۃ فی عدمہ الی الحربی……..والحاصل ان الایۃ الاولی ان کانت فی الذمی والثانیۃ فی الحربی کما ھو الظاھر وعلیہ الاکثرون کان دالا علی جواز الاحسان الی الذمی دون الحربی، ولھذا تمسک صاحب الھدایۃ فی باب الوصیۃ ان الوصیۃ للذمی جائزۃ دون الحربی لانہ نوع احسان و لھذا المعنی قال فی باب الزکوٰۃ ان الصدقۃ النافلۃ یجوز اعطاءھا للذمی دون الحربی“
ترجمہ: ان دونوں آیتوں میں پہلی آیت ذمی سے احسان کے جوازکے سلسلے میں ہے اوردوسری آیت حربی سے احسان کے عدم جوازکے بارے میں ہے……. حاصل(خلاصہ کلام)یہ ہے کہ پہلی آیت( جس میں نیک سلوک کی رخصت ہے)اگرذمی کے حق میں مانی جائے اوردوسری آیت (جس میں احسان وغیرہ کی ممانعت ہے)حربی کے حق میں مانی جائے۔جیساکہ یہی ظاہر ہے اور یہی اکثر ائمہ کامذہب ہے تو یہ آیتیں دلیل ہوں گی کہ ذمی کے ساتھ نیک سلوک جائز ہے۔حربی کے لئے نہیں ، اوراسی لئے صاحب ہدایہ نے وصیت کے باب میں انھیں آیتوں سے استدلال کرتے ہوئے ذمی کے لئے وصیت کوجائز قراردیا حربی کے لئے نہیں ۔کیوں کہ وصیت ایک طرح کااحسان ہے اور اس معنی کے لیے باب الزکوٰۃ میں فرمایا کہ نفلی صدقہ ذمی کودینا جائزہے حربی کونہیں ۔(تفسیرات احمدیہ، سورہ ممتحنہ آیت نمبر 8٬9 ٬ پارہ 28 ٬ صفحہ 699 تا 700 ٬ مطبوعہ پشاور)
شعب الایمان میں حدیث شریف ہے:
’’قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم الجیران ثلاثۃ: فمنہم من لہ ثلاثۃ حقوق، ومنہم من لہ حقان، ومنہم من لہ حق، فأما الذی لہ ثلاثۃ حقوق فالجار المسلم القریب لہ حق الجار , وحق الإسلام، وحق القرابۃ، وأما الذی لہ حقان فالجار المسلم لہ حق الجوار، وحق الإسلام، وأما الذی لہ حق واحد فالجار الکافر لہ حق الجوار ” قلنا: یا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نطعمہم من نسکنا، قال: ” لا تطعموا المشرکین شیئا من النسک‘‘
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑوسی تین طرح کے ہیں ۔ ان میں سے ایک وہ جن کے تین حقوق ہیں اوران میں وہ کہ جن کے لئے دوحق ہیں اوران میں کچھ وہ کہ جن کا ایک حق ہے۔مسلمان اہل قرابت میں سے ہے تواس کے تین حقوق ہیں پڑوسی کاحق ،اسلامی حق اورحق قرابت۔اورغیرقریبی ہے تودوحق ہیں پڑوسی ہونے کاحق اوراسلامی حق۔اورپڑوسی کافرکاایک حق ہے پڑوسی ہونے کاحق۔ صحابہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیاہم اپنی قربانی میں سے انہیں (کفار) کو کچھ کھلاسکتے ہیں؟ حضور علیہ السلام نے فرمایامشرکین کوقربانی میں سے کچھ مت کھلاؤ۔(شعب الایمان للبیہقی، باب فی اکرام الجار٬ جلد 12 ٬ صفحہ 105 ٬ مطبوعہ مکتبۃ الرشد ناشرون)
علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمہ اللہ تعالٰی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
”وقول اللّٰہ تعالی(لا ینہاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم أن تبروہم وتقسطوا إلیہم إن اللہ یحب المقسطین)والمراد من ذکر الآیۃ بیان من تجوز لہ الہدیۃ من المشرکین، ومن لا تجوز، ولیس حکم الہدیۃ إلیہم علی الإطلاق… ولا یجوز الإہداء للمشرکین إلا للأبوین خاصۃ، لأن الہدیۃ فیہا تأنیس للمہدی إلیہ، وألطاف لہ، وتثبیت لمودتہ، وقد نہی اللّٰہ تعالی عن التودد للمشرکین بقولہ:(لا تجد قوما یؤمنون باللہ والیوم الآخر یُوَادّون من حاد اللّٰہ ورسولہ)الآیۃ، وقولہ تعالی: (یا أیہا الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم أولیاء تلقون إلیہم بالمودۃ)“
ترجمہ: اور اللہ تعالٰی کا فرمان “اللہ پاک تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو۔بے شک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں۔
اس آیت کوذکرکرنے سے ان مشرکین کابیان مرادہے جنہیں ہدیہ دینا جائزہے اور وہ جنہیں ہدیہ دینا جائز نہیں اور ہدیہ دینے کاحکم انہیں مطلقاًنہیں دیا گیا……اور خاص طور پر والدین کے علاوہ مشرکین (میں سے کسی ایک)کو ہدیہ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ ان (کفار) کو دینے میں ان سے انسیت ،ان پرمہربانی اوران کے ساتھ محبت ثابت ہورہی ہے حالانکہ اللہ پاک نے مشرکین سے محبت کرنے سے منع فرمایاہے۔اپنے اس فرمان کے ذریعہ : تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی۔اوراس فرمان سے:
’’اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم انہیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے۔‘‘(عمدۃ القاری شرح بخاری، کتاب الھبۃ ، باب الھدیۃ للمشرکین، جلد 13 ٬ صفحہ 173 ٬ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
”لایجوز صرف الکفارۃ والنذر وصدقۃ الفطر والاضحیۃ الی الحربی“
ترجمہ :کفارہ ،نذر، صدقۂ فطر اورقربانی کاگوشت حربی کافر کو دیناجائز نہیں ہے۔(بدائع الصنائع، جلد7، صفحہ 341، دارالکتب العلمیۃ،بیروت لبنان)
البحرالرائق میں ہے:
”قید بالذمی؛ لأن جمیع الصدقات فرضا کانت أو واجبۃ أوتطوعا لا تجوز للحربی اتفاقا کما فی غایۃ البیان لقولہ تعالیٰ:اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚوَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ“
ترجمہ: حکم کو مقید کیا گیا ذمی کے ساتھ اس لئے کہ تمام صدقات فرض ہوں یاواجب یانفل حربی کافر کے لئے بالاتفاق جائزنہیں ہیں جیسا کہ”غایۃ البیان” میں ایسے ہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان “اللہ تمہیں ان سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ستمگار ہیں” کی وجہ سے۔(البحرالرائق ٬ کتاب الزکوۃ ٬ باب المصرف ٬ جلد 2 ٬ صفحہ 424،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
درمختار میں ہے:
”وأما الحربی ولو مستأمنا فجمیع الصدقات لا تجوز لہ اتفاقا“
ترجمہ:اور بہر حال حربی کافر اگرچہ مستامن ہو تو بالاتفاق اس(کافر) کو تمام صدقات دینا جائز نہیں ہے۔(درمختار ٬ کتاب الزکوۃ٬ جلد3 ٬ صفحہ 353 ٬ مطبوعہ کوئٹہ)
ردالمحتار علی الدرالمختار میں علامہ شامی فرماتے ہیں:
’’أجمعوا أنہ إذا ظہر أنہ حربی ولو مستأمنا لا یجوز وکذا فی المعراج معللا بأن صلتہ لا تکون برا شرعا ولذا لم یجز التطوع إلیہ فلم یقع قربۃ‘‘
ترجمہ: اس بات پراجماع ہے کہ جب ظاہرہوجائے کہ یہ حربی ہے اگرچہ مستامن ہوتواسے صدقہ دیناجائزنہیں ہے اورایساہی معراج الدرایہ میں ہے اس کی تعلیل یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کے ساتھ صلہ رحمی شرعاًنیکی نہیں ہے اوراسی لئے اس کونفل صدقہ بھی جائزنہیں ہے کہ اس سے قربت واقع(ثواب) نہیں ہوگی۔(ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوۃ٬باب مصرف الزکاۃ٬ مطلب فی الحوائج الاصلیۃ٬جلد 3 صفحہ 354 ٬مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
’’ لاباس بان یصل الرجل المسلم المشرک قریبا کان اوبعیدا محاربا کان اوذمیا و اراد بالحارب المستامن واما اذا کان غیر المستامن فلاینبغی للمسلم ان یصلہ بشیء کذا فی المحیط“
ترجمہ:کوئی حرج نہیں کہ مسلمان آدمی”مشرک” سے صلہ رحمی کرے خواہ (مشرک کافر)رشتہ دار ہو یا اجنبی، حربی ہو یا ذمی۔اورحربی سے مراد مستامن( جسے وقتی طور پر امان دی گئی ہو) ہے۔ اگرغیرمستامن ہو تو مسلمان کوجائز نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی نیک سلوک کرے، ایسا ہی محیط میں ہے۔(فتاوی ہندیہ ،کتاب الکراہیۃ، باب اھل الذمۃ والاحکام..٬ جلد 5 ٬صفحہ 426 ٬ مطبوعہ کتب خانہ کراچی)
فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ گوشت کا تیسرا حصہ مساکین کا ہے ٬ مساکین لوگ اگر اسلام میں سے نہیں تو اس حصہ کا کیا حکم ہے تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا :
”یہاں اگر مسلمان مسکین نہ ملیں تو کافر کو اصلا نہ دے کہ یہ کفار ذمی نہیں تو ان کو دینا قربانی ہو خواہ صدقہ، اصلا کچھ ثواب نہیں رکھتا۔“(فتاوی رضویہ ٬کتاب الذبائح ٬جلد 20 صفحہ 253 ٬ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مزید ایک اور مقام پر اعلی حضرت فرماتے ہیں:
”یہاں کے کافروں کو (قربانی کا ) گوشت دینا جائز نہیں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے ۔“(فتاوی رضویہ ، جلد 20، صفحہ 457، رضا فاؤنڈیشن ، لاہور )
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ فتاوی فیض الرسول میں فرماتے ہیں:
”قربانی کاگوشت کافر کو دینا شرعاًجائز نہیں اورکسی نے دے دیا،تو گنہگار ہے، توبہ کرے اور قربانی ہوجائے گی یعنی کافرکو گوشت دینے کے سبب قربانی کا اعادہ کرنا واجب نہیں۔“(فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ457، مطبوعہ شبیر برادرز لاھور)
سیدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نےفرمایا:
’’قربانی اگر فقیر نے کی ہو اس کا گوشت کسی کافر کو دینا جائز نہیں، اگر دے گا تو اتنے گوشت کا تاوان دینا لازم ہوگا اور اگر غنی نے کی تو ذبح کرنے سے اس کا واجب ادا ہوگیا، گوشت کا اسے اختیارہے مگر مستحب یہ ہے کہ اگر اس کے تین حصے کرلے، ایک حصہ اپنے لئے، ایک عزیزوں خویشوں کے لئے، ایک تصدق کے لئے، یہاں کے کفار کو دینا ان تینوں مدوں سے خارج ہے۔ ۔۔ اپنے مسلمان بھائی کو چھوڑ کر دینا حماقت ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد20،صفحہ456،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
جامع ترمذی میں حدیث پاک ہے:
” عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ “
ترجمہ:حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےغزوہ حنین کے روز مجھے(تحفہ) دیا، آپ مجھے (فتح مکہ سے قبل) تمام مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض تھے، اور برابر آپ مجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوگئے۔ (جامع ترمذی، کتاب الزکوة ، باب ما جاء في إعطاء المؤلفة قلوبهم ، صفحہ 190، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
’’فاقول سلوک مالی تین طرح ہیں:مرحمت، مکرمت، مکیدت۔اول یہ کہ محض اسے نفع دینا ،خیر پہنچانا مقصود ہو یہ مستامن معاہد کے لئے بھی حرام ہے، امان و معاہد وکفِ ضرر کے لئے ہے نہ کہ اعداء اللہ کو بالقصد ایصال خیر کے واسطے۔دوم یہ کہ اپنی ذاتی مصلحت مثل مکافات احسان ولحاظ رحم کے لئے کچھ مالی سلوک، یہ معاہد سے جائز نامعاہد سے ممنوع۔سوم یہ کہ مصلحت اسلام ومسلمین کےلئے محاربانہ چال ہو، یہ حربی محارب کے واسطے بھی جائز کہ حقیقت بروصلہ سے اسے علاقہ نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ ،جلد 14،صفحہ 465، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
مولانامحمد عرفان مدنی قصوری
28 ذیقعدہ 1446ھ بمطابق 26 مئی2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضاقادری