قربانی کے جانور سے نفع حاصل کرنا

قربانی کے جانور سے نفع حاصل کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قربانی کی نیت سے خریدے گئے جانور سے نفع حاصل کرنا جائز ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

بیان کی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ جو جانور قربانی کی نیت سے خریدا گیا ہو وہ جانور اپنے تمام اجزائے اضحیہ کے ساتھ قربت (نیکی) کے لئے متعین ہو چکا ہے لہذا قربانی سے پہلے اس سے کسی بھی قسم کا نفع حاصل کرنا مثلا قربانی کے جانور کی اون کاٹنا،اس کا دودھ دوہنا،سواری کرنا،یا کوئی چیز لادنا یہ سب کام مکروہ وممنوع ہیں۔البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جانور سے نفع حاصل کرنے کی صورت میں اگر جانور میں کچھ کمی آگئی تو جتنی کمی ہوئی اتنی مقدار میں رقم صدقہ کردے۔

ھدایہ میں ہے :

”ویکرہ ان یجز صوف اضحیتہ وینتفع بہ قبل ان یذبحھا،لانہ التزم اقامة القربتہ بجمیع اجزائھا بخلاف مابعد الذبح لانہ اقیمت القربتہ بھا کما فی الھدی ،ویکرہ ان یحلب لبنا فینتفع بہ کما فی الصوف“

ترجمہ : ذبح کرنے سے پہلے قربانی کے جانور کا اون کاٹنا اور اس سے فائدہ حاصل کرنا مکروہ ہے، اس لیے کہ قربانی کرنے والے نے قربانی کے جانور کے تمام اجزاء کے ساتھ قربت(نیکی) کی ادائیگی کا التزام کیا ہے۔ برخلاف ذبح کرنے کے بعد،اس لیے کہ اب تو قربت کی ادائیگی ہوگئی جیسا کہ ہدی کے جانور میں ہوتا ہے۔ قربانی کے جانور کا دودھ نکال کر نفع حاصل کرنا بھی مکروہ ہے جس طرح کے اون کاٹنا مکروہ ہے۔(ھدایہ،کتاب الاضحیہ،ج4،ص451 ،مطبوعہ لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے :

”قربانی میں اصل کار ثواب اللہ کے لیے خون کا بہانہ ہے اسی لیے جب تک جانور سے یہ اصل غرض حاصل نہیں ہوتی اس سے ہر قسم کا انتفاع مطلقا منع ہے حد یہ ہے کہ اون اور دودھ سے بھی انتفاع جائز نہیں نہ قربانی کرنے والے کو نہ غیر کو اور جب اصل غرض حاصل ہو گئی تو اس کے تمام اجزاء سے ہر قسم کا انتفاع جائز ہو گیا۔“( فتاوی رضویہ،ج20،ص512،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ردالمحتار میں ہے :

”اما اذا رکبھا او حمل علیھا تصدق بما نقصتہ کما فی الخلاصۃ“

ترجمہ : جب اس نے اس پر سواری کر لی یا اس پر کوئی چیز لادی، تو جانور میں جو کمی آئی اتنی مقدار صدقہ کرے جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔(ردالمحتار، ج9،ص544،مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے :

”ذبح سے پہلے قربانی کے جانور کے بال اپنے کسی کام کے لیے کاٹ لینا یا اوس کا دودھ دوہنا مکروہ وممنوع ہے اور قربانی کے جانور پر سوار ہونا یا اوس پر کوئی چیز لادنا یا اوس کو اُجرت پر دینا غرض اوس سے منافع حاصل کرنا منع ہے۔اگر اوس نے اون کاٹ لی یا دودھ دوہ لیا، تو اوسے صدقہ کردے اور اجرت پر جانور کو دیا ، تو اجرت کو صدقہ کرے اور اگر خود سوار ہوا یا اس پر کوئی چیز لادی ،تو اس کی وجہ سے جانور میں جو کچھ کمی آئی ،اوتنی مقدار میں صدقہ کرے۔“(بہارشریعت ،ج3، ص347، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ

مولانا محمد نعمان خواجگی

14 ذوالقعدہ 1446ھ بمطابق 12 مئی 2025ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں