جب سونا ساڑھے سات تولے سے زیادہ ہو تو زکوۃ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کے پاس دس تولے سونا ہے تو کیا دس تولے سونے پر زکوۃ ہوگی یا صرف نصاب پر یعنی ساڑھے سات تولے سونا پر ؟ ( سائل : عمیر بھائی )
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب
پوچھی گئی صورت میں عورت کےفقط نو (09) تولہ سونے پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
جب کسی کے پاس سونا نصاب (یعنی ساڑھے سات تولہ) سے زیادہ ہو تو دیکھا جاتا ہے کہ نصاب کے پانچویں حصے سے زائد مال موجود ہے یا نہیں۔ اگر زائد مال نصاب کے پانچویں حصے سے زیادہ ہو تو اس اضافے پر بھی نصاب کے ساتھ زکوٰۃ واجب ہوگی۔جیسا کہ سوال میں بیان کیا گیا ہے، عورت کے پاس دس تولہ سونا ہے، جس میں ساڑھے سات تولے سونا نصاب اور باقی اڑھائی (2.5) تولے سونا زائد ہے۔اب نصاب (ساڑھے سات تولے) کا پانچواں حصہ تقریباً ڈیڑھ تولہ بنتا ہے۔ اگر ساڑھے سات تولے میں ڈیڑھ تولہ (پانچواں حصہ) جمع کر دیں تو نو تولے بنتے ہیں۔ اس اعتبار سے نو تولے پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔جبکہ باقی ایک تولہ بچ جاتا ہے، اور چونکہ وہ نصاب کے پانچویں حصے (ڈیڑھ تولہ) کے برابر نہیں بنتا، اس لیے اس ایک تولہ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی جبکہ اس کے ساتھ مزید کوئی چاندی وغیرہ نہ ہو۔
کنز الدقائق میں ہے:
”تجب في مائتي درهم وعشرين ديناراً ربع العشر ولو تبراً، أو حلياً، أو آنية،ثم في كل خمس بحساب يجب (في كل خمس) بضم المعجمة أحد الأجزاء الخمسة وهو أربعون درهماً وأربعة مثاقيل“
ترجمہ:دو سو درہم (یعنی 52.5 تولہ چاندی) اور بیس دینار (یعنی 7.5 تولہ سونا) میں چالیسواں حصہ (2.5٪) بطورِ زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ چاہے وہ سونا و چاندی بطور دھات ہو، زیور کی صورت میں ہو یا برتن کی شکل میں۔اس کے بعد ہر پانچویں حصے میں بھی اسی تناسب سے زکوٰۃ واجب ہو گی۔یعنی، دو سو درہم کا پانچواں حصہ چالیس درہم (تقریباً 10.5 تولہ چاندی) اور بیس دینار کا پانچواں حصہ چار مثقال (تقریباً 1.5 تولہ سونا) بنتا ہے۔ ( کنز الدقائق ، ص 209، دار السراج)
موسوعۃ فقہیہ کویتیہ میں ہے :
”وذهب أبو حنيفة إلى أن الزائد على النصاب عفو لا شيء فيه حتى يبلغ خمس نصاب“
ترجمہ:امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ نصاب سے زائد مال اُس وقت تک زکوٰۃ کی ادائیگی میں شامل نہیں ہوتا ہے، جب تک وہ مقدار، نصاب کے پانچویں حصے تک نہ پہنچ جائے۔(موسوعۃ فقہیہ کویتیہ، جلد 23 ، صفحہ نمبر : 266، دار السلاسل ، کویت )
رد المحتار میں ہے :
”ما زاد علی النصاب عفوا الی ان یبلغ خمس نصاب ثم کل ما زاد علی الخمس الی ان یبلغ خمسا آخر “
یعنی نصاب سے جو مال زائد ہو ، یہاں تک وہ نصاب کے پانچویں حصہ کو پہنچ جائیں پھر پانچویں حصے سے جو زائد ہے اسے چھوٹ ہے یہاں تک وہ دوسروں پانچویں حصے تک پہنچ جائے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، جلد03 ، صفحہ نمبر : 272 ، دار المعرفة بیروت )
بہارِ شریعت میں ہے :
”نصاب سے زیادہ مال ہے تو اگر یہ زیادتی نصاب کا پانچواں حصہ ہے تو ا س کی زکاۃ بھی واجب ہے ؛ یوہیں پانچویں حصہ کے بعد جو زیادتی ہے، اگر وہ بھی پانچواں حصہ ہے تو اُس کا چالیسواں حصہ واجب ورنہ معاف وعلیٰ ہذا القیاس۔ “(بہار شریعت ، جلد1 ، صفحہ نمبر : 910 ، مکتبة المدینہ کراچی )
و اللہ اعلم و رسولہ اعلم بالصواب ﷺ
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــہ
ابو اجمل فیصل مدنی
18 اپریل 2025 ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری