سفر وغیرہ کے سبب مثل اول پر عصر کی نماز پڑھنا
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر گاڑی میں سفر کرنا ہو اور معلوم ہو کہ گاڑی عصر کے وقت میں نہیں رکے گی اور جماعت و نماز قضا ہو جائے گی تو کیا اس صورت میں صاحبین(امام یوسف و امام محمد رحمہما اللہ)کے فتوی پر عمل کرتے ہوئے مثل اول کے بعد عصر پڑھ کر سفر شروع کر سکتے ہیں؟ کیا صاحبین کے موقف کو بھی فقہائے کرام نے ترجیح دی ہے؟بینوا توجروا۔بیان فرما کر اجر پائیے۔
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
اولا یہ بات ذہن نشین فرما لیجیے کہ فقہ حنفی میں عصر کا وقت تب شروع ہوتا ہےجب ہر چیز کا سایہ، سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل ہوجائے،یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔ صاحبین(امام یوسف و امام محمد رحمہما اللہ) کے نزدیک جب ہر چیز کا سایہ، سایہ اصلی کے علاوہ ایک مثل ہوجائے تو ظہر وقت ختم ہو جاتا ہے، اور عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
اس مسئلہ میں صحیح، معتمد، راجح و مفتی بہ قول امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، لہذا عام حالات میں اسی قول امام پر ہی عمل کیا جائے گا، بغیر کسی ضرورت کے اس قول سے عدول نہ کیا جائے؛ اس لیے کہ جمہور مشایخِ مذہب نے اسی مؤقف کی تصحیح وترجیح بیان کی ہے اور عمل اسی پر چاہیے جس طرف اکثر مشایخ ہوں۔ البتہ ضرورت ہوجیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا کہ بعد میں جماعت نہ ملے گی یا پھر نماز ہی قضا ہو جائے گی، تو اس صورت میں قول صاحبین پر عمل کرنے کی گنجائش موجود ہے، اس لیے کہ قول صاحبین پر بھی فقہاء احناف نے فتوی دیا ہے، اس لیے ضرورت کے تحت اس قول پر عمل کرنے کی صورت میں فرض ادا بھی ہوجائے گا۔ اگر مثل ثانی کے بعد جماعت ملنا ممکن ہو اگرچہ ایک ہی شخص کے ساتھ تو مثل ثانی میں ایک شخص کے ساتھ مثل ثانی میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھے اور اگر بالکل جماعت فوت ہو جائے گی، تو پھر قول صاحبین پر عمل کرتے ہوئے جماعت میں شامل ہو جائے پھر تحصیل صحت متفق علیہا اور رفع کراہت کیلئے مثل ثانی کے بعد پھر اکیلے عصر ادا کرے۔
بخاری شریف کی حدیث پاک ہے
’’حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَثَلُکُمْ وَمَثَلُ أَہْلِ الکِتَابَیْنِ، کَمَثَلِ رَجُلٍ اِسْتَأْجَرَ أُجَرَاء َ، فَقَالَ:مَنْ یَعْمَلُ لِی مِنْ غُدْوَۃَ إِلَی نِصْفِ النَّہَارِ عَلَی قِیرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الیَہُودُ، ثُمَّ قَالَ:مَنْ یَعْمَلُ لِی مِنْ نِصْفِ النَّہَارِ إِلَی صَلاَۃِ العَصْرِ عَلَی قِیرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارَی، ثُمَّ قَالَ:مَنْ یَعْمَلُ لِی مِنَ العَصْرِ إِلَی أَنْ تَغِیبَ الشَّمْسُ عَلَی قِیرَاطَیْنِ؟ فَأَنْتُمْ ہُمْ، فَغَضِبَتِ الیَہُودُ، وَالنَّصَارَی، فَقَالُوا:مَا لَنَا أَکْثَرَ عَمَلًا، وَأَقَلَّ عَطَاء ً؟ قَالَ:ہَلْ نَقَصْتُکُمْ مِنْ حَقِّکُمْ؟ قَالُوا:لاَ، قَالَ: فَذَلِکَ، فَضْلِی أُوتِیہِ مَنْ أَشَاء ُ‘‘
ترجمہ:حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری اور دونوں اہل کتاب یہود و نصاری کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند مزدور کام پر لگائے اور کہا کہ کون ہے جو صبح سے دوپہر تک ایک قیراط کے عوض میرا کام کرے؟ تو یہود نے کام کیا ۔پھر اس نے کہا کہ کون ہے جو دوپہر سے عصر تک ایک قیراط کے عوض میرا کام کرے ؟تو نصاری نے کام کیا ۔پھر اس نے کہا کون ہے جو عصر سے سورج کے غروب ہونے تک دو قیراط کے عوض کام کرے؟ یہ تم ہی لوگ ہو (یعنی میری امت)اس پر یہود و نصاری کو غصہ آیا اور کہنے لگے یہ کیا بات ہے کہ ہم لوگوں نے کام زیادہ کیا اور مزدوری کم ملی ؟تو وہ شخص کہنے لگا کیا میں نے تمہارے حق میں کوئی کمی کی ہے؟ ان لوگوں نے کہا نہیں ۔تو اس نے کہا یہ میرا احسان ہے جسے چاہوں دوں۔(صحیح البخاری ،کتاب الاجارۃ،باب الإجارۃ إلی نصف النہار،جلد3،صفحہ90،دار طوق النجاۃ ،مصر)
پتہ چلا کہ عصر کا وقت ظہرسے کم ہے اور یہ اسی صورت میں ہوگا جب سایہ اصلی کے علاوہ سایہ دو مثل ہوجائے۔اگر سایہ اصلی کے علاوہ ایک مثل سایہ پر عصر کا وقت شروع ہونے کا کہا جائے تو اس صورت میں عصر کا وقت ظہرسے کم نہیں رہے گا۔
مختصر القدوری میں ہے:
”أول وقت الظهر إذا زالت الشمس وآخر وقتها عند أبي حنيفة رحمه الله إذا صار ظل كل شيء مثليه سوى في الزوال وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله إذا صار ظل كل شيء مثله، وأول وقت العصر إذا خرج وقت الظهر على القولين“
ترجمہ: ظہر کا وقت سورج کے ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا آخری وقت اس وقت تک ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو گنا ہو جائے (زوال کے وقت کے سائے کے علاوہ)۔ اور امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جائے۔عصر کا وقت دونوں اقوال کے مطابق ظہر کے وقت کے ختم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔(مختصر القدوری، کتاب الصلاۃ، صفحہ23، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
رد المحتار میں ہے:
”(قوله: إلى بلوغ الظل مثليه) هذا ظاهر الرواية عن الإمام نهاية، وهو الصحيح بدائع ومحيط وينابيع، وهو المختار غياثية واختاره الإمام المحبوبي وعول عليه النسفي وصدر الشريعة تصحيح قاسم واختاره أصحاب المتون، وارتضاه الشارحون“
ترجمہ: (سایہ دو مثل ہو جانے تک)یہی امام (ابو حنیفہ) سے ظاہر الروایہ ہے، جیسا کہ کتاب ‘نهایۃ’ میں ہے، اور یہی بات ‘بدائع’، ‘محیط’ اور ‘ینابیع’ میں بھی صحیح قرار دی گئی ہے۔ اسی قول کو ‘غیاثیہ’ میں ترجیح دی گئی، امام محبوبی نے بھی اسی کو اختیار کیا، نسفی اور صدر الشریعہ نے اسی پر اعتماد کیا، قاسم نے اسی کو درست قرار دیا، اور یہی اصحاب متون (فقہی متون کے مصنفین) کا بھی منتخب قول ہے، اور شارحین (شرح لکھنے والوں) نے بھی اسی کو پسند کیا ہے۔(رد المحتار، كتاب الصلاة، جلد2، صفحہ19،دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”یہ مذہب مہذب بوجوہ کثیرہ مذہب صاحبین پر مرجح ہوا، یہی مذہب امام ہے اور مذہب امام اعظم پر عمل واجب جب تک کوئی ضرورت اس کے خلاف پر باعث نہ ہو، جمہور مشایخِ مذہب نے اس کی تصحیح وترجیح کی اور عمل اسی پر چاہئے جس طرف اکثر مشایخ ہوں۔“(فتاوی رضویہ، جلد5، صفحہ135، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے:
”امام اعظم رحمتہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ عصر کا وقت مثل ثانی کے بعد کے بعد شروع ہوتا ہے اور یہی ہمارے نزدیک مفتی بہ ہے لیکن مثل اول کے بعد پڑھ لے تو اس کی نماز ہو جائے گی کہ کچھ فقہا نے اس پر بھی فتوی دیا ہے اختلاف فتوی کی وجہ سے یہ گنجائش ہے مگر جو قول امام کے رائج ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے اس کو انہیں کے مذہب مفتی بہ پر عمل چاہیے اور بلا عذر قول صاحبین کی طرف عدول نہ چاہئے۔“(فتاوی مرکز تربیت افتاء، کتاب الصلاۃ، جلد1، صفحہ156، ناشر: فقیہ ملت اکیڈمی)
فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے:
”اگر چہ صحیح ومعتمد قول امام ہے کہ مثل ثانی میں عصر پڑھنے سے ادانہ ہوگی، فرض ذمہ پر باقی رہے گا مگر صاحبین کے مذہب پر ہو جائے گی، اور قول صاحبین پر بھی فتوی دیا گیا ہے اس لیے جس قول پر عمل کیا جائے گا ہو جائے گا مگر احتراز اولی ہے، ہاں اگر یہ جانے کہ جماعت ہونے کے بعد میرے ساتھ کوئی نہ ہوگا تو جماعت میں شریک ہو جائے ، پھر وقت ہونے پر اکیلے عصر کی نماز ادا کر لے۔ “(فتاوی مرکز تربیت افتاء، کتاب الصلاۃ، جلد1، صفحہ157، ناشر: فقیہ ملت اکیڈمی)
ملفوظات اعلی حضرت میں ہے:
عرض: اگر قبل دو مثل کے عصر کی نماز پڑھ لی جائے تو ہو جائے گی؟
ارشاد: ہاں! صاحبین (یعنی امام اعظم رضی ﷲ تعالی عنہ کے دو جلیل القدر شاگر د امام ابو یوسف اور امام محمد علیہما الرحمہ )کے نزدیک ہو جائے گی۔
عرض: کیا اعادہ (یعنی نماز دوبارہ پڑھنا) واجب نہ ہوگا؟
ارشاد: فرض نہ ہوگا کہ اس قول پر بھی فتوی دیا گیا ہے اگر چہ صحیح و معتمد قول امام ہے۔
عرض: تو کیا تمام مسائل اختلافیہ کا یہ ہی حکم ہے؟
ارشاد: نہیں بلکہ جس میں اختلاف فتوی ہے اس کا یہ ہی حکم ہے کہ جس قول پر عمل کیا جائے گا ہو جائے گا اور چونکہ اس میں علما دونوں طرف گئے ہیں اور دونوں قولوں پر فتوی دیا ہے لہذا جس پر عمل کیا جائے گا ہو جائیگا مگر جو معتقد ترجیح قول امام (یعنی امام اعظم کے قول کو راجح مانتا)ہے، اسے احتراز (یعنی بچنا) چاہیے۔ (ملفوظات اعلی حضرت، حصہ اول، صفحہ83-84، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
رد المحتار میں ہے:
”هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا؟ الظاهر الأول، بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام، تأمل ثم رأيت في آخر شرح المنية ناقلاً عن بعض الفتاوى: أنه لو كان إمام محلته يصلي العشاء قبل غياب الشفق الأبيض فالأفضل أن يصليها وحده بعد البياض“
ترجمہ: اگر عصر کی نماز کو سایہ دو مثل ہونے تک مؤخر کرنے کی صورت میں جماعت فوت ہو جائے، تو کیا مؤخر کرنا افضل ہو گا یا نہیں؟ ظاہر یہی ہے کہ مؤخر کرنا افضل ہو گا۔ بلکہ جس شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ امام اعظم علیہ الرحمہ کا قول راجح ہے، تو اُس پر لازم ہے کہ وہ اُسی پر عمل کرے۔ اس میں غور و فکر کی ضرورت ہے۔ پھر میں نے شرح منیۃ کے آخر میں بعض فتاوی کے حوالے سے یہ مسئلہ دیکھا ہے: اگر کسی محلے کا امام نماز عشاء شفق ابيض غائب ہونے سے پہلے پڑھتا ہے، تو افضل یہ ہے کہ آدمی شفق ختم ہونے کے بعد تنہا نماز پڑھے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، جلد2، صفحہ20، دار المعرفۃ، بیروت)
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
”اگر جانے کہ مجھے مثل ثانی کے بعد جماعت مل سکتی ہے اگرچہ ایک ہی آدمی کے ساتھ تو اس جماعت باطلہ یا کم ازکم مکروہہ بکراہت شدیدہ میں شریک نہ ہو بلکہ وقت اجماعی پر اپنی جماعت صحیحہ نظیفہ اداکرے اور اگر جانے کہ پھر میرے ساتھ کو کوئی نہ ملے گا تو بتقلید صاحبین شریک جماعت ہوجائے اور تحصیل صحت متفق علیہا ورفع کراہت کیلئے مثل ثانی کے بعد پھر اپنی تنہا ادا کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔“(فتاوی رضویہ، جلد5، صفحہ136، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
واﷲ تعالی اعلم بالصواب
کتبه
مولانا ندیم مدنی
️مؤرخہ 16 شوال المکرم 1446ھ بمطابق 15 اپریل 2025ء، بروز پیر
نظر ثانی:
ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری