دوران حمل بلیڈنگ پر احکام
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر عورت کو ایام حمل میں خون آئے جب خون بند ہو تو غسل کرنا ضروری ہوگا؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب
ایام حمل میں جو خون آتا ہے وہ استحاضہ(بیماری) کا ہوتا ہے اور استحاضہ کو حدث اصغر میں شمار کیا جاتا ہے اور حدث اصغر سے وضو لازم ہوتا ہے نا کہ غسل، لیکن استحاضہ کا خون بند ہونے بعد غسل کرنا مستحب ہے۔
الفتاوی الھندیہ میں ہے:
”وکذا ماتراہ الحامل ابتداء او حال ولادتھا قبل خروج الولد کذا فی الھدایۃ“
ترجمہ: اور ایسے ہی وہ خون جس کو حاملہ ابتداء یا حالت ولادت میں بچے کے نکلنے سے پہلے دیکھے(استحاضہ ہے۔) ایسا ہی ھدایہ میں ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، کتاب الطھارۃ، فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، الفصل الثالث فی الاستحاضۃ، جلد1، صفحہ 70، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
الھدایہ میں ہے:
”(ودم الاستحاضۃ کالرعاف)،لایمنع الصوم ولاالصلاۃ ولا الوطء؛ لقولہ علیہ السلام توضئی وصلی وان قطر الدم علی الحصیر“ ترجمہ: استحاضہ کا خون نکسیر کی طرح کا ہے، نہ روزے سے مانع ہے اور نہ نماز سے اور نہ ہی وطی سے، کیونکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے تم وضو کرو اور نماز پڑھو اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر ٹپکیں۔(الھدایہ، کتاب الطھارات، الحیض والاستحاضۃ، جلد1،صفحہ 115، مطبوعہ المکتبہ البشری)
الدر المختار مع تنویر الابصار میں ہے:
”(وندب)۔۔۔لمستحاضۃ انقطع دمھا“
ترجمہ: اور غسل مستحب ہے۔۔۔ایسی مستحاضہ کے لیے جسکا خون ختم ہوگیا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطھارۃ، مطلب یوم عرفۃ افضل من یوم الجمعۃ، جلد1، صفحہ 341،342، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)
بہار شریعت میں ہے:
”استحاضہ کا خون بند ہونے کے بعد،نماز کسوف و خسوف و استسقاء اور خوف و تاریکی اور سخت آندھی کیلئے اور بدن پر نجاست لگی اور یہ معلوم نا ہوا کہ کس جگہ ہے ان سب کیلئے غسل مستحب ہے۔“ (بہار شریعت،جلد 1، حصہ2، صفحہ 325، مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
کتبہ
ممبر فقہ کورس
8 شوال المکرم 1446ھ 7 اپریل 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری