اذان فجر میں الصلوٰۃ خیر من النوم نہ کہنا

اذان فجر میں الصلوٰۃ خیر من النوم نہ کہنا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر مؤذن فجر کی اذان میں ”الصلاۃ خیر من النوم “پڑھنا چھوڑدے تو کیا حکم ہوگا ؟اذان ہوجائے گی یا نہیں؟ اور جان بوجھ کر اس کلمے کو چھوڑنے کی عادت بنا لینے پر اذان کا کیا حکم ہوگا جواب ارشاد فرمادیں۔(سائل:ریاض احمد)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

بیان کی گئی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ اذان فجر میں الصلوة خیر من النوم کہنا حدیث پاک سے ثابت ہے اور یہ سنت مستحبہ ہےجس کو چھوڑنے کی عادت مناسب نہیں۔ باقی اس کو نہ پڑھنے سے اذان و نماز ہوجائے گی۔

ابوداود شریف کی حدیث پاک ہے حضور علیہ السلام نے ایک صحابی کو اذان سکھائی تو فجر کی اذان کے متعلق مزید کلمات سکھائے

” فإن كان صلاة الصبح قلت: الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم “ترجمہ:اگر صبح کی نماز ہو تو کہو:الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ(یعنی نماز نیند سے بہتر ہے۔)(سنن ابو داود، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان، جلد 01، صفحہ 136، حدیث:500، المكتبة العصرية،بيروت)

صحیح ابن خزیمہ میں ہے:

” عن أنس قال: من السنة إذا قال المؤذن في أذان الفجر: حي على الفلاح قال: الصلاة خير من النوم“

ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سنت میں سے ہے جب موذن فجر کی اذان میں حی علی الفلاح کہے تو پڑھے: الصلوٰۃ خیر من النوم۔(صحيح ابن خزيمة، باب التثويب في أذان الصبح ،جلد1،صفحہ202،حدیث 386،المكتب الإسلامي،بيروت)

بہار شریعت میں ہے:

”اذان فجر میں الصلوة خیر من النوم کہنا مستحب ہے۔“(بہار شریعت، ج1، حصہ سوم، ص474، مکتبة المدینہ، کراچی)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم

کتبــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

14شعبان المعظم، 1446ھ، 13فروری 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں