روزے میں سُرمہ لگانا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ روزے میں سرمہ لگانے سے کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟جواب ارشاد فرما دیجئے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
روزے میں سرمہ لگانا جائز ہے کیونکہ یہ حدیث سے ثابت ہے البتہ ڈراپ ڈالنا جائز نہیں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”اکتحل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو الصائم“
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں سرمہ لگایا۔(سنن ابن ماجہ، جلد 1،ص568،باب الصیام، مکتبہ العلم لاہور )
فتاوی رضویہ میں ہے:
”سرمہ بھی ہر وقت لگانے کی اجازت ہے اور لگا کر سو بھی سکتا ہے اور سونے سے بھی کھکھارمیں سرمہ کی رنگت آ جائے تو کوئی حرج نہیں۔“(فتاوی رضویہ جلد 10،ص 518،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”بھری سنگی لگوائی یا تیل یا سرمہ لگایا تو روزہ نہ گیا،اگرچہ تیل یا سرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو تو بلکہ تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو،جب بھی نہیں ٹوٹا۔“(بہار شریعت ج1 حصہ پنجم،ص 982،مکتبہ المدینہ کراچی )
ماہنامہ فیضان مدینہ میں ہے:
” آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔“(ماہنامہ فیضان مدینہ،مارچ 2024ء)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
ممبر فقہ کورس
22 شعبان،1446ھ، 20 فروری 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری