نفل کی چاررکعتوں میں پہلے قعدہ میں درود پڑھنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے کہ میں نے سنا ہے کہ چار رکعتی نفل کی دوسری رکعت میں التحیات کے بعد درود شریف پڑھ سکتے ہیں اور تیسری رکعت میں ثناء بھی پڑھ سکتے ہیں اس بارے میں میری رہنمائی فرمادیجیے، (سائل محمد حاکم خانزادہ )
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ چاررکعتی نفل کی دوسری رکعت میں التحیات کے بعد درود ابرھیم پڑھنا اور تیسری رکعت میں ثناء پڑھنا جائز ہی نہیں بلکہ افضل و مستحب ہے۔
در مختار میں ہے:
”(وفي البواقي من ذوات الأربع يصلي على النبي) صلى الله عليه وسلم (ويستفتح) ويتعوذ ولو نذراً؛ لأن كل شفع صلاة “
ترجمہ،اور باقی چار رکعت والی( نفل اور سنت غیر مؤکدہ کے قعدۂ اولی) میں نبی کریم علیہ السلام پر درود پڑھے گا اور ثناء پڑھے گا اور اعوذ باللہ بھی پڑھے گا اگرچہ منت ہو کیونکہ ہر شفع نماز ہے۔(الدر المختار شرح تنویر الابصار و جامع البہار، صفحہ 92)
بہار شریعت میں ہے:
اور چار رکعت والے نوافل کے قعدۂ اولیٰ میں بھی درود شریف پڑھے اور تیسری رکعت میں سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ بھی پڑھے، بشرطیکہ دو رکعت کے بعد قعدہ کیا ہو ورنہ پہلا سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ کافی ہے۔“(بہار شریعت ج 1،حصہ 4،صفحہ667 ،مکتبۃالمدینہ کراچی)
واللہ اعلم و رسولہ
کتبـــــــــــــه
ممبر فقہ کورس
23شعبان شریف 1446ھ 22 فروری 2025ء