یورپ کے سپر اسٹورز میں ممبر شپ کارڈ کی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آسٹریلیا،یوکے،امریکہ وغیرہ ممالک میںCostco کے بڑے بڑے ہول سیل کے سٹور ہیں جہاں مارکیٹ کی بنسبت چیزیں کچھ سستی ملتی ہیں اور وہاں شاپنگ کرنے کے لئے ممبرشب لینی پڑتی ہے جس کی سالانہ ایک مخصوص فیس ہوتی ہے ،جو سال میں ایک دفعہ ادا کرنا ضروری ہوتا ہے چاہے کوئی شاپنگ کرے یا نہ کرے، ان اسٹورز میں صرف انہیں کو شاپنگ کی اجازت ہوتی ہے جن کے پاس ممبر شپ ہو ،بغیر ممبرشپ کےا سٹور میں داخلہ کی اجازت نہیں ہوتی،کیا اس کی ممبرشپ لینا شرعا جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایة الحق وا لصواب
شرعی طو رپر دیکھیں تو ممبر شپ لینا جائز نہیں کہ یہ کوئی عقد ہی نہیں جس میں پیسوں کے بدلے میں کوئی مال مل رہا ہے بلکہ فقط سپر اسٹور میں داخلے کی اجازت مل رہی ہے۔لیکن یوکے،امریکہ اور آسٹریلیا جیسے غیر مسلم ممالک میں Costco یا اس طرح کے بعض اسٹور،اسی طرح آن لائن شاپنگ اسٹورزجو صرف اپنے ممبرز سے سالا نہ ایک مخصوص فیس لے کر ان کو شاپنگ کی اجازت دیتے ہیں ،ان کی ممبر شپ لینے کی اجازت ہے ۔
اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ یہ دارالحرب میں غیر مسلم کے اسٹورز ہیں اور ان سے عقد فاسدہ کے ذریعہ ،دھو کہ دہی سے بچتے ہوئے مسلمان کا فائدہ ہونے کی صورت میں نفع حاصل کرنا شرعا جائز ہے اور یہاں ان اسٹورز میں مسلمان کا فائدہ کنفرم ہے اس طرح کہ یہ فیس (تقریبا پچاس یا ساٹھ ڈالر)سال میں ایک بار دینی پڑتی ہے اور یہاں پورا سال شاپنگ کرکے اس ایک سال میں بعض دفعہ کئی سو ڈالر کی بچت ہوجاتی ہے ،مزید یہ کہ ان ممالک میں اب لوگوں کا عام تعامل ہوچکا ہے کہ یہاں کے لوگ اس طرح کے اسٹور کی ممبرشپ لیتے ہیں اور پورا سال نفع حاصل کرتے ہیں ۔
نوٹ:یاد رہے اس ممبرشپ سے وہی شاپنگ کرسکتا ہے جس کے نام کا ممبرشپ ہو کسی دوسرے کو اپنا ممبرشپ والا کارڈ دینا جائز نہیں کیونکہ یہ دھو کہ ہے اور Costco اسٹورز کی طرف سے واضح الفاظ میں بورڈ پر لکھا ہوتا ہے کہ صرف ممبرشپ ہولڈرز ہی داخل ہوں،اسی طرح دیگر اسٹورز کی بھی شرائط دیکھ لینی چاہئے بعض اسٹورز ایک ممبرشپ پرفیملی میں سے ایک مزید فرد کو ساتھ داخل ہونے دیتے ہیں تو جتنوں کی اجازت ہواتنے افراد ہی اس ممبر شپ سے شاپنگ کرسکتے ہیں۔
فتاوی رضویہ میں ہے:”یہ صورت شرعا باطل وناجائز ہے کہ وہ ٹکٹ جو اس کے ہاتھ بیچا جاتاہے اور یہ دوسروں کے ہاتھ بیچتا ہے اصلا مال نہیں تو رکن بیع کہ مبادلۃ المال بالمال ہے اس میں متحقق نہیں۔ “
(فتاوی رضویہ، ج 17،ص167،رضا فاؤنڈیشن ، لاہور)
رد المحتار میں ہے:
”(ولا بين حربي ومسلم) مستأمن ولو بعقد فاسد (ثمة) لأن ماله ثمة مباح فيحل برضاه مطلقا بلا غدر“
ترجمہ:اور (کسی حربی اور مسلمان کے درمیان) سود نہیں، چاہے وہ مستأمن ہو، خواہ فاسد عقد کے ذریعے ہو ،کیونکہ وہاں اس کا مال مباح ہے، پس وہ اس کی رضا سے مطلقاً حلال ہوگا، بغیر کسی دھوکے کے۔(رد المحتار،باب الربا،جلد۵،صفحہ نمبر۱۸۶،التراث)
فتح القدیر میں ہے:
”وإطلاق النصوص في مال محظور، وإنما يحرم على المسلم إذا كان بطريق الغدر (فإذا لم يأخذ غدرا فبأي طريق يأخذه حل) بعد كونه برضا“
ترجمہ:اور نصوص کا اطلاق ممنوع مال پر ہوتا ہے، اور یہ (مال) مسلمان پر اسی وقت حرام ہوتا ہے جب وہ غدر (دھوکے) کے ذریعے حاصل کیا جائے۔ پس اگر اس نے دھوکے کے بغیر لیا ہو، تو جس بھی طریقے سے لے، وہ حلال ہوگا، بشرطیکہ وہ حربی کی رضامندی کے ساتھ ہو۔(فتح القدیر ،کتاب البیوع،جلد۷،صفحہ نمبر۳۹،التراث)
بہار شریعت میں ہے :
”عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو مثلاً ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپے خریدے یااُس کے ہاتھ مُردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ سے مسلمان کا روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرناجائز ہے۔“(بہارشریعت جلددوم،سود کابیان، حصہ ۱۱صفحہ۷۷۵، مکتبة المدینة کراچی)
ھذا ماظھر للعبد الضعیف واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ابوالامین محمد مبین مدنی
23شعبان المعظم 1446ھ/22فروری 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری