شعر کا حکم
مفتی صاحب، یہ شعر پڑھنا کیسا ، دیکھا ہے میں نے جب سے دیارِ نبی شبابؔ :: جنت میری نگاہِ دل سے اُتر گئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
مذکورہ شعر میں شاعر کا مقصود جنت کی توہین کرنا یا اسے حقیر ثابت کرنا ہر گز نہیں ، بلکہ عام طور پر اس طرح کے جملوں میں مقصود یہ بتانا ہوتا ہے کہ جنت کے آقا و مولی یعنی حضور علیہ السلام کے شہرِ پاک (مدینہ منورہ) کو میں نے جب سے دیکھا ہے ، اس شہر پاک سے ایسی محبت ہو گئی کہ اب یہ شہر کائنات کی ہر نعمت سے بڑھ کر محبوب ترین ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب انسان کسی محبوب چیز کی محبت میں ڈوب جاتا ہے، تو اسے باقی سب چیزیں (خواہ وہ کتنی ہی قیمتی ہوں) کم محسوس ہوتی ہیں ، حتی الامکان مسلمان کے قول کو اچھے معنی پر محمول کرنا چاہیے ، بہر حال شاعر کا مقصود ہر گز جنت کی توہین و تحقیر نہیں ، لہذا اس شعر میں کفر یا گمراہی کا حکم نہیں ، تاہم مسلمانوں کو تشویش سے بچانے کے لیے ایسے الفاظ سے بچنا چاہیے جو اضطراب کا باعث ہوں ، لہذا جنت میری نگاہِ دل سے اتر گئی کو کسی دوسرے مناسب جملے سے بدلنا بہتر ہے کیونکہ حدیث پاک میں ہے : دع ما يريبك إلى ما لا يريبك .
یعنی شک و شبہ میں ڈالنی والی چیزوں کو چھوڑ کے ایسی بات کی طرف آ جا جو شک میں نہ ڈالے۔
[الترمذي، سنن الترمذي ت شاكر، ابواب صفۃ القیامۃ، ٦٦٨/٤]
حدیث پاک میں ہے : ولا تظنن بكلمة خرجت من مسلم شرا وأنت تجد لها في الخير محملا. یعنی مسلمان کے منہ سے نکلنے والی بات کو بُرا گمان نہ کر جب تک تو اُس میں اچھا محمل پائے۔
[المتقي الهندي، كنز العمال،حرف الميم، الترہيبات، ٢٦٢/١٦]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کـتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
ابو الحسن محمد حق نواز مدنی
04 ربیع الثانی 1448ھ / 17ستمبر 2026ء