گفٹ ایڈ رقم کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو ڈونر ہمیں ڈونیشن دیتے وقت حکومت برطانیہ سے گفٹ ایڈ کی رقم claim کرنے کی اجازت دے تو ہم وہ رقم گورنمنٹ سے لیکر کن کاموں میں استعمال کرسکتے ہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایة الحق وا لصواب
گفٹ ایڈ (Gift Aid) ایک قانونی سکیم ہے جس کے تحت برطانیہ کی حکومت چیریٹیوں (خیراتی اداروں) کو اضافی رقم دیتی ہے، جب کوئی شخص اپنے صدقات کسی charity کو دیتے وقت “گفٹ ایڈ” claim کرنے کی اجازت دے ۔ تو جب یہ charity اس گفٹ ایڈ کو گورنمنٹ سے claim کرتی ہے تو برطانیہ حکومت یہ رقم عطیہ کرنے والے کے دئیے ہوئے ٹیکس میں سے کچھ فیصد اس Charity کو دیتی ہے جس کو ڈونر نے اپنے ڈونیشن دئیے ہوتے ،مثلا اگر کسی نے ایک سو پاؤنڈ ڈونیشن دیے اور ساتھ گفٹ ایڈ کی اجازت بھی دے دی تو اب چیرٹی، گورنمنٹ سے اس بندے کے نام پر گفٹ ایڈ claim کرسکتی ہے جس میں گورنمنٹ پچیس فیصد (یعنی،£1 ،پر (£ 0.25 pدیتی ہے ۔تو اگر یہ بغیر دھوکہ کے صحیح طریقے سے claim کی گئ ہو تو یہ ایک عطیہ ہے اس کا استعمال کسی بھی نیک وجائز کام میں کرنا درست ہے۔ البتہ اگر دھوکہ دہی مثلا ڈونر نے گفٹ ایڈ کی اجازت نہیں دی لیکن رسید کسی اور کے نام کی بنا کر یا رسید پر خود ہی ڈونر کی اجازت کے بغیر گفٹ ایڈ والے کالم میں اجازت لکھ کر گورنمنٹ سے گفٹ ایڈ لینا دھوکہ دہی ہے جو جائز نہیں ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء کے اندر ارشاد فرمایا
”یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ“
یعنی، اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔
اس آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے:
”وَأَكْلِ الْمَالِ بِالْبَاطِلِ بِغَيْرِ عِوَضٍ وَلَا هِبَةٍ، وَذَلِكَ بَاطِلٌ بِإِجْمَاعٍ،یعنی“
اور ناجائز طریقے سے مال کھانا بغیر کسی معاوضے یا تحفے کے، اور یہ بالاجماع باطل ہے ۔
ھدایہ شریف میں ہے:
”الهبة عقد مشروع وعلی ذلک انعقد الاجماع وتصح بالإيجاب والقبول والقبض“
یعنی ہبہ ایک مشروع عقد ہے اور اس پر اجماع منعقد ہوا۔ یہ (ہبہ ) ایجاب، قبول اور قبضہ سے صحیح ہوتاہے۔ (ھدایہ شریف،کتاب الھبہ،جلد 3،صفحہ 222،التراث )
لہٰذا اگر گفٹ ایڈ بغیر دھوکہ دہی کے جائز طریقے سے حاصل کیا گیا ہو تو وہ مال مباح ہے اس کا استعمال کرنا جائز ہے ۔
ھذا ماظھر لعبد الضعیف والله اعلم عزوجل ورسوله اعلم صلی الله علیه وآله وسلم بالصواب
کتبہ
مبین مدنی
۱۸ جولائی ۲۰۲۴ بمطابق ۱۲ محرم الحرام ۱۴۴۶ ھ
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری