کیا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سجدے کی حالت میں شہید کیا گیا تھا؟

کیا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سجدے کی حالت میں شہید کیا گیا تھا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا امام حسین کو نماز میں سجدہ کی حالت میں شہید کیا گیا تھا ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مشہور تو یہی ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سجدے کی حالت میں شہید کیے گئے لیکن درج ذیل کتب کے حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

البدایه والنہایه میں ہے

”ثم جعل لایقدم احد علی قتله حتی نادی شمر بن ذی الجوشن ویحکم ماذا تنظرون بالرجل؟ ثکلتکم امھاتکم فحملت الرجال کل جانب علی الحسین وضربه زرعة بن شریك التیمی علی کتفه الیسری وضرب علی عاتقه ثم انصرفو عنه وھو ینوء ویکبو ثم جاء الیه سنان بن ابی عمرو بن انس النخعی فطعنه بالرمح فوقع ثم نزل وذبحه راسه“

ترجمہ:کوئی شخص آپ کے قتل کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا تھا تو شمر نے آواز دی تم ہلاک ہو جاؤ اس شخص کے بارے میں تم کس کا انتظار کر رہے ہوں ؟ تمھاری مائیں تم کو گم کردیں اسے قتل کردوں پس نو جوانوں نے ہر طرف سے امام حسین رضی اللہ عنہ پر حملہ کردیا اور زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں کندھے پر تلوار ماری پھر آپ بڑی مشقت کے ساتھ اٹھ رہے تھے اور گر رہے تھے پھر سنان بن ابی عمرو النخعی نے آپ کو نیزہ مارا تو پس آپ گرگئے پھر اس نے گھوڑے سے اتر کر آپ کا سر مبارک کاٹ لیا۔(البدایہ والنہایہ ، جلد 8 ، صفحہ 188 187، مکتبہ المعارف بیروت)

تاریخ طبری میں ہے

” وھو علیه السلام ینوء ویکبو قال وحمل علیه فی تلک الحال جاء الیه سنان بن ابی عمرو بن انس النخعی فطعنه بالرمح فوقع وفی روایة ابی الفرج وذبحه سنان الملعون“

ترجمہ:پھر آپ علیہ السلام بڑی مشقت کے ساتھ اٹھ رہے تھے اور گر رہے تھے پس آپ سوار تھے اس حال میں کہ پھر سنان بن ابی عمرو النخعی نے آپ کو نیزہ مارا تو پس آپ گرگئے اور ابو الفرج کی روایت میں ہے کہ سنان ملعون نے آپ کو ذبح کردیا۔(تاریخ طبری ، جلد 8 ، صفحہ 326 325، مطبوعہ بیروت)

مقتل ابی مخنف میں شیعہ ذاکر ابو مخنف الازدی لکھتا ہے

”قال کشف له عن لثامه فاذا ھو ابرص اعور له بوز کبوز الکلب وشعر کشعر الخنزیر فقال له الامام علیه السلام صدق جدی رسول الله صلی ﷲ علیه وسلم فقال له الشمر وما قال جدك رسول الله صلى الله علیه وسلم قال سمعته یا علی یقتل ولدک ھذا ابرص اعور له بوز کبوز الکلب وشعر کشعر الخنزیر فقال له لعنه الله یشبھنی جدک رسول الله صلى الله علیه وسلم بالکلب والله لاذبحنک من القفا جزاء لما شبھنی جدک ثم اکبه علی وجھه وجعل یجز بالسیف“

ترجمہ:امام حسین نے فرمایا کہ اپنا نقاب اٹھا میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں جب شمر نے نقاب اٹھایا تو چہرہ مبروص ایک آنکھ سے کانا تھا ناک کتے کی طرح اور بال خنزیر کی طرح تھے امام نے فرمایا کہ میرے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا شمر بولا آپ کے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ میرے نانا صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا تھا کہ اے علی تیرے بیٹے کو ایک شخص قتل کرے گا جو مبروص ہوگا ایک آنکھ سے کانا ہوگا ناک کتے کی طرح اور بال خنزیر کی طرح ہوں گے شمر بولا آپ کے جد نے مجھے کتوں سے تشبیہ دی ہے اللہ کی قسم میں اس شبہ کے بدلے میں ضرور ذبح کروں گا پس اس نے حضرت کو منہ کے بل گرایا اور اپنی تلوار سے آپ کے گردن کی رگیں کاٹ دی۔(مقتل ابی مخنف ، صفحہ 146، مکتبہ الالفین کویت)

اخبار الطوال میں شیعہ ذاکر ابو حنیفہ الدینوری لکھتا ہے

”وضربه زرعة بن شریك التمیمی بالسیف واتقاہ الحسین بیدہ فاسرع السیف فی یدہ وحمل علیه سنان بن اوس النخعی فطعنه فسقط ونزل الیه حولی بن یزید الاصبحی لیحز راسه“

ترجمہ:زرعہ بن شریک تمیمی نے تلوار سے مارا پس حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اسے ہاتھ سے روکا پس وہ آپ کے ہاتھ میں پیوست ہوگیا پس سنان بن اوس نخعی اپنی سواری پر سوار تھا اس نے آپ کو نیزہ مارا پس آپ زمین پر تشریف لے آئیں پس خولی بن یزید الاصبحی نے آپ کے سر کی رگیں کاٹ دی۔(اخبار الطوال ، صفحہ 257، دار احیاء التراث العربی بیروت)

بحار الانوار میں شیعہ ذاکر محمد باقر المجلسی لکھتا ہے

”ونظر الحسین یمینا وشمالا ولا یری احدا فرفع راسه الی السماء۔۔۔۔۔واقبل عدو الله سنان الا یادی شمر بن ذی الجوشن العاری لعنھما الله حتی وقفوا علی راس الحسین فقال بعضھم لبعض ما تنظرون ؟ اریحوا الرجل فنزل سنان بن انس واخذ بلحیة الحسین وجعل یضرب بالسیف فی حلقه“

ترجمہ:اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے دائیں اور بائیں دیکھا پس آپ کو کوئی نظر نہیں آیا اور آپ نے آسمان کی جانب سر اٹھایا۔ پس قریب آیا اللہ کا دشمن سنان اور اپنے ساتھیوں کو بلایا پس شمر بن الجوشن پس ان دونوں پر اللہ کی لعنت ہو یہاں تک کہ وہ سب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر پر کھڑے ہوئے پس بعض بعض کی طرف دیکھ رہے تھے تو اس نے کہا کہ اس آدمی کے قتل کے بارے میں کس کا انتظار کر رہے ہوں پس سنان بن انس النخعی آیا اس نے آپ کی داڑھی مبارک پکڑی اور آپ کی گردن تلوار سے کاٹ دی۔(بحار الانوار ، جلد 8 ، صفحہ 322، دار احیاء التراث العربی بیروت)

مناقب آل ابی طالب میں شیعہ ذاکر ابو جعفر محمد بن علی اشھر اشوب لکھتا ہے

”وکان ضربه زرعة بن شریک التمیمی علی کتفه الایسر وعمرو بن الخلیفة الجعفی علی حبل عاتقه وکان طعنه صالح بن وھب المزنی علی جنبه وکان رماہ سنان بن انس النخعی فی صدرہ فوقع علی الارض واخذ دمه یکفیه وصبه علی راسه ۔۔۔۔فقصد الیه نصر بن خرشة یضربه بسیفه فضغب عمر وقال لخولی بن یزید الاصبحی انزله فجز له راسه فنزل وجز راسه“

ترجمہ:زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں بازو پر وار کیا اور عمرو بن خلیفہ نے آپ کی گردن پر رسی باندھی اور آپ کو نیزہ مارا اور صالح بن وھب المزنی نے آپ کے پہلو پر تیر مارا سنان بن انس النخعی نے آپ کے سینے پر تیر مارا جس سے آپ زمین پر تشریف لے آئیں پس نصر بن خرشہ نے آپ کی گردن مبارک تلوار سے کاٹنے کا ارادہ کیا تو پس عمر غضب ناک ہوا اور خولی بن یزید الاصبحی سے کہا کہ تم اترو اور ان کی سر کاٹ دوں پس وہ اترا اور آپ کا سر اقدس تن سے جدا کردیا۔(مناقب آل ابی طالب ، صفحہ120 ، دار الاضواء)

شیعہ ذاکر شیخ مفید اپنی کتاب الارشاد میں لکھتا ہے

”ویدر الیه خولی بن یزید الاصبحی فنزل لیحتز راسه فارعد فقال شمر فت الله فی عضدك مالك ترعد؟ ونزل شمر الیه فذبحه“

ترجمہ:خولی بن یزید الاصبحی جلدی سے آگے بڑھا کہ آپ کا سر قلم کرے پس اس کے ہاتھ کانپنے لگے پس شمر نے کہا کہ اللہ تیرے بازو کو کمزور کرے تیرے ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں پس وہ اترا اور اس نے آپ کو ذبح کر دیا ۔(الارشاد ، صفحہ 226 ، دار المفید بیروت)

نفس المھموم میں شیعہ ذاکر شیخ عباس القمی شیعہ ذاکر فضل بن حسن الطبرسی کی فارسی کتاب اعلام الوری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے

”وقال الطبرسی ویدر الیه خولی بن یزید الاصبحی فنزل لیحتز راسه فارعد فقال شمر فت الله فی عضدك مالك ترعد؟ ونزل شمر الیه فذبحه“

ترجمہ:طبرسی نے کہا کہ خولی بن یزید الاصبحی جلدی سے آگے بڑھا کہ آپ کا سر قلم کرے پس اس کے ہاتھ کانپنے لگے پس شمر نے کہا کہ اللہ تیرے بازو کو کمزور کرے تیرے ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں پس وہ اترا اور اس نے آپ کو ذبح کر دیا ۔( نفس المھموم ،صفحہ 331، دار الححجہ البیضاء)

واللہ اعلم

کتبہ

ممبر فقہ کورس

19جولائی 2024

اپنا تبصرہ بھیجیں