نماز و غیر نماز میں اذکار دوسری زبان میں پڑھنا

نماز و غیر نماز میں اذکار دوسری زبان میں پڑھنا

سوال ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا نماز میں یا غیر نماز میں درود پاک اور عربی دعا وغیرہ دوسری زبان میں پڑھ سکتے ہیں اور اگر ان کو پڑھتے وقت تجوید کا خیال نہ کیا تو کیا حکم ہوگا؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق نماز میں اذکار نماز اور درود شریف غیر عربی میں پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور خارج نماز مکروہ تنزیہی ہے۔ جس طرح قراءت میں تجوید کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہر حرف اپنے مخرج سے ادا ہو اور فساد معنی کی صورت میں نماز فاسد ہو جائے گی اسی طرح اذکار نماز میں بھی اگر ایسی غلطی کی جس سے معنی فاسد ہو جائیں تو نماز فاسد ہو جائے گی اور نماز کے غیر میں بھی اذکار وظائف اگر قرآنی آیات سے ہو تو ان کو تجوید سے پڑھنا فرض ہے اور جو اذکار غیر قرآن میں سے ہو تو تب بھی تجوید کا لحاظ کرکے ہی پڑھنا چاہیے تاکہ ان کی تاثیر باقی رہے اور مفسد معنی سے ان کی برکت زائل نہ ہو اور یہ اذکار حصول رحمت کا ذریعہ بنے۔

الفتاویٰ التاتارخانیۃ میں ہے:

’’على هذا الاختلاف لو ‌سبح ‌بالفارسية في الصلاة أو دعا أو أثنى على اللہ تعالى أو تعوذ أو هلل أو تشهد أو صلى على النبی صلى اللہ عليه وسلم بالفارسية في الصلاة ‘‘

ترجمہ:اِسی اختلاف کی بنیاد پر یہ مسئلہ ہے کہ اگر کسی نے نماز میں تسبیحات، دعا، ثناء، تعوذ، تہلیل، تشہد یا درودِ ابرہیمی فارسی میں پڑھا ۔(الفتاویٰ التاتارخانیۃ، جلد1،کتاب الصلاۃ ، صفحہ272، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

فتاویٰ قاضی خان میں ہے:

’’علی ھذا الخلاف جمیع اذکار الصلاۃمن التشھد والقنوت والدعاء وتسبیحات الرکوع والسجود فان قال بالفارسیۃ یا رب بیامر زمرا اذا کان یحسن العربیۃ تفسد صلاتہ وعندہ لا تفسد وکذا کل ما لیس بعربیۃ کالترکیۃ والزنجیۃ والحبشیۃ والنطبیۃ‘‘

ترجمہ:اِسی اختلاف کی بنیاد پر تمام اذکارِ نماز یعنی تشہد، قنوت، دعا اور تسبیحات رکوع وسجود کا مسئلہ ہے، چنانچہ اگر کسی نے فارسی میں یوں کہا:”یا رب بیامر زمرا“ اگر تو وہ عربی نظم بولنے پر قادر تھا ،تو صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک اُس کی نماز فاسد ہو جائے گی، جبکہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اُس کی نماز فاسد نہ ہو گی۔ یہی حکم فارسی کے علاوہ ہر زبان کے متعلق ہے کہ جو عربی نہ ہو، مثلاً ترکی، زنجی، حبشی یا نبطی زبان۔(فتاویٰ قاضی خان، جلد1، صفحہ 82، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ردالمختار میں ہے

’’أما بقية أذكار الصلاة فلم أر من صرح فيها بالكراهة سوى ما تقدم، ولا يبعد أن يكون الدعاء بالفارسية مكروهاً تحريماً في الصلاة وتنزيهاً خارجها‘‘

ترجمہ: گزشتہ مقام کے علاوہ میں نے کسی کو بھی نماز کے دیگر اذکار میں کراہت کی صراحت کرتے نہیں دیکھا اور یہ کوئی بعید بھی نہیں کہ نماز میں فارسی میں دعا کرنا مکروہ تحریمی اور خارج نماز مکروہ تنزیہی ہو۔(ردالمحتار مع درمختار، جلد2، صفحہ286، مطبوعہ کوئٹہ)

قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا﴾

ترجمہ کنز الایمان:’’اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔‘‘

تفسیر خزائن العرفان میں ہے:’’رعایتِ وقوف اور ادائے مخارج کے ساتھ اور حروف کو مخارج کے ساتھ تا بہ امکان صحیح ادا کرنا نماز میں فرض ہے ۔‘‘ (تفسیر خزائن العرفان، پارہ29،سورہ مزمل،آیت4، مکتبہ المدینہ کراچی)

فتاویٰ رضویہ میں ہے :

’’ تجوید بنص قطعی قرآن و اخبار متواترہ سید الانس والجان علیہ وعلی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والسلام واجماع تام صحابہ و تابعین وسائر ائمہ کرام علیہم الرضوان المستدام حق و واجب در علم دین شرع الہی ہے ۔قال اﷲ تعالیٰ ﴿ورتل القراٰن ترتیلا﴾(اﷲ تعالی کا فرمان ہے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو)۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ،جلد6،صفحہ322،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

مزید اسی میں ایک مقام پر فرماتے ہیں:

’’ ترتیل کی تین حدیں ہیں۔ ہر حد اعلیٰ میں اس کے بعد کی حد ماخوز و ملحوظ ہے۔حد اوّل :یہ کہ قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کر بآہستگی تلاوت کرے کہ سامع چاہے تو ہر کلمے کو جدا جدا گِن سکے۔۔۔ الفاظ بہ تفخیم ادا ہوں ، حروف کو ان کی صفات شدت و جہر وامثالھا کے حقوق پورے دئے جائیں،اظہار و اخفا و تفخیم و ترقیق وغیرہا محسنات کا لحاظ رکھا جائے، یہ مسنون ہے اور اس کا ترک مکروہ و ناپسند۔دوم : مدووقف ووصل کے ضروریات اپنے اپنے مواقع پر ادا ہوں، کھڑے پڑے کا لحاظ رہے،حروف مذکورہ جن کے قبل نون یا میم ہوان کے بعد غنّہ نہ نکلے انّا کُنّا کو ان کن یا انّاں کنّاں نہ پڑھا جائے ،باوجیم ساکنین جن کے بعد”ت”ہو بشدت ادا کیے جائیں کہ پ اور چ کی آواز نہ دیں ، جہال جلدی میں ابتر اور تجتنبوا کو اپتر اور تچتنبوا پڑھتے ہیں، حروف مطبقہ کا کسرہ ضمہ کی طرف مائل نہ ہونے پائے ۔ جہاں جب صراط وقاطعہ میں ص وط کے اجتماع میں مثلًا”یستطیعون””لاتطع”بے خیالی کرنے والوں سے حرف تا بھی مشابہ طا ادا ہوتا ہے، بلکہ بعض سے”عتو”میں بھی بوجہ تفخیم عین و ضمہ تا آواز مشابہ طا پیدا ہوتی ہے ۔ بالجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذنہ کرے ،نہ کوئی حرف چُھوٹ جائے، نہ کوئی اجنبی پیدا ہو، نہ محدود ومقصود ہو نہ ممدود ، اس قدر ترتیل فرض و واجب ہے اور اس کا تارک گنہگار ۔۔۔سوم :جو حروف وحرکات کی تصحیح ا ع،ت ط، ث س ص، ح ہ ،ذ ز ظ وغیرہا میں تمیز کرے ۔ غرض ہر نقص و زیادت و تبدیل سے کہ مفسد معنی ہو احتراز یہ بھی فرض ہے ۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد6،صفحہ275تا 281 ،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

بہار شریعت میں ہے:

”ط ت، س ث ص، ذ ز ظ، ا ء ع، ہ ح، ض ظ د، ان حرفوں میں صحیح طور پر امیتاز رکھیں ، ورنہ معنی فاسد ہونے کی صورت میں نماز نہ ہوگی اور بعض تو س ش، ز ج، ق ک میں بھی فرق نہیں کرتے۔“(بہار شریعت جلد 1 ، حصہ 3 ، صفحہ 561 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے :

”قراء ت یا اذکارِ نماز میں ایسی غلطی جس سے معنی فاسد ہو جائیں، نما زفاسد کر دیتی ہے۔“(بہار شریعت جلد 1 ، حصہ 3 ، صفحہ 561 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

01صفر المظفر 1446ھ06 اگست 2024ء

نظر ثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں