نفل ادا کرنے اور فقیروں کوکھلانے کی منت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کسی نے منت مانی کہ میرا کام ہوگیا تو نفل ادا کروں گا اور فقیروں کو کھانا کھلاؤں گا لیکن کچھ معین نہیں کیا تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر کسی نے منت کو کسی شرط پر معلق کیا کہ جس کا ہونا اسے پسند ہو تو شرط پائے جانے کی صورت میں اس منت کو پورا کرنا واجب ہوگا جبکہ وہ کسی فرض یا واجب کی قبیل سے ہو لہٰذا نفل پڑھنے اور فقیروں کو کھانا کھلانے کی منت شرعی منت ہے اور اگر رکعات کی تعداد متعین نہیں کی تو اس پر دو رکعت نفل لازم ہوں گے اور فقیروں کی تعداد معین نہیں کی تو دس فقیروں کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہوگا یا صدقہ فطر کی مقدار ادا کردے۔
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:
”فان علقہ بشرط يريدہ كان قدم غائبي او شفى مريضي یوفی وجوباً ان وجد الشرط، ملخصا “
یعنی اگر کوئی شخص نذر کو ایسی شرط پر معلق کرتا ہے جس کا ہونا اسے پسند ہو، جیساکہ وہ کہے اگراللہ تعالی میرے غائب کو واپس لوٹا دے یا اللہ تعالیٰ میرے مریض کو شفا دے دے، تو اب شرط پائے جانے کی صورت میں اس نذر کو پورا کرنا ہی واجب ہوگا۔ (الدر المختار،کتاب الایمان، ج 05، ص 543-542، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے:
”اگر ایسی چیز پر معلق کیا کہ اوس کے ہونے کی خواہش ہے ،مثلاً: اگر میرا لڑکا تندرست ہوجائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں ،تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ،ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ کام نہ کرے اور اس کے عوض میں کفارہ دیدے۔“ (بھارشریعت ،ج02،ص314، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ردالمختار میں ہے
”ومن نذر نذرا مطلقاً او معلقا بشرط و کان من جنسہ واجب ای فرض کما سیصرح بہ للبحر والدور وھو عبادۃ مقصودۃ“
ترجمہ:جس نے مطلق نذر مانی یا شرط کے ساتھ معلق نذر مانی اور اس کی جنس سے واجب یعنی فرض ہو جیسا کہ تصریح کی گئی ہے البحر اور الدرر میں ہے وہ عبادات مقصودہ ہو۔(در مختار مع رد المحتار،کتاب الایمان،ج 3،ص 736،دار الفکر،بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
”ومن مشايخنا من أصل في هذا أصلا “
ترجمہ:اور ہمارے مشائخ نے فرمایا اس میں اصل یہ ہے کہ وہ اصل(فرض وواجب) کی قبیل سے ہو۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، جلد 5 ،صفحہ 82 ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
“ إذا قال : لله علي أن أصلي لزمه ركعتان وكذا إن قال : أصلي صلاة “
یعنی اگر کسی شخص نے کہا کہ اللہ عزوجل کے لیے مجھ پر لازم ہے کہ میں نماز ادا کروں، تو اس صورت میں اس پر دو رکعت لازم ہوں گی، یونہی اگر وہ اس طرح کہے کہ میں نماز ادا کروں گا۔(فتاوٰی عالمگیری، کتاب الایمان، ج 01، ص 65، مطبوعہ پشاور)
بہار شریعت میں ہے :
”نماز پڑھنے کی منّت مانی اور رکعتوں کو معین نہ کیا، تو دورکعت پڑھنی ضروری ہے۔“(بہار شریعت ، ج02،ح 9، ص315، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
’’ إذا جعل الرجل لله على نفسه طعام مساكين فهو على ما نوى من عدد المساكين وكيل الطعام وإن لم يكن له نية فعليه إطعام عشرة مساكين لكل نصف صاع من حنطة كذا في المبسوط“
یعنی اگر کسی شخص نے اللہ عزوجل کے لیے مساکین کے کھانے کو اپنے اوپر لازم کیا ،تو جتنے مساکین کو جتنی مقدار کھانا کھلانے کی اس نے نیت کی ہو، تو اسی نیت کے مطابق منت کو پورا کرنے کا حکم ہوگا اور اگر اس کی کوئی نیت نہ ہو،تو اس صورت میں اس پر دس مساکین میں سے ہر ایک مسکین کو نصف صاع گندم کی مقدار کے برابر کھانا کھلانا ضروری ہوگا، جیسا کہ مبسوط میں مذکور ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الایمان، ج 01، ص 66، مطبوعہ پشاور)
فتویٰ رضویہ میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا :
”زید نے نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے گا، تو میں اپنے احباب کو کھانا کھلاؤں گا، تو کیا اس طرح کی منت ماننا اور اس کا ادا کرنا زید پر واجب ہو گا یا نہیں؟“
آپ علیہ الرحمۃ اس کے جواب میں ارشادفرماتے ہیں:
”اگر احباب سے مراد خاص معین بعض فقراء و مساکین ہوں، تو وجوب ہو جائے گا۔“ (فتاوی رضویہ ، ج13،ص584، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)
بہار شریعت میں ہے :
” یوہیں اگر فقیروں کے کھلانے کی منّت مانی تو جتنے فقیر کھلانے کی نیت تھی اوتنوں کو کھلائے اور تعداد اوس وقت دل میں بھی نہ ہو تو دس(۱۰) فقیر کھلائے اور دونوں وقت کھلانے کی نیت تھی تو دونوں وقت کھلائے اور ایک وقت کا ارادہ ہے تو ایک وقت اور کچھ ارادہ نہ ہو تو دونوں وقت کھلائے یا صدقہ فطر کی مقدار اون کو دے۔ اور فقیرکو کھلانے کی منّت مانی تو ایک فقیر کو کھلائے یا صدقۂ فطر کی مقدار دیدے۔“(بہار شریعت ، ج02، ح 9 ،ص315، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
22محرم الحرام 1446ھ29 جولائی 2024ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری