متعہ کی شرعی حیثیت

متعہ کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ متعہ کیا ہے اور کیا یہ جائز ہے ؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

متعہ اس عقد کو کہتے ہیں کہ جس میں معین وقت کے لیے مقررہ معاوضہ کے عوض کسی عورت سے جسمانی تعلق قائم کیا جائے اس عقد کے لیے نہ گواہوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس میں عورتوں کی تعداد متعین ہے اور عورت حاملہ ہو جائے تو اس کو خرچ ملنے کا حق بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ وارث بنتی ہے ۔متعہ قرآن وحدیث اور اجماع امت کی رو سے حرام ہے اور زنائے خالص ہے اور اگر کوئی متعہ کرے تو یہ باطل ہے اور اس کی حرمت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی جابجا احادیث میں مذکور ہے جو کہ روافض کی کتب میں بھی موجود ہیں۔

کتاب التعریفات میں ہے :

”ونکاح المتعۃ : ھو ان یقول الرجل لامراۃ : خذی ھذہ العشرۃ و اتمتع بک مدۃ معلومۃ، فقبلتہ“

یعنی اور نکاح متعہ یہ ہے کہ مرد عورت سے یوں کہے :تو یہ دس (درہم) لے لے اور میں تیرے ساتھ معلوم مدت کے لئے متعہ کرتا ہوں، پھر وہ عورت اسے قبول کرلے۔(کتاب التعریفات، صفحہ 170، مکتبہ رحمانیہ لاہور)

مشہور شیعہ خمینی لکھتا ہے :

”متعہ والی عورت اگرچہ حاملہ ہوجائے، خرچ کا حق نہیں رکھتی۔ متعہ والی عورت ایک بستر پر سونے اور شوہر سے ارث پانے اور شوہر بھی اس کا، وارث بننے کا حق نہیں رکھتا۔“(توضیح المسائل مترجم ،صفحہ 368، 369، مطبوعہ سازمان تبلیغات)

صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا :

”ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نھی عن متعۃ النساء یوم خیبر و عن اکل الحمر الانسیۃ“

یعنی بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے متعہ اور گھریلو گدھے کو کھانے سے منع فرما دیا (گدھے کے گوشت کو کھانا حرام فرما دیا۔)(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، صفحہ 763، رقم الحدیث : 4216 دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

صحیح بخاری میں ہے حضرت امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے فرمایا :

”ان النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عن المتعۃ، و عن لحوم الحمر الاھلیۃ، زمن خیبر“

ترجمہ:بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانہ میں (عورتوں سے) متعہ اور گھریلو گدھے کے گوشت (کو کھانے) سے منع فرما دیا۔(صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن نکاح المتعۃ آخراً، صفحہ 964، رقم الحدیث : 5115 دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

صحیح مسلم میں ہے حضرت سبرہ بن معبدہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

”یا ایھا الناس، انی قد کنت اذنت لکم فی الاستمتاع من النساء، و ان ﷲ قد حرم ذٰلک الٰی یوم القیامۃ، فمن کان عندہ منھن شئ فلیخل سبیلہ و لاتاخذوا مما آتیتموھن شیئاً“

یعنی اے لوگو! میں نے پہلے تمہیں عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی اجازت دی تھی اور اب بیشک اللہ پاک نے اسے قیامت کے دن تک حرام فرما دیا ہے، تو جس کے پاس کوئی ایسی عورت ہو وہ اسے چھوڑ دے اور جو انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ نہ لو۔(صحیح مسلم، باب نکاح المتعۃ، وبیان انہ ابیح ثم نسخ ثم ابیح ثم نسخ واستقر تحریمہ الی یوم القیامۃ، صفحہ 522، رقم الحدیث : 21 (1406) دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

سنن ترمذی میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

”انما کانت المتعۃ فی اول الاسلام کان الرجل یقدم البلدۃ لیس لہ بھا معرفۃ فیتزوج المرأۃ بقدر مایری انہ یقیم فتحفظ لہ متاعہ و تصلح لہ شیاہ حتی اذا نزلت الآیۃ “اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ” قال ابن عباس : فکل فرج سوی ھذین فھو حرام“

یعنی متعہ تو ابتدائے اسلام میں تھا، مرد کسی شہر میں جاتا جہاں کسی سے جان پہچان نہ ہوتی تو کسی عورت سے اتنے دنوں کے لیے عقد کر لیتا جتنے روز اس کے خیال میں وہاں ٹھہرنا ہوتا، وہ عورت اس کے اسباب کی حفاظت کرتی اور اس کے کاموں کی درستی کرتی، یہاں تک کہ جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی : “مگر اپنی بیویوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا :

”تو (اس دن سے) ان دو کے سوا ہر فرج حرام ہوگئی۔“(سنن الترمذی و ھو الجامع الصحیح، کتاب النکاح، باب ماجاء فی نکاح المتعہ، صفحہ 292، رقم الحدیث : 1122 دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

شرح السنّۃ میں ابو محمد،حسین بن مسعود محمد بن الفراء البغوی الشافعی لکھتے ہیں

” اتفق العلماء علی تحریم نکاح المتعه وھو کالاجماع بین المسلمین “

ترجمہ:علماء کرام کا نکاحِ متعہ کو حرام قرار دینے پر اتفاق ہے۔یہ مسلمانوں کے درمیان اجماع ہے۔(شرح السنّۃ ،جلد 9، صفحہ 100 ، المکتب الاسلامی دمشق )

شرح معانی الآثار میں امام،ابو جعفر،احمد بن محمد بن سلامہ،طحاوی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں

”فھذا عمر رضی الله عنه قد نھی عن متعة النساء بحضرة اصحاب رسول اللّٰه صلی الله علیه وسلم فلم ینکر ذلک علیه منھم منکر، وفي هذا دليل علی متابعتھم له علی ما نهی عنه من ذلک وفي اجماعهم علي النهي في ذلک عنها دلیل علی نسخها، وحجة“

ترجمہ:سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی موجودگی میں عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرمایا۔ان میں سے کسی ایک نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سب صحابہ کرام متعہ سے منع کرنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمنوا تھے۔ صحابہ کرام کا یہ اجماع متعہ کے منسوخ ہونے کی دلیل و برہان ہے۔(شرح معاني الآثار ، جلد 3 ، صفحہ 26، مطبوعہ کراچی)

تنویر الابصار مع درِمختار میں ہے :

”(و بطل نکاح متعۃ و مؤقت) و ان جھلت المدۃ لو طالت فی الاصح، و لیس منہ ما لو نکحھا علی ان یطلقھا بعد شھر او نوی مکثہ معھا مدۃ معیّنۃ“

یعنی متعہ کے طور پر نکاح یا مقررہ مدت کے لیے نکاح خواہ مدت مجہول ہو یا مدت لمبی ہو یا تو اصح مذہب میں یہ نکاح باطل ہے، اور اگر اس شرط پر نکاح کیا کہ ایک ماہ بعد طلاق دے دوں گا یا اس وقت دل میں اس کے ساتھ مقررہ مدت کی نیت کی تھی تو یہ اس سے نہیں ہوگا (یعنی نکاح باطل نہ ہوگا)۔

عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ کے قول ”ولیس منہ“ کے تحت تحریر فرماتے ہیں :

”لان اشتراط القاطع یدل علی انعقادہ مؤبدا و بطل الشرط۔ بحر“

ترجمہ:اس لیے کہ نکاح میں قاطع (طلاق) کی شرط نکاح کے دائمی طور پر منعقد ہونے پر دلالت کرتی ہے اور شرط باطل ہوگی، بحر۔(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، مطلب : فیما لو زوج المولی امتہ، جلد 4، صفحہ 143، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

فتویٰ رضویہ میں ہے:

”اگر یوں عقد کرے کہ میں نے تجھ سے ایک مہینہ یا ایک برس یا سو برس کے لیے نکاح کیا تو نکاح نہ ہوگا کہ ایک وقت تک نکاح کو محدود کر دینا صورتِ متعہ ہے اور متعہ محض حرام اور زنا۔“(فتاوی رضویہ جلد 11 صفحہ 192 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”متعہ بنصِ قرآنِ عظیم و اجماعِ ائمہ اہلسنت بلاشبہ باطل و حرامِ قطعی ہے، قال تعالیٰ :”فمن ابتغٰی وراء ذٰلک فاولئٰک ھم العادون“

اللہ تعالٰی نے فرمایا : جو شخص (بیویوں اور لونڈی مملوکہ) کے علاوہ غیر کی خواہش کرتا ہے وہ حد سے متجاوز ہے۔“(فتاوی رضویہ جلد 11 صفحہ 239 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ایک اور مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ :

حضور پرنور کا دربارہ متعہ کے کیا ارشاد ہے، اوائلِ اسلام میں جائز تھا پھر حرام کر دیا گیا، آیا اس کی حرمت حدیث سے ثابت ہے یا اقوالِ صحابہ سے ؟

تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً تحریر فرمایا :

”متعہ کی حرمت صحیح حدیثوں سے ثابت ہے، امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ارشادوں سے ثابت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے اقوال شریفہ سے ثابت ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآنِ عظیم سے ثابت ہے۔

اللہ عزوجل فرماتا ہے :

”و الذین ھم لفروجھم حفظون، الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین، فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ھم العادون“

جو لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ماسوا سے اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھتے ہیں وہ ملامت سے محفوظ ہیں اور جو لوگ غیر کے متلاشی ہیں وہ حد سے متجاوز ہیں۔“(فتاویٰ رضویہ جلد 11 صفحہ 236 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

الاستبصار میں شیعہ ذاکر شیخ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی لکھتا ہے:

”عن زید بن علی عن اباہ علیھم السلام قال : حرم رسول الله صلی الله علیه وآلہ وسلم لحوم الحم الاھلیة و نکاح المتعة“

ترجمہ:زید بن علی اپنے اباء سے روایت کرتے ہیں، فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو گدھوں کے گوشت اور نکاحِ متعہ کو حرام فرما دیا۔(الاستبصار، جلد 2، صفحہ 77، دارالکتب الاسلامیہ، تہران)

فروع کافی میں شیعہ ذاکر الشیخ بن محمد الکلینی اور تہذیب الاحکام میں شیعہ ذاکر ابو جعفر محمد بن طوسی لکھتا ہے

”عن علی رضی الله عنه حرم رسول الله صلى الله علیه وسلم یوم خیبر لحوم الحمر الاھلیة ونکاح المتعة “

ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت اور نکاحِ متعہ کو حرام فرما دیا۔(فروع کافی ، جلد 2 ، صفحہ 192، موسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت،تہذیب الاحکام ، جلد 2 ، صفحہ 186، دار اللتعارف للمطبوعات بیروت)

فروع کافی میں ہے ،مفضل کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق کو متعہ کے متعلق فرماتے سنا ہے کہ

”دعوھا اما یستحی احدکم ان یری موضع العورة فیحمل ذلک علی صالحی اخوائه اصحابه“

ترجمہ:متعہ چھوڑ دوں کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ کوئی شخص عورت کی شرمگاہ کو دیکھے اور اس کا ذکر اپنے بھائیوں اور احباب سے جاکر کرے۔(فروع کافی ، جلد 2 ، صفحہ 192، موسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

15 محرم الحرام 1446 ھ22 جولائی 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں