ماتم کی حرمت روافض کی کُتب سے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ماتم کرنے کا کیا حکم ہے اور اس طرح رونا اور غم منانا درست ہے ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
غم اہل بیت میں منہ پیٹنا ، گریباں چاک کرنا ، جزع وفزع اور سوگ کرنا ممنوع ہے کہ ہمیں صبر کا ہی حکم دیا گیا ہے۔ اس طرح سینہ اور منہ زخمی کردینا زنجیروں اور چھریوں سے ماتم کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے ۔البتہ اہل بیت اطہار کے غم اگر آنسو بہائے اور دکھ و غم محسوس ہو تو یہ بھی اہل بیت کی محبت کے سبب سے ہے اور جسے ان کی تکالیف کا غم نہیں اس کی محبت ناقص ہے ،لیکن اس میں تجدید حزن کرنا یعنی ایسا بیان یا ایسا عمل کرنا کہ لوگوں کورولایا جائے یہ جائز نہیں۔ کتب روافض میں بھی ماتم اور جزع وفزع کو حرام لکھا ہے اور اسے گناہ اور اعمال کے ضائع ہونے کا سبب قرار دیا ہے۔
صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں ہے
”وعن عبدالله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله علیه وسلم لیس منا من ضرب الخدود وشق الجیوب ودعا بدعوی الجاھلیة“
ترجمہ:حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو منہ پیٹے،گریبان پھاڑے اور جہالت کی باتیں بکے۔(صحیح بخاری ، جلد 1 ،حدیث نمبر: 1297، مطبوعہ کراچی،صحیح مسلم ، جلد 1 ، صفحہ 99، حدیث 285، مطبوعہ کراچی)
سنن ابو داؤد اور سنن نسائی میں ہےحضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
”ان رسول الله صلى الله علیه وسلم قال انا بریء ممن حلق وصلق وخرق“
ترجمہ:رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں اس سے بیزار ہوں جو سر منڈائے،چیخیں مارے،کپڑے پھاڑے۔(سنن ابي داود ، جلد 2، حدیث 3130، مطبوعہ کراچی،سنن النسائی، باب الجنائز، جلد 1 ، صفحہ 224، حدیث 1866، مطبوعہ کراچی)
مراة المناجیح میں ہے :
”یعنی میت وغیرہ پر منہ پیٹنے،کپڑے پھاڑنے،رب تعالٰی کی شکایت،بے صبری کی بکواس کرنے والا ہماری جماعت یا ہمارے طریقے والوں سے نہیں ہے یہ کام حرام ہے،ان کا کرنے والا سخت مجرم ہے۔اس سے روافض عبرت پکڑیں جن کے ہاں سینہ کوبی کرنا اور حرام مرثیے پڑھنا عبادت ہے۔اس حدیث کی تائید قرآن کریم فرمارہا ہے:”وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ”۔اسی لیئےشہدائے کربلا،اہلِ بیت اطہار نے تا زیست یہ حرکتیں نہ کیں۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2 ، حدیث نمبر 1725 ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
فتویٰ رضویہ میں ہے:
”کون ساسنی ہوگا جسے واقعہ ہائلہ کربلا کا غم نہیں یا اس کی یاد سے اس کا دل محزون اور آنکھ پرنم نہیں ، ہاں مصائب میں ہم کو صبر کاحکم فرمایا ہے ، جزع فزع کو شریعت منع فرماتی ہے ، اور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو اسے جھوٹا اظہارِغم ریاء ہے اور قصداً غم آوری وغم پروری خلافِ رضاہے ۔ جسے اس کاغم نہ ہو اسے بیغم نہ رہنا چاہئے بلکہ اس غم نہ ہونے کا غم چاہئے کہ اس کی محبت ناقص ہے اور جس کی محبت ناقص اس کاایمان ناقص ۔“ (فتاوى رضویہ، جلد 24، صفحہ 500، 501، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مزید فرماتے ہیں :
”اور ماتم کرنا اور چھاتی پیٹنا بھی حرام ہے ۔“(فتاوی رضویہ ، ج 24، ص 18 ، رضا فائونڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے :
” اسی سلسلے میں نوحہ و ماتم بھی ہوتا ہے اور سینہ کوبی ہوتی ہے، اتنے زور زور سے سینہ کوٹتے ہیں کہ ورم ہوجاتا ہے، سینہ سرخ ہوجاتا ہے بلکہ بعض جگہ زنجیروں اور چھریوں سے ماتم کرتے ہیں کہ سینے سے خون بہنے لگتا ہے۔ تعزیوں کے پاس مرثیہ پڑھا جاتا ہے اور تعزیہ جب گشت کو نکلتا ہے اس وقت بھی اس کے آگے مرثیہ پڑھا جاتا ہے، مرثیہ میں غلط واقعات نظم کیے جاتے ہیں ، اہل بیتِ کرام کی بے حرمتی اور بے صبری اور جزع فزع کا ذکر کیا جاتا ہے اور چونکہ اکثر مرثیہ رافضیوں ہی کے ہیں ، بعض میں تَبَرَّا بھی ہوتا ہے مگر اس رو میں سنّی بھی اسے بے تکلف پڑھ جاتے ہیں اور انھیں اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں ، یہ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں۔
اظہارِ غم کے لیے سر کے بال بکھیرتے ہیں ، کپڑے پھاڑتے اور سر پر خاک ڈالتے اور بھوسا اڑاتے ہیں ، یہ بھی ناجائز اور جاہلیت کے کام ہیں ، ان سے بچنا نہایت ضروری ہے، احادیث میں ان کی سخت ممانعت آئی ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے امور سے پرہیز کریں اور ایسے کام کریں جن سے ﷲ (عزوجل)اور رسول اللہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم راضی ہوں کہ یہی نجات کا راستہ ہے۔“(بہار شریعت ، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 650، مکتبہ المدینہ کراچی)
تفسیر قمی میں شیعہ ذاکر علی بن ابراہیم قمی لکھتا ہے :
” من اصحابنا عن احمد بن محمد عن عثمان بن عیسٰی عن ابی ایوب الخزاز عن رجل عن ابی عبداﷲ علیہ السلام فی قول اﷲ عزوجل ولا یعصینک فی معروف قال لا یشققن جیباً ولا یتخلفن عند قبر ولا یسوون ثوبا ولاینشرن شعرا “
ترجمہ:حضرت امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے اﷲ تعالی کے فرمان ولا یعصینک فی معروف کے متعلق حضرت امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کرتے نہ پھاڑیں اور اپنے رخساروں پر طماچے نہ ماریں اور ہائے ہائے نہ پکاریں اور قبر کے پاس نہ بیٹھیں اور اپنے کپڑے سیاہ نہ کریں اور بال نہ نوچیں۔ (تفسیر قمی، جلد 1 ،ص 338، موسسہ دار الکتب للطباعة والنشر قم ایران )
تفسیر قمی میں شیعہ ذاکر علی بن ابراہیم قمی لکھتا ہے
”فقامت ام حکیم ابنۃ الحارث بن عبدالمطلب فقالت یا رسول اﷲ ماھذا المعروف الذی امرنا اﷲ بہ ان لا یعصیک فیہ فقال ان لا تخمشن وجھا ولا تلطمن خذا ولا تنتفن شعرا ولا تمزقن جیباً ولا تنتفن شعرا ولا تمزقن جیباً ولا تسوون ثوبا ولا تدعون باالویل و اثبور ولا تقیمن عند قبر فبا یعھن رسول اﷲ صلی الله علیه وسلم والہ علی ھذہ الشروط“
ترجمہ:ام حکیم حارث بن عبدالمطلب کھڑی ہوئیں انہوں نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ نے ہمیں معروف کے متعلق یہ کیا حکم فرمایا ہے کہ ہم اس معروف میں آپ کی نافرمانی نہ کریں۔ تو مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خداوندی فرمان معروف کے معنی یہ ہیں کہ تم اپنے مونہوں کو نہ نوچو اور اپنے رخساروں کو طمانچے نہ مارو اور اپنے بالوں کو بھی نہ نوچو اور اپنے کرتوں کو نہ ٹکڑے ٹکڑے کرو اور اپنے کپڑے سیاہ نہ بناؤ اور ہائے ہائے اور ہلاکت ہلاکت نہ پکارو اور قبر کے پاس نہ کھڑی ہو۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شروط پر عورتوں سے بیعت فرمائی۔(تفسیر قمی، جلد 2 ، صفحہ 365، موسسہ دار الکتب للطباعة والنشر قم ایران )
من لا یحضرہ الفقیہ میں شیعہ ذاکر ابوجعفر محمد بن علی بن حسن بن موسی بن بابویہ قمی لکھتا ہے
”الحسين بن محمد، عن عبدالله بن عامر، عن علي بن مهزيار، عن علي بن إسماعيل الميثمي عن ربعي بن عبدالله، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: إن الصبر والبلاء يستبقان إلى المؤمن فيأتيه البلاء وهو صبور ، وإن الجزع والبلاء يستبقان إلى الكافر فيأتيه البلاء وهو جزوع“
ترجمہ:حضرت ابو عبداللہ نے فرمایا مصیبت اور صبر مومن کی طرف سبقت کرتے ہیں جب اس پر مصیبت آتی ہے تو وہ صابر ہوتا ہے اور مصیبت اور بےصبری کافر کی طرف سبقت کرتے ہیں اس پر جب مصیبت آتی ہے اور وہ بے صبری کر رہا ہوتا ہے۔(من لا یحضر الفقیہ جلد 5 ، صفحہ 29، دار الاضواء)
اصول کافی میں شیعہ ذاکر ابوجعفر محمد بن يعقوب الکليني لکھتا ہے
”علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن النوفلي، عن السكوني، عن أبي عبدالله (عليه السلام) قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله): ضرب المسلم يده على فخذه عند المصيبة إحباط لاجره“
ترجمہ:حضرت ابو عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مصیبت کے وقت مسلمان کا اپنا ہاتھ اپنے زانوں پر مارنا اس کا اجر ضائع کر دیا جاتا ہے۔(اصول کافی، جلد 3 صفحہ 224 ، قم احیاء التراث)
اصول کافی میں ہے
”من أصحابنا، عن سهل بن زياد، عن أحمد بن محمد بن أبي نصر، والحسن ابن علي جميعا، عن أبي جميلة، عن جابر، عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: قلت له: ما الجزع؟ قال: أشد الجزع الصراخ بالويل والعويل ولطم الوجه والصدر وجز الشعر من النواصي ومن أقام النواحة فقد ترك الصبر وأخذ في غير طريقه ومن صبر واسترجع وحمد الله عزوجل فقد رضي بما صنع الله ووقع أجره على الله ومن لم يفعل ذلك جرى عليه القضاء وهو ذميم وأحبط الله تعالى أجره“
ترجمہ:ابو جعفر کہتے ہیں میں نے پوچھا بے صبری کیا ہے ؟ فرمایا سب سے بڑی بے صبری یہ ہے کہ آدمی چلائے اور سینے اور چہرے پر تھپڑ مارے اور پیشانی سے بال نوچےاور جس شخص نے نوحہ کیا اس نے صبر ترک کیا اور اسنے خلاف طریقے کو اپنایا اور جس نے صبر کیا اور انا للہ پڑھا اور اللہ کی حمد کی اور اللہ کے کئے ہوئے پر راضی ہوا تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ثابت ہوگیا اور جس نے اس کے خلاف کیا اس کی تقدیر تو پوری ہوگی اور وہ مذموم ہوگا اور اللہ اس کے اجر کو ضائع کر دے گا۔(اصول کافی، جلد 3 صفحہ 223، قم احیاء التراث)
مستدرک الوسائل میں ہے
”نهينا أن نحد أكثر من ثلاث“
ترجمہ:ہمیں (وفات کے فورا بعد والے)تین دن سے زیادہ سوگ.و.قصدا غم کرنے سے روکا گیا ہے۔( مستدرک الوسائل، جلد 2 صفحہ 448،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث قم )
مستدرک الوسائل اور بحار الانوار میں ہے :
”النياحة من أمر الجاهلية“
ترجمہ:نوحہ کرنا جاہلی کاموں میں سے ایک ہے۔( مستدرک الوسائل، جلد 2 صفحہ 453،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث قم ،بحار الانوار جلد82، ص103 ، دار احیاء التراث العربی بیروت)
مستدرک وسائل میں شیعہ ذاکر مرزا حسین نوری لکھتا ہے
”لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم النائحة والمستمعة“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اس پر جو نوحہ کرے اوراس پر جو نوحہ سنے۔( مستدرک الوسائل، جلد 2 صفحہ 453،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث قم )
حلیۃ المتقین میں شیعہ ذاکر محمد باقر المجلسی لکھتا ہے
”حضرت رسول نہی فرموداز گزیہ بلند و نوحہ کردن اور مصیبت و نہی فرموداز رفتن زنان پے جنازہا“
ترجمہ:حضرت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت میں بلند رونے اور نوحہ کرنے سے منع فرمایا اور جنازے کے پیچھے عورتوں کے جانے سے بھی منع فرمایا۔(حلیۃ المتقین ،ص 188، نشر لقمان)
آگے لکھتا ہے:
” فرمودا طمانچه برروزدن در وقت مصیبت “
ترجمہ:حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت میں چہرہ پیٹنے سے بھی منع فرمایا ہے ۔(حلیۃ المتقین ،ص 189، نشر لقمان)
شرح نھج البلاغه میں شیعہ محقق میثم بن علی بن میثم نجرانی لکھتا ہےکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں
”ینزل الصبر علی قدر المصیبة ومن ضرب علی فخذيه عند مصیبة حبط اجره (وفی نسخة) عملة“
ترجمہ:صبر بقدر مصیبت نازل ہوتا ہے اور جس نے مصیبت کے وقت ہاتھ اپنے دو زانوں پر مارا تو اس کا ثواب اور اس کے اعمال برباد ہوگئے۔( شرح نھج البلاغه الابن میثم ، جلد 5 ، صفحہ 588، مطبوعہ ایران)
کافی میں شیعہ محقق ابو جعفر محمد بن یعقوب الکلینی لکھتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے فرمایا
”والله لولا ان تکون سیئة لنشرت شعری ولصرخت الی ربی“
ترجمہ:خدا کی قسم اگر گناہ نہ ہوتا تو میں اپنے سر کے بال کھول کر زور زور سے چلا کر اپنے رب سے فریاد کرتی۔( کافی، جلد 3 ، صفحہ 220، قم احیاء تراث )
بحار الانوار میں شیعہ ذاکر محمد باقر المجلسی لکھتا ہے
”لا تشقي علي جيبا، ولا تخمشي علي وجها، ولا تدعي علي بالويل والثبور“
ترجمہ:جب میں شہید ہوجاؤں تو اپنے کپڑے مت پھاڑنا، اپنا چہرہ زخمی مت کرنا اور یہ مت پکارنا کہ ہائے مصیبت، ہائے ہم ہلاک ہوگئے۔( بحار الانوار جلد 3 ، صفحہ 45، دار احیاء التراث العربی بیروت)
جلاء العیون میں مشہور شیعہ عالم ملا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ کربلا میں امام حسین رضی ﷲ عنہ کی اپنی بہن کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
”یااختاہ اتقی اﷲ وتعزی بعزاء اﷲ واعلمی ان اهل الارض یموتون واهل السماء لایبقون جدی خیر منی وابی خیر منی وامی خیر منی واخی خیر منی ولی ولکل مسلم برسول ﷲ صلی الله علیه و آله وسلّم اسوۃ فعزاً مابهذا ونحوہ وقال لها یا اخیۃ انی اقسمت علیک فابری قسمی لاتشقی علی جیباً ولا تخمشی علی وجها ولاتدعی علی بالویل والثبور اذا اناهلکت “
ترجمہ : اے پیاری بہن اﷲ سے ڈرنا اور اﷲ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق تعزیت کرنا ، خوب سمجھ لو تمام اہل زمین مرجائیں گے اہل آسمان باقی نہ رہیں گے ، میرے نانا ، میرے بابا ، میری والدہ اور میرے بھائی سب مجھ سے بہتر تھے ۔ میرے اور ہر مسلمان کے لئے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی اورآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ہدایات بہترین نمونہ ہیں ۔ تو انہی کے طریقہ کے مطابق تعزیت کرنا اور فرمایا : اے ماں جائی میں تجھے قسم دلاتا ہوں ۔ میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا ۔ میرے مرنے پر اپنا گریبان نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرہ کو نہ خراشنا اور نہ ہی ہلاکت اور بربادی کے الفاظ بولنا۔(جلاء العیون جلد 2، صفحہ 553 فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران)
حاشیہ فروع کافی میں شیعہ ذاکر علی اکبر غفاری لکھتا ہے
”یحرم الطم والخدش وجز الشعر اجماعا “
ترجمہ:مصیبت کے وقت چہرہ یا سینہ پیٹنا،زخم لگانا اور بال کاٹنا تمام امت کے اجماع پر حرام ہے۔(حاشیہ فروع کافی ، جلد 3 ، صفحہ 223 ، مطبوعہ ایران)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
12 محرم الحرام 1446ھ18 جولائی 2024ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری