فیکٹری،مکان اور دوکان کی طرف سے قربانی کرنا
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین ان مسائل کے بارے میں کہ زید ہر سال اپنے سات حصے والے جانور کے حصوں کی قربانی کی بالترتیب یوں تعیین کرتا ہے مثلاً 1- ذاتی 2- والدین کے ایصال ثواب کے لئے 3- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے ایصال ثواب کے لئے 4- اللہ کے لیے 5- فیکٹری کے لیے 6- مکان کے لیے 7- دوکان کے لیے تفصیلات کے بعد عرض ہے خالص اللہ کے لیے (ایک حصہ اللہ کے نام کا چھوڑ کر)قربانی کرنا کیسا؟ دوکان و مکان اور فیکٹری کے نام کی قربانی کرنا کیسا؟ جبکہ یہ کوئی فرد نہیں بلڈنگ ہیں؟ دوکان و مکان کی اگر قربانی نہ ہوتی ہو اور اس وجہ سے باقی قربانیاں بھی نہ ہوتی ہوں۔ اب قربانی کے ایام کے بعد اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ جو قربانیاں سالہا سال سے یوں ہی کی گئیں ان کا کیا حکم ہے ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ کے مطابق زید کی سالہا سال کی یوں کی گئی قربانیاں درست ہیں اس کی دوبارہ قضا لازم نہیں ہے۔
تفصیل اس میں یہ ہے کہ اپنے حصے کے علاوہ جوحصے حضور علیہ السلام اور والدین کی طرف سے کیے گئے یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں تحفہ اور والدین کے لیے ایصال ثواب ہے اور یہ بالکل جائز بلکہ مستند دلائل سے ثابت ہے۔والدین چونکہ دو افراد ہوتے ہیں اگر اس اعتبار سے دیکھیں تو بڑے جانور کی قربانی میں کل آٹھ حصے بن رہے ہیں،لیکن چونکہ یہاں مقصود ان دونوں کو ایصال ثواب پہنچانا ہے توا س میں ایک حصہ بھی ماں اور باپ دونوں کے لیے کافی ہے۔
اس کے بعد جو اللہ عزوجل کے لیے حصہ رکھا اس سے مراد خاص اللہ عزوجل کی لیے قربانی کرنا ہے ورنہ اللہ عزوجل کو ایصال ثواب نہیں پہنچایاجاتا اور نہ ہی کوئی مسلمان ایصال ثواب کی نیت سے ایسا کرتا ہے۔ اس لیے یہ نیت بھی قربت کی ہوئی اور درست ہوئی۔
اس کے علاوہ جو حصے فیکٹری ،مکان اور دوکان کے لیے رکھے ہیں یہ بھی درست ہیں کہ اس میں مقصود ان اشیاء کی طرف سے صدقہ ہے کہ ان میں خیر و برکت ہو اور یہ تینوں قربانیاں اس کی اپنی ملکیت ہی میں بطور نفل شمار ہوں گی اور یہ نیت بھی تقرب الی اللہ ہے جس سے اس کے واجب پر فرق نہیں پڑے گا ۔
سنن ابو داؤد شریف میں ہے:
”عن جابر بن عبد اللہ قال شهدت مع رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم الأضحى في المصلى فلما قضى خطبته نزل من منبره وأتي بكبش فذبحه رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم بيده وقال ”بسم اللہ واللہ أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي“
ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں عید الاضحیٰ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عید گاہ میں تھا، جب آپ خطبہ سے فارغ ہوئے ، تو منبر ِ انور سے نیچے تشریف لائے، تو ایک مینڈھا لايا گیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے اپنے دستِ اقدس سے ذبح فرمایا اور فرمایا: ”بسم اللہ واللہ اکبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي“یہ قربانی میری طر ف سے اور میرےاُن امتیوں کی طرف سے جو قربانی نہ کر سکیں۔ (یعنی اس کا ثواب ان کو بھی پہنچے)(سنن ابی داؤد ،کتاب الضحایا،باب فی الشاۃ یضحیٰ بھا عن جماعۃ،جلد 2،صفحہ 40،مطبوعہ لاھور )
بدائع الصنائع میں ہے:
”وجہ الاستحسان : ان الموت لا يمنع التقرب عن الميت بدليل أنه يجوز أن يتصدق عنه ويحج عنه، وقد صح أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لا يذبح من أمته وان كان منهم من قد مات قبل أن يذبح ، فدل ان الميت يجوز أن يتقرب عنه ، فاذا ذبح عنہ صار نصیبہ للقربۃ ، فلا یمنع جواز ذبح الباقین “
ترجمہ : اس طرح میت کی طرف سے قربانی بطورِ استحسان درست ہونے کی وجہ یہ ہےکہ میت کی طرف سے تقرب کی نیت کرنے سے موت مانع نہیں ہوتی ، کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مینڈھے ذبح فرمائے،ایک اپنی طرف سے اور ایک اپنے ان اُمتیوں کی طرف سے جو قربانی نہ کر سکیں،حالانکہ آپ علیہ السلام کے امتیوں میں سے کچھ ایسے امتی بھی تھے کہ جو آپ علیہ السلام کےاس جانور کو ذبح فرمانے سے پہلے ہی دنیا سے جا چکے تھے،لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یوں کرنا اِس بات کی دلیل ہے کہ میت کی جانب سے نیکی کا کام کرنا اور اُسے اِس کا ثواب پہنچانا ، جائز ہے، لہٰذا جب جانور کو ذبح کیا جائے گا ، تو اس فوت شدہ کی طرف سےشامل کیا گیا حصہ بھی بطورِ تقرب ہی ہو گا ، اس لیے یہ بقیہ کی قربانی ہونے سے مانع نہیں بنے گا۔ (بدائع الصنائع ،کتاب التضحیۃ،جلد 6،صفحہ 307،مطبوعہ کوئٹہ )
فتاوی قاضی خان میں ہے:
’’ ولو ضحی عن المیت من مال نفسہ بغیر امر المیت جاز،ولہ ان یتناول منہ ولا یلزمہ ان یتصدق بہ،لانھا لم تصر ملکاً للمیت بل الذبح حصل علی ملکہ،ولھذا لو کان علی الذابح اضحیۃ سقطت عنہ‘‘
ترجمہ:اگر کسی نےاپنے مال سے میت کی طرف سے بغیر اس کی وصیت کے قربانی کی تو یہ جائز ہےاور اس ذبح کرنے والے کے لیے اس قربانی میں سے کھانا، جائز ہے اور اس گوشت کو صدقہ کرنا لازم نہیں، کیونکہ وہ میت کی ملک نہ ہوئی، بلکہ قربانی ذبح کرنے والے کی ملک پر ہوئی، لہذا اگر ذبح کرنے والے پر قربانی واجب تھی ،تو اس سے واجب ساقط ہو گیا۔(فتاوی قاضی خان،کتاب الاضحیۃ،ج3،ص239،مطبوعہ کراچی)
ردالمحتار میں ہے:
’’ من ضحی عن المیت یصنع کما یصنع فی اضحیۃ نفسہ من التصدق والاکل والاجر للمیت والملک للذابح وقال الصدر والمختار انہ ان بامر المیت لا یاکل منھا والا یاکل،بزازیہ‘‘
ترجمہ: اگرمیت کی طرف سے قربانی کی تو صدقہ اور کھانے میں اپنی ذاتی قربانی والا معاملہ کیا جائے اور اجر وثواب میت کے لیے ہوگا اور ملکیت ذبح کرنے والے کی ہوگی، فرمایا صدر نے کہ مختاریہ ہے کہ اگر قربانی میت کی وصیت پر کی تو خود نہ کھائے، ورنہ کھائے۔ بزازیہ۔(ردالمحتار مع الدرالمختار،کتاب الاضحیۃ،ج 9،ص540،مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت سے سوال ہوا:
’’ایک شخص نے ایک قربانی میں تین آدمیوں کے نام جو مرگئے ہیں کی ،کیا فرماتے ہیں قربانی درست ہے یانہیں؟“
امام اہلسنت نے جواباً ارشاد فرمایا:
”قربانی اللہ عزوجل کے لیے کی اور اس کا ثواب جتنے مسلمانوں کوپہنچانا چاہا اگر چہ عام امت مرحومہ کو ،تو قربانی درست ہوگی اور ثواب سب کو پہنچے گا اور اگر ان تینوں نے اپنی طر ف سے قربانی کی وصیتیں کی تھیں، تو ہر ایک کے مال سے جدا قربانی لازم ہے۔ ایک قربانی دوکی طرف سے نہیں ہوسکتی،اگر کی جائے، تو کسی کی طرف سے نہ ہوگی،محض گوشت ہوگا۔‘‘(فتاوی رضویہ ،کتاب الاضحیہ،ج20،ص457، رضافاؤنڈیشن،لاھور)
ردالمختار میں ہے
”قد علم ان الشرط قصد القربۃ من الکل “
ترجمہ : یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ بڑے جانور میں شرکت کے لیے سب کی طرف سے تقرب کی نیت ہونا شرط ہے ۔(ردالمحتار مع الدرالمختار، کتاب الاضحیۃ ، جلد9، صفحہ540، مطبوعہ کوئٹہ)
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے :
”و لو ارادوا القربۃ الاضحیۃ او غیرھا من القرب اجزأھم سواء کانت القربۃ واجبۃ او تطوعا او وجب علی البعض دون البعض و سواء اتفقت جھۃ القربۃ او اختلفت ۔۔۔ کذلک ان اراد بعضھم العقیقۃ عن ولد ولد لہ من قبلہ “
ترجمہ : ( ایک جانور میں شریک ) لوگوں نے ( اس جانور میں )قربانی کی قربت کی نیت کی ہو یا قربانی کے علاوہ کسی اور قربت کی نیت ہو ، تو یہ نیت کرنا ان کو کافی ہوجائے گا ۔ چاہے وہ قربتِ واجبہ ہو یا نفلی قربت ہو یا بعض پر واجب ہو اور بعض پر واجب نہ ہو ، چاہے قربت کی جہت ایک ہی ہو یا مختلف ہو ۔ اسی طرح اگر ( ایک جانور میں شریک ) لوگوں میں سے بعض نے اِس سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کے عقیقے کی نیت کی ( تو بھی جائز ہے ۔ )( حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ، کتاب الاضحیۃ ، جلد 4 ، صفحہ 166 ، مطبوعہ کوئٹہ )
فتاویٰ هندیه میں ہے
”والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى ولو أرادوا القربة الأضحية أو غيرها من القرب أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجب على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل“
یعنی گائے اور اونٹ سات لوگوں کی طرف سے کافی ہے (یعنی اس میں سات لوگوں کی شرکت ہوسکتی ہے) جب کہ سب کا مقصد رضاے الٰہی کا حصول ہو۔ ہر ایک کا مقصد قربت ہونا چاہیے خواہ قربت واجبہ یو یا نافلہ، یا کسی پر واجب ہو اور کسی پر نہ ہو، خواہ جہت قربت ایک ہو یا مختلف۔ مثلاً کسی کا ارادہ قربانی کا ہو اور کسی کا شکار کی جزا کا۔ اسی طرح اگر کسی کا اپنے یہاں پیدا ہونے والے بچے کا عقیقہ کرنے کا ارادہ ہو تو اس کی بھی شرکت بڑے جانور میں ہوسکتی ہے۔(الفتاوى الهندية، جلد 5 صفحہ 304، دار الفکر بیروت)
فتاوی امجدیہ میں ہے
” ایک گائے میں زندہ اور مردہ دونوں شریک ہو سکتے ہیں ، جبکہ مردہ کی طرف سے اس کا ولی وغیرہ کوئی زندہ قربانی کراتا ہو … قربانی میں شرکت کے جوا زکے لیے یہ ضرور ہے کہ وہ سب حصہ دار کی طرف سے قربت کی نیت سے ذبح ہو ، کسی کا مقصود محض گوشت نہ ہو …رہا یہ کہ اس میں سے کوئی حصہ میت کی طرف سے ہو ، تو اس کی وجہ سے قربانی ناجائز نہ ہو گی کہ میت کی طرف سے قربت ہو سکتی ہے ۔ “(فتاوی امجدیہ ،کتاب الاضحیۃ ، جلد 3، صفحہ306، مطبوعہ مکتبہ رضویہ ، کراچی )
مزید فتاویٰ امجدیہ میں ہے:
”قربانی میں شرکت کے لیے نیت ِ تقرب شرط ہے اور میت کی طرف سے نیت ِ تقرب ہو سکتی ، لہٰذا شرکت بھی ہو سکتی ہے ۔ “ (فتاوی امجدیہ ،کتاب الاضحیۃ ، جلد 3، صفحہ 308، مطبوعہ مکتبہ رضویہ ، کراچی )
فتاوٰی رضویہ میں ہے :
” شیرینی یاکھانا فقراء کوکھلائیں ، تو صدقہ ہے اور اقارب کو تو صلہ رحم اور احباب کو تو ضیافت اور یہ تینوں باتیں موجب نزول رحمت ودفع بلاومصیبت ہیں ۔۔۔یہی حال بکری ذبح کرکے کھلانے کاہے ۔ “(فتاوٰی رضویہ،ج24،ص186-185،رضافاونڈیشن،لاھور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
17ذی القعدہ 1445ھ24 جون 2024ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری