سوشل میڈیا پر گالیوں پر مبنی نغمے گانے والا مولوی

سوشل میڈیا پر گالیوں پر مبنی نغمے گانے والا مولوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ آجکل سوشل میڈیا پر ایک مولوی ہے جو گالی گلوچ نغموں میں کرتا ہے اور بچیوں کے اسکول کی تعلیم کے خلاف بولتا ہے۔ شرع اس حوالے سے کیا کہتی ہے کیا کسی فاسق کو بھی یوں گانوں کی صورت میں گالیاں نکالنے کی اجازت ہے اور جو بچی اسکول جائے اس پر اور اس کے والدین پر طعن کرنا شرعا کیا درست ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

دینِ اسلام اور علمائے دین کو جس طرح کفار نے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اسی طرح کچھ جاہل اور حالات سے ناآشنا مولوی صاحبان نے بھی اپنے کردار و قول سے نقصان پہنچایا ہے۔انہی مولویوں میں سے ایک چھوٹا سا ٹولہ سوال میں مذکور لوگوں کا ہے جو انتہائی بدزبان ہیں۔ پہلے ویڈیو بنوانے والے علمائے اہل سنت کو کافر کہتے تھے اور نعت خوانی پر بھی طعن کرتے تھے کہ یہ گانوں کی طرز پر ہوتی ہیں ،اب خود مووی بھی بنواتے ہیں اور گانوں کی طرز پر ہی نغمے بھی گاتے ہیں ۔ ایسی ہی لوگوں کے متعلق حدیث پاک میں ہے”ھلک المتنطعون“ترجمہ: گفتگو میں شدت اختیار کرنے والے ہلاک ہُوئے۔ ( سنن ابی داؤد، باب فی لزوم السنۃ ،جلد4،صفحہ201،المكتبة العصرية،بيروت)

اسکول کی تعلیم کے حوالے سے ابھی تک ا س ٹولے کا یہی موقف ہے یہ جائز نہیں بلکہ اسے کفر تک کہتے ہیں اور بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے تو بہت سخت کلمات کہتے ہیں جو اخلاقیات کے منافی ہونے کے ساتھ شرعا بھی درست نہیں ،یہی وجہ ہے کہ ان نغموں پر کثیر لوگوں علماء حضرات پر سخت تنقید کررہے ہیں اور اس جاہل کو پتہ نہیں ،وہ گانوں میں مگن ہے اور ان گالیوں کو ثواب سمجھ رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی تعلیم حاصل کرنا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک مسلمان مرد و عورت پر فرائض و واجبات کا علم حاصل کرنا بھی فرض و واجب ہے لیکن یہ مطلب نہیں کہ دنیاوی تعلیم سیکھنا مطلقا ناجائزو حرام ہے ۔بلکہ علمائے کرام نے صراحت کی ہے کہ شرعی لازم علم سیکھنے کے بعد دنیاوی علم حاصل کرنا جائز ہے بلکہ اچھی نیت ہو تو ثواب بھی ہے۔ ویسے بھی ذی شعور احباب جانتے ہیں کہ ہمارے جامعات و مدارس میں بنیادی تعلیم اردو بول چال اور لکھنے کی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ کم ازکم پرائمری تک بچہ یا بچی تعلیم حاصل کرکے ہی دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیتے ہیں۔ بلکہ فی زمانہ کثیر مدارس میں دنیاوی تعلیم بھی ضمنا پڑھائی جارہی ہے۔باقی دنیاوی تعلیم میں جو کچھ غیر شرعی باتیں ہیں یا اسکولوں میں بے حیائی ہوتی ہے اس کی کوئی بھی مسلمان غیر ت مند شخص اجازت نہیں دیتا ،لیکن کئی اسکولوں میں دنیاوی تعلیم میں موجود غیر شرعی باتوں کی نشاندہی کرکے ہی دنیاوی تعلیم پڑھائی جاتی ہے اور ہر طرح کی بے حیائی و اختلاط سے دور رکھا جاتا ہے۔ اس لیے بجائے اسکولوں میں رائج غلط باتوں کی نشاندہی کرنے کے مطلقا اسکول کی تعلیم ہی کو ناجائز و حرام بلکہ کفر کہنا اور والدین کو گالیاں دینایہ شرعا و اخلاقا درست نہیں،بلکہ ان گالیوں کو ثواب سمجھنا تو سخت حرام اور دین و علماء کو بدنام کرنا ہے۔تاریخ شاہدہے کہ علمائے اسلاف کو دینی تعلیم کے ساتھ اپنے وقت کے رائج دنیاوی علوم پر بھی عبور تھا بلکہ کئی صحابیات ودیگر ہستیاں بھی دنیاوی علوم سے واقف تھیں۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے

”طلب العلم فريضة بقدر الشرائع وما يحتاج إليه لأمرلابدمنه من أحكام الوضوءوالصلاة وسائر الشرائع ولأمور معاشه وما وراء ذالك ليس بفرض فإن تعلمها فهو أفضل وإن تركها فلا إثم عليه كذا في السراجية“

ترجمہ:اور اس قدر شرعی علم حاصل کرنا کہ جس کا انسان محتاج ہو ان میں سے احکام وضو ،اور نماز اور( تمام شریعت جس کی حاجت ہے)اور امور معاش کا علم حاصل کرنا ضروری ہے اور جو اس سے زائد ہو یعنی کہ فرض نہیں ہے اس کا علم حاصل کرنا افضل ہے اور ترک پر کوئی گناہ نہیں ہے جیسا کہ سراجیہ میں مذکور ہے۔(الفتاوى الهندية،ج5،ص:377، دار الفکر بیروت)

امام اہلسنت مجدددین وملت امام احمدرضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’ذی علم مسلمان اگر بہ نیت ردِنصاری انگریزی پڑھے اجر پائے گااور دنیا کے لئے صرف زبان سیکھنے یا حساب اقلیدس جغرافیہ جائز علم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہو کر اپنے دین وعلم سے غافل نہ ہوجائے ورنہ جو چیز اپنا دین وعلم بقدرِ فرض سیکھنے میں مانع آئے حرام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج23،ص533،رضا فائونڈیشن،لاہور)

مزیدایک جگہ فرماتے ہیں:

”ان ضروریات اور قرآن عظیم پڑھنے کے بعد پھر اگر اردو یاگجراتی کی دنیوی کتاب جس میں کوئی بات نہ دین کے خلاف ہو نہ بے شرمی کی، نہ اخلاق وعادات پر برااثر ڈالنے کی، اور پڑھانے والی عورت سنی مسلمان پارسا(نیک)حیادار ہوتو کوئی حرج نہیں، واللہ تعالیٰ اعلم۔“( فتاوی رضویہ جلد 23،صفحہ 693،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے جب دنیاوی تعلیم کے کوچنگ سینٹر کھولنے سے متعلق سوال ہو ا تو آپ نے جوابا ارشاد فرمایا:

’’اگر کوچنگ سینٹر کے نصاب یا طریقۂ تعلیم کی اصلاح کرلی جائے جس کو فتوی رضویہ کے حوالہ سے ہم نے ذکر کیا ہے اور غریب مسلمانوں کی مدد ان دنیاوی علوم کے سلسلہ میں کی جائے تاکہ ان پر رزق کی کشائش کے دروازے کھلیں تو یہ عمل بھی باعث اجر ہو گا۔حدیث شریف میں ہے:انما الاعمال بالنیات۔“ (فتاوی بحرالعلوم جلد 5ص147مطبوعہ ضیاء اکیڈیمی)

صحیح بخاری میں ہے:

”أن النبي صلى الله عليه و سلم قال: “سباب المسلم فسوق“

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےارشاد فرمایا :مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے۔ (صحيح البخاري ، کتاب الایمان، ج01، ص19،دار طوق النجاۃ)

جامع ترمذی میں ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’ لیس المؤمن بالطعان ولااللعان ولاالفاحش ولاالبذی‘‘

ترجمہ:مومن نہ طعن کرنے والاہوتاہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش بکنے والا اور نہ بیہودہ ہوتاہے۔ (جامع ترمذی ،کتاب البر والصلہ ،باب ماجاء فی اللعنۃ ،جلد2،صفحہ462،مطبوعہ لاھور)

صحیح مسلم میں ہے

”وعن ابی الدرداء قال سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول ان اللعانین لایکونون شھداء ولا شفعاء یوم القیامة“

ترجمہ: حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا : بہت لعن طعن کرنے والے قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے نہ شفیع۔(صحیح مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب، باب النّہی عن لعن الدّواب وغیرہا، ص258، الحدیث2598 ، مطبوعہ کراچی)

مراة المناجیح میں ہے:

”یعنی امت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم روز قیامت گزشتہ انبیاءکرام کی گواہ بھی ہوگی کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ فرما دی اور گنہگاروں کی شفیع بھی مگر جو مسلمان لعن و طعن کا عادی ہوگا وہ ان دونوں نعمتوں سے محروم رہے گا لہذا دنیا میں لعن طعن کے عادی نہ بنو۔۔۔۔۔یعنی یہ عیوب سچے مسلمان میں نہیں ہوتے اپنے عیب نہ دیکھنا دوسرے مسلمانوں کے عیب ڈھونڈھنا ہر ایک کو لعن طعن کرنا اسلامی شان کے خلاف ہے یہ حدیث بہت جامع ہے۔بعض لوگ جانوروں کو،ہوا کو،گالیاں دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔بعض لوگ گالی پہلے دیتے ہیں بات پیچھے کرتے ہیں سب لوگ اس سے عبرت پکڑیں۔“ (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6 ، حدیث 4820 ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

فتاوٰی رضویہ میں ہے:”کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذن شرعی گالی دیناحرام قطعی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:”سباب المسلم فسوق رواہ البخاری ومسلم”۔“(فتاوٰی رضویہ، ج 21، ص 128-127، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوٰی رضویہ میں مذکور ہے:” کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادینا حرام ہے اور گالی دینا سخت حرام ہے اور بعض گالیاں تو کسی وقت حلال نہیں ہوسکتی اور ان کا دینے والا سخت فاسق اور سلطنت اسلامیہ میں اسی (80)کوڑوں کا مستحق ہو تا ہے ، ان سے ہلکی گالی بھی بلاوجہ شرعی حرام ہے۔ “ (فتاوٰی رضویہ، ج 06، ص 538، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک مقام پر اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” جو چیز گائی جائے معصیت پرمشتمل ہو ،مثلافحش یاکذب یا کسی مسلمان یا ذمی کی ہجو یا شراب وزنا وغیرہ فسقیات کی ترغیب یا کسی زندہ عورت خواہ امردکی بالیقین تعریف حسن یا کسی معین عورت کا اگرچہ مردہ ہو ایسا ذکر جس سے اس کے اقارب احبا کو حیا وعار آئے۔۔۔۔۔ ۔تینوں صورتیں ممنوع ہیں ۔“(فتاوی رضویہ، جلد24،صفحہ 83، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)

سنن ابو داؤد میں ہے

”عن الشفاء بنت عبد الله، قالت:” دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا عند حفصة، فقال لي:” الا تعلمين هذه رقية النملة كما علمتيها الكتابة“

ترجمہ:شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” نملہ کا دم اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے۔(سنن ابو داؤد ، جلد 4 ، صفحہ 15، حدیث 3887 ، مطبوعہ کراچی)

شرح الزرقانی میں ہے

”عن عروة انه قال لھا یاامتاہ لااعجب من فقھك اقول زوجة رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم وابنة ابی بکر و لااعجب من علمك بالشعر وایام الناس اقول ابنة ابی بکر وکان اعلم او من اعلم الناس به ولکن اعجب من علمك بالطب کیف ھو وقالت ای عریة ان رسول صلی الله علیه وسلم کان یسقم وفی لفظ کثرت اسقامه عند آخر عمرہ فکانت تقدم علیه وفود العرب من کل وجه فتنعت له الانعامات وفی لفظ وکانت اطباء العرب والعجم ینعوته وکنت اعالجھا“

ترجمہ:حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے عرض کیا کہ اے اماں جان! مجھے آپ کے علم فقہ پر کوئی تعجب نہیں کیونکہ آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی زوجیت کا شرف پایا ہے اور آپ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہے اور اسی طرح مجھے اس پر بھی کوئی تعجب نہیں ہے کہ آپ کو اس قدر زیادہ عرب کے اشعار کیوں اور کس طرح یاد ہو گئے؟ اس لئے کہ میں جانتا ہوں کہ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اس کو جاننے والے ہیں۔ لیکن میں اس بات پر بہت ہی حیران ہوں کہ آخر یہ طبی معلومات کیسے حاصل ہوئی ؟یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہانے فرمایا اے عروہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم اپنی آخری عمر شریف میں اکثر علیل ہو جایا کرتے تھے اور وفود عرب آپ کے پاس آکر دوائیں تجویز کیا کرتے تھے یا یہ الفاظ ہیں کہ عرب و عجم کے اطباء آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے لئے دوائیں تجویز کرتے تھے اور میں ان دواؤں سے آپ کا علاج کیا کرتی تھی۔(شرح الزرقانی المواھب للدینیہ ، جلد 4، صفحہ 390، دار الکتب العلمیہ بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

02 محرم الحرام 1446ھ09 جولائی 2024ء

نظرثانی و ترمیم:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں