دوسجدوں کے درمیان دعا مانگنا
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دو سجدوں کے درمیان کی دعا امام کا مانگنا کیسا ہے؟بینوا توجروا۔بیان فرما کر اجر پائیے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
دو سجدوں کے درمیان کی حالت کو جلسہ کہتے ہیں اور جلسہ میں امام، مقتدی اور منفرد سب کو ”اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِي“ کہنا مستحب ہے (چاہے نماز فرض ہو یا واجب، سنت ہو یا نفل) البتہ فرض نماز میں طویل دعا امام، مقتدی اور منفرد سب کے لیے مکروہ و خلاف سنت ہے، بالخصوص امام کو (چاہے نماز فرض ہو یا نفل) طویل اذکار پڑھنا قطعاً منع ہیں جبکہ مقتدیوں پر گراں گزرے، لیکن منفرد اور وہ امام کے جس کے مقتدی بوجھ محسوس نہ کریں تو حرج نہیں۔
رد المحتار میں ہے:
”قال أبو يوسف: سألت الإمام: أيقول الرجل إذا رفع رأسه من الركوع والسجود: اللهم اغفر لي؟ قال: يقول ربنا لك الحمد وسكت، ولقد أحسن في الجواب؛ إذ لم ينه عن الاستغفار، نهر وغيره.
أقول: بل فيه إشارة إلى أنه غير مكروه؛ إذ لو كان مكروهاً لنهى عنه، كما ينهى عن القراءة في الركوع والسجود، وعدم كونه مسنوناً لا ينافي الجواز كالتسمية بين الفاتحة والسورة، بل ينبغي أن يندب الدعاء بالمغفرة بين السجدتين خروجاً من خلاف الإمام أحمد لإبطاله الصلاة بتركه عامداً، ولم أر من صرح بذلك عندنا، لكن صرحوا باستحباب مراعاة الخلاف“
ترجمہ: امام ابویوسف علیہ الرحمہ نے فرمایا: میں نے امام اعظم علیہ الرحمہ سے پوچھا: کیا کوئی شخص قومہ و جلسہ میں اللهم اغفر لي کہہ سکتا ہے، تو امام اعظم علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا: ربنا لك الحمد، کہے پھر خاموش ہو جائے، تحقیق امام اعظم علیہ الرحمہ نے عمدہ جواب دیا؛ اس لیے کہ استغفار سے منع نہیں کیا ہے۔ نہر وغیرہ۔
میں کہتا ہوں: بلکہ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مکروہ نہیں؛ اس لیے کہ اگر یہ عمل مکروہ ہوتا تو ضرور اس سے منع فرمادیتے، جیسے کہ رکوع و سجود میں قراءت سے منع کیا ہے، اور اس کا مسنون نہ ہونا جواز کے منافی نہیں، جیسے کہ فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم ﷲ پڑھنا، بلکہ دونوں سجدوں کے درمیان مغفرت کی دعا کرنا مستحب ہونا چاہیے امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کے اختلاف سے بچنے کے لیے؛ اس لیے کہ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کے نزدیک جلسہ میں جان بوجھ کر دعا چھوڑنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے، اور میں نے اپنے ائمہ میں سے کسی کو اس کی صراحت کرتے ہوئے نہیں دیکھا، لیکن ائمہ نے رعایت اختلاف کے مستحب ہونے کی صراحت کی ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، جلد2، صفحہ261، دار المعرفۃ، بیروت)
حبلۃ المجلی میں قومہ و جلسہ کی دعاؤں کے متعلق متن کے اس قول “ولا یزید علی ھذا” کے تحت لکھا ہے:
”إن أراد الزیادۃ ماورد في السنة فینبغي أن یکون ھذا في حق الإمامة إذا خاف التثقیل علی القوم وفي حق المقتدي إذا لم یفعل الإمام ذلك أما المنفرد أو الإمام إذا کان لا یثقل علی القوم إتیانه بذلك أو المقتدي إذا کان إمامه قد أتی به فلیسوا بممنوعین من زیادتھم به علی ذلك ولا سیما المنفرد في النوافل ومن ادعی ذلك فعليه البیان”. ملتقطا“
ترجمہ: اگر زیادتی سے مراد وہ اذکار ہیں جو سنت میں وارد ہیں تو یہ حقِ امامت کے بارے میں ہوگا جبکہ مقتدیوں پر بوجھ کا خوف ہو اور مقتدی کے حق میں اس وقت ہے جب امام یہ نہ پڑھ رہا ہو، بہرحال منفرد یا وہ امام جس کے مقتدی اس کے پڑھنے کو بوجھ محسوس نہ کریں یا وہ مقتدی جس کا امام پڑھ رہا ہو تو ایسی صورت میں ان کے لیے ان اذکار کا اضافہ ممنوع نہیں، خصوصاً وہ منفرد جو نوافل پڑھ رہا ہو اور جو اسکا مدعی ہو وہ اس پر دلیل لائے۔(حلبۃ المجلی، صفۃ الصلاۃ، جلد2، صفحہ161، مطبوعہ: دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اسی کتاب میں کچھ صفحات کے بعد لکھا ہے:
”صرح مشائخنا بحمل ما في حدیث علي رضی ﷲ تعالى عنه علی النوافل علی أنه ثبت في المکتوبة فلیکن في حالة الانفراد وفي حالة کونه إماما والمأمومون محصورون لا یثقلون بذلك کما نصت علیه الشافعية ولا ضیر في التزامه“
ترجمہ: ہمارے مشائخ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حدیث کو نوافل پر محمول کیا جائے گا اس طور پر کہ اگر یہ فرائض میں ثابت ہے تو اس سے منفرد کی حالت مراد ہے کہ جب وہ تنہا فرض ادا کر رہا ہو یا امامت کی حالت میں اس وقت جب مقتدی محصور ہوں جو بوجھ محسوس نہ کریں جیسا کہ شوافع نے تصریح کی ہے اور اس کے التزام میں کوئی نقصان نہیں۔ (حلبۃ المجلی، صفۃ الصلاۃ، جلد2، صفحہ166-167، مطبوعہ: دار الکتب العلمیہ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِي کہنا امام ومقتدی و منفرد سب کو مستحب ہے اور زیادہ طویل دعا سب کو مکروہ ہاں منفرد کو نوافل میں مضائقہ نہیں۔“(فتاوی رضویہ، باب صفۃ الصلاۃ، جلد6، صفحہ183، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”قومہ و جلسہ کے اذکارِ طویلہ نوافل پر محمول ہیں و لہذا ہمارے ائمہ فرائض میں انھیں مسنون نہیں جانتے اور شک نہیں کہ فرائض میں تطویل فاحش خلاف سنّت ہے اور امام کے لئے توقطعاً ممنوع جبکہ مقتدیوں میں کسی پر بھی گراں ہو، ہاں منفرد بعض کلماتِ ماثورہ بڑھائے تو حرج بھی نہیں، یونہی امام بھی جبکہ مقتدی محصور اور سب راضی ہوں، رہا مقتدی وہ آپ ہی اتباعِ امام کرے گا، اگر امام کہے، کہے ورنہ نہیں۔“(فتاوی رضویہ، باب صفۃ الصلاۃ، جلد6، صفحہ170، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”اذکار جو احادیث میں وارد ہیں، وہ سب نفل کے لیے ہیں۔“(بہار شریعت، نماز پڑھنے کا طریقہ، جلد1، صفحہ523، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم
کتبه
ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی
نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری
️مؤرخہ 05 محرم الحرام 1446ھ بمطابق 12جولائی 2024ء، بروز جمعۃ المبارک