خصی بکرے کی قربانی

خصی بکرے کی قربانی

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ جس جانور کو عضو کاٹ کر خصی کیا گیا ہو اس کی قربانی کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب

خصی جانور کی قربانی کرنا جائز ہے کیونکہ خصی جانور کا گوشت بنسبت دوسرے جانور کے زیادہ لذیذ اور زیادہ اچھا ہوتا ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے

” ذبح النبي صلى الله عليه واله وسلم يوم الذبح کبشین اقرنین املحین موجوئین“

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قربانی کے دن دو سینگ والے چتکبر خصی مینڈوں کو ذبح فرمایا۔(سنن ابی داؤد جلد 2صفحہ 38مطبوعہ لاہور )

فتاوی عالمگیری میں ہے

” ويجوز المجبوب العاجز عن الجماع “

ترجمہ:عضو کٹے جفتی سے عاجز جانور کی قربانی جائز ہے ۔(فتاویٰ ہندیہ جلد 5صفحہ567)

محیط برھانی میں ہے

” الخصي افضل من الفحل لانه اطيب لحما“

ترجمہ:خصی جانور کی قربانی فحل کی قربانی سے افضل ہے کیونکہ اس کا گوشت زیادہ عمدہ ہوتا ہے۔(محیط برھانی جلد6صفحہ479)

فتاوی رضویہ میں ہے:

” خصی جانور کی قربانی جائز ہے کہ اس کی کمی سے جانور میں عیب نہیں آتا بلکہ اس کا وصف اور بڑھ جاتا ہے کہ خصی کا گوشت فحل کی بنسبت زیادہ اچھا ہوتا ہے۔“(فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ458)

ھذاماعندی والعلم بالحق عنداللہ

کتبہ

محمدعاصم القادری(ممبر فقہ کورس: الرضا قرآن وفقہ اکیڈمی) 

6ذوالقعدہ1445

نظر ثانی

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں