بیوی کے کفن و دفن کا خرچہ کس پر لازم ہے؟

بیوی کے کفن و دفن کا خرچہ کس پر لازم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اگر بیوی کا انتقال ہو جائے تو اس کے کفن دفن کا خرچ شوہر پر ہوگا یا اس کے مال سے کیا جائے گا؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بیوی کے کفن کا خرچ شوہر پر ہے اگرچہ بیوی نے اپنامال چھوڑا ہو۔ اسی طرح اس میں باقی سامان تجہیز ،غسال اور لے جانے والوں کی اجرت اور دفن کے مصارف بھی شوہر کے ذمہ ہونگے۔

فتاوی ہندیۃ میں ہے

”یجب الکفن علی الزوج وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویٰ“

ترجمہ:بیوی کا کفن شوہر پر واجب ہے اگرچہ بیوی نے اپنا مال چھوڑا ہو اور اسی پر فتویٰ ہے۔(فتاویٰ ھندیہ ،کتاب الصلاۃ، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، جلد 1 صفحہ 141، مطبوعہ کوئٹہ)

تنویر الابصار شرح درالمختار میں ہے

”کفن من مال علی من تجب علیه نفقته واختلف فی الزوج والفتوی علی وجوب کفنھا علیہ وان ترکت مالا“

ترجمہ:جس کا کفن نہ ہو مال نہ ہونے کی وجہ سے تو جس پر اس کا نفقہ واجب ہے کفن بھی اس کے ذمہ ہے اور خاوند کے متعلق اختلاف ہے ۔فتویٰ اس پر ہے کہ بیوی کا کفن اس پر واجب ہے اگرچہ بیوی نے اپنا مال چھوڑا ہو۔(درالمختار ، کتاب الصلوة ، باب صلوة الجنائز ، جلد 1 صفحہ 121، مطبوعہ بیروت)

ردالمختار میں ہے

” الواجب علیہ تکفینھا و تجھیزھا الشرعیان من کفن السنة و الکفایة وحنوط و اجرة غسل و حمل و دفن“

ترجمہ: خاوند پر بیوی کی تکفین و تجہیز شرعی ، شوہر پر واجب ہے جو کفن سنت یا کفن کفایہ ہو اور حنوط ، غسل کی مزدوری جنازہ لے جانے اور دفن کا خرچہ شوہر پر واجب ہے۔(ردالمختار ، کتاب الصلوة ، باب صلوة الجنائز ، جلد 1 صفحہ 581، دار احیاء التراث العربی بیروت)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”عورت کاکفن دفن شوہرپرواجب ہے،اسے عورت کے ترکہ سےنہیں کرسکتا۔“(فتاوی رضویہ ،ج 26،ص 312، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

مزید فتویٰ رضویہ میں ہے :

” اگر اس نے مال نہ چھوڑا تو زندگی میں جس پر اُس کا نفقہ واجب تھا وہ دے اور عورت کا کفن مطلقاً شوہر پر ہے اگرچہ اس نے ترکہ چھوڑا ہو۔ “(فتاوی رضویہ ،ج 03،ص 542، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

فتویٰ رضویہ میں ہے:

”زوجہ اگرچہ غنیہ ہو اس کا کفن دفن شوہر پر ہے ۔“فتاویٰ رضویہ ، جلد 23 ، ص 612 رضافاٶنڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے :

” عورت نے اگرچہ مال چھوڑا اُس کا کفن شوہر کے ذمہ ہے بشرطیکہ موت کے وقت کوئی ایسی بات نہ پائی گئی جس سے عورت کا نفقہ شوہر پر سے ساقط ہو جاتا، اگر شوہر مرا اور اس کی عورت مالدار ہے، جب بھی عورت پر کفن واجب نہیں ۔۔۔۔۔ جو کہا گیا کہ فلاں پر کفن واجب ہے اس سے مراد کفنِ شرعی ہے۔ یوہیں باقی سامانِ تجہیز مثلاً خوشبو اور غسال اور لے جانے والوں کی اُجرت اور دفن کے مصارف، سب میں شرعی مقدار مراد ہے۔ باقی اور باتیں اگر میّت کے مال سے کی گئیں اور ورثہ بالغ ہوں اور سب وارثوں نے اجازت بھی دے دی ہو تو جائز ہے، ورنہ خرچ کرنے والے کے ذمہ ہے۔“(بہار شریعت ، جلد 1 ، حصہ 4 ، صفحہ 825 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

25محرم الحرام 1446ھ31 جولائی 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں