بیوی کا علاج شوہر پر واجب ہے یا نہیں؟

بیوی کا علاج شوہر پر واجب ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا بیوی کا علاج کروانا شوہر پر واجب ہے ؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شوہر پر بیوی کی دوائی اور ڈاکٹر کی فیس وغیرہ شرعا واجب نہیں ہے لیکن جس طرح دوسرے کام بھی جو فریقین بغیر وجوب کے استحسانا کرتے ہیں اسی طرح فی زمانہ علاج ومعالجہ بھی انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے جو اگرچہ شوہر پر واجب نہیں لیکن حسن معاشرت کے تحت اسے یہ بھی اخراجات برداشت کرنے چاہئیں۔

الجوھرة النیرة میں ہے

”ولا یجب علیه الدواء للمرض ولا اجرة الطبیب ولا الفصاد ولا الحجام“

ترجمہ:شوہر پر بیوی کے مرض کے لیے دوائی لینا اور نہ طبیب کی اجرت اور نہ فصد اور نہ حجامہ کروانے کی اجرت دینا واجب ہے۔(الجوھرة النیرة ، کتاب النفقات ، جلد 2 ، صفحہ 236 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

ردالمختار میں ہے

” لا الدواء للمرض ولا اجرة الطبیب ولا الفصاد ولا الحجام“

ترجمہ:مرض کے لیے دوائی لینا اور نہ طبیب کی اجرت اور نہ فصد اور نہ حجامہ کروانے کی اجرت دینا لازم نہیں ہے۔ (ردالمختار ، کتاب الطلاق ، باب النفقہ، جلد 5 صفحہ 294، دار المعرفۃ بیروت)

بہار شریعت میں ہے :

”عورت بیمار ہو تو اُس کی دوا کی قیمت اور طبیب کی فیس شوہر پر واجب نہیں ۔ فصد یا پچھنے کی ضرورت ہو تو یہ بھی شوہر پر نہیں ۔“(بہار شریعت، جلد 2 ،حصہ 8، صفحہ 266 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

فتاویٰ قاضيخان میں ہے

”وھذاکلہ في عرفهم أما في عرفنا نفقة المرأة تختلف بأحوال الناس“

ترجمہ:پس یہ سب ہمارے عرف کے اعتبار سے ہے پس ہمارے عرف میں عورت کا نفقہ لوگوں کے احوال مختلف ہونے سے تبدیل ہوتا رہے گا۔ (قاضيخان ، جلد 2 صفحہ 254 ، دار الفکر بیروت)

الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے

”نفقات العلاج: قرر فقهاء المذاهب الأربعة أن الزوج لايجب عليه أجور التداوي للمرأة المريضة من أجرة طبيب وحاجم وفاصد وثمن دواء، وإنما تكون النفقة في مالها إن كان لها مال، وإن لم يكن لها مال، وجبت النفقة على من تلزمه نفقتها؛ لأن التداوي لحفظ أصل الجسم، فلا يجب على مستحق المنفعة، كعمارة الدار المستأجرة، تجب على المالك لا على المستأجر، وكما لا تجب الفاكهة لغير أدم. ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالبا إلى العلاج؛ لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية، فاجتهاد الفقهاء مبني على عرف قائم في عصرهم. أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج كالحاجة إلى الطعام والغذاء، بل أهم؛ لأن المريض يفضل غالبا ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟! لذا فإني أرى وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية، ومثل وجوب نفقة الدواء اللازم للولد على الوالد بالإجماع، وهل من حسن العشرة أن يستمتع الزوج بزوجته حال الصحة، ثم يردها إلى أهلها لمعالجتها حال المرض؟“

ترجمہ:مذاہب اربعہ كے فقھاء كرام كا فيصلہ ہے كہ خاوند پر اس كى بيمار بيوى كے علاج معالجہ اور ڈاكٹر اور حجام كى فيس اور دوائى كى قيمت واجب نہيں ہے، بلكہ اس كى قيمت اور اجرت تو بيوى كے ذاتى مال سے ادا كى جائيگى، اور اگر بيوى كے پاس مال نہيں تو پھر اس شخص كے ذمہ ہوگا جس كے ذمہ اس كا نان و نفقہ واجب ہے مثلا بيٹا اور باپ اور اس كے ورثاء ميں جو وارث بنتے ہوں كيونكہ علاج معالجہ تو جسم كے اصل كى حفاظت ہے اس ليے فائدہ و منفعت كے مستحق شخص پر واجب نہيں ہوگا، جيسا كہ كرايہ پر حاصل كى گئى عمارت كا خرچ عمارت كے مالك پر ہے نہ كہ كرايہ دار پر مجھے يہى محسوس ہوتا ہے كہ ماضى ميں علاج معالجہ اساسى حاجت نہ تھى، اس ليے انسان غالبا علاج كا محتاج نہ تھا، كيونكہ وہ صحت و پرہيز كے اصول و قواعد كا التزام كيا كرتا تھا، چنانچہ فقھاء كرام كا اجتھاد ان كے اپنے دور كے عرف پر مبنى ہے۔

ليكن اب اس دور ميں علاج معالجہ كى ضرورت تو كھانے پينے كى ضرورت و حاجت بن چكى ہے، بلكہ اس سے بھى اہم ہے؛ كيونكہ مريض ہر علاج كے ليے استعمال كى جانے والى چيز كو ہر چيز پر فضيلت ديتا ہے، اور كيا اسے تكليف ہو اور درد سے كراہ رہا ہو تو كيا وہ كھانا كھائيگا ؟

اس ليے ميرى رائے تو يہى ہے كہ علاج معالجہ كے اخراجات خاوند پر اسى طرح واجب ہيں جس طرح دوسرا ضرورى نفقہ واجب ہے۔ كيا يہ حسن معاشرت اور حسن سلوك ہے كہ جب بيوى تندرست ہو تو خاوند اس سے استمتاع و فائدہ اٹھائے، اور جب بيمار ہو جائے تو اسے علاج معالجہ كے ليے ميكے بھيج دے؟ (الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي، جلد 10 ، صفحہ 7380 ، مطبوعہ بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

04صفر الضفر 1446ھ12 اگست 2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں