اُم المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نمازِجنازہ

اُم المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نمازِجنازہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جنازہ نہیں پڑھا گیا تھا؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی تھی کیونکہ آپ رضی اللہ عنھا کے وصال کے وقت نماز جنازہ مشروع نہیں ہوئی تھی۔ آپ کا وصال رمضان المبارک میں اعلان نبوت کے دسویں سال ہوا جبکہ نماز جنازہ مدینہ منورہ میں ہجری کے پہلے سال مشروع ہوئی ۔لہٰذا آپ کی نماز جنازہ کسی نے ادا نہیں کی اور بغیر نمازجناز ہ کے آپ کو دفن کردیا گیا ۔ خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی لحد میں اترے تھے۔

أوجز المسالك میں ہے

”وفي الأنوار الساطعة: شرعت صلاة الجنازة بالمدینة المنورة في السنة الأولیٰ من الهجرة“

ترجمہ:انوار الساطعہ میں ہے کہ نماز جنازہ مدینہ منورہ میں ایک سن ہجری کو مشروع ہوئی تھی۔(أوجز المسالك ، جلد 2 ، صفحہ 421، دار القلم بیروت)

الطبقات الکبری میں ہے

”عن أبي حبيبة،مولى الزبير قال سمعت حكيم بن حزام يقول : توفيت خديجة بنت خويلد في شهر رمضان سنة عشر من النبوة وهي يومئذ بنت خمس وستين سنة فخرجنا بها من منزلها حتى دفناها بالحجون ونزل رسول الله صلى الله عليه وسلم في حفرتها ولم تكن يومئذ سنة الجنازة الصلاة عليها“

ترجمہ:ابو حبیبہ مولی زبیر سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے سنا حکیم بن حزام سے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کا وصال رمضان میں اعلان نبوت کے دسویں سال ہوا اس وقت آپ کی عمر 65 سال تھی۔ پس آپ کو آپ کے مکان سے لے جایا گیا اور آپ کو دفن کیاگیا اور آپ کی لحد میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اترے تھے۔ اس سال جنازہ مشروع نہیں تھا لہذا آپ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔(الطبقات الکبری، جلد 8 صفحہ 18 ، دار صادر بیروت)

حاشیة الطحطاوی میں ہے

”لم تکن شرعت یوم موت خدیجة، وموتہا رضی اللہ عنہا بعد النبوة بعشر سنین علی الاصح“

ترجمہ:حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے وصال کے دن تک نماز جنازہ مشروع نہیں ہوئی تھی اور آپ کی وفات اصح قول کے مطابق اعلان نبوت کے دسویں سال ہوئی۔ (حاشیة طحطاوی علی المراقی، صفحہ 580، مطبوعہ بیروت)

البدایۃ والنھایۃمیں ہے:

”قال عروة بن الزبير: وقد كانت خديجة توفيت قبل أن تفرض الصلاة“

ترجمہ:حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کا وصال نماز فرض ہونے سے پہلے ہوا تھا۔(البدایۃ والنھایۃ، فصل موت خديجة بنت خويلد وذكر شئ من فضائلها ومناقبها رضي الله عنه وأرضاها، جلد 3، صفحہ 156، دار احیاء التراث بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبرفقہ کورس

10صفر المضفر 1446ھ15 اگست 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں