چھپکلی کی بیٹ کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چھپکلی کی بیٹ اگر پانی میں گر جائے تو پانی پاک ہے یا ناپاک یونہی کپڑوں پر لگ جائے تو کپڑے پاک ہوں گے یا ناپاک؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
چھپکلی کی بیٹ نجاست غلیظہ ہے اور کپڑوں پر لگنے سے کپڑے ناپاک ہوجائیں گے اور اگر پانی میں گر جائے تو پانی کو بھی ناپاک کر دے گی۔ کیونکہ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ پرندوں کے علاوہ ہر جانور کی بیٹ اور گوبر نجاست غلیظہ ہے ۔
درمختار میں ہے:
”(و خرء) كل طير لايذرق في الهواء كبط أهلي (و دجاج)۔۔۔۔ (و روث وخثي) أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان غير الطيور“
ترجمہ: ہر اس پرندے کی بیٹ جو ہوا میں اونچا نہ اڑتا ہو جیسے گھر کی بطخ اور مرغی اور گوبر اور بیٹ۔ ان دونوں سے یہ فایدہ حاصل ہوا کہ پرندوں کے علاوہ ہر جانور کی بیٹ نجس ہے ۔
اسکے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”(قوله: أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان) أراد بالنجاسة المغلظة“
ترجمہ:مصنف کا قول( ان دونوں سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ پرندوں کے علاوہ ہر جانور کی بیٹ نجس ہے) مصنف نے اس سے نجاست غلیظہ مراد لی ہے۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الطهارة،باب الأنجاس،جلد1،صفحہ318_320،دارالفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
” نجاست خفیفہ اور غلیظہ کے جو الگ الگ احکام بتائے گئے یہ اسی وقت ہیں کہ بدن یا کپڑے میں لگے اور اگر کسی پتلی چیز جیسے پانی یا سرکہ میں گرے تو چاہیے غلیظہ ہو یا خفیفہ کل ناپاک ہو جائے گی اگرچہ ایک قطرہ گرے جب تک وہ پتلی چیز حد کثرت پر یعنی دہ دردہ نہ ہو ۔“(بہار شریعت ،جلد 1 حصہ 2 ، ص390 ،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبہ:
انتظار حسین مدنی کشمیری
مؤرخہ 24 جنوری 2023 بروز منگل