چوتھی رکعت میں قیام بھول کر رکوع کرنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی فرضوں کی 4 رکعت میں کھڑا ہونا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا قومہ بھی کر لیا اب یاد آیا کے میں نے تو 4رکعت میں کھڑا ہی نہیں ہوا، اب 4رکعت میں کھڑا ہوا پھر رکوع کیا قومہ کیا اور آخر میں سجدہ سہو کیا نماز درست ہوگئی ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بيان کردہ صورت میں نماز درست ہوگی، کیونکہ چوتھی رکعت کا قیام فرض تھا اور رکوع میں جانے اوراس کے بعد دوبارہ قیام کی طرف آنے میں فرض میں تاخیر ہوئی تو سجدہ سہو لازم ہوا۔ جب قیام کی طرف لوٹا تو پہلے والا رکوع معدوم ہو گیا ،اس لیے دوبارہ رکوع کرنابھی لازم ہوا۔
امام علاءالدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں
”وَأَمَّا بَيَانُ سَبَبِ الْوُجُوبِ فَسَبَبُ وُجُوبِهِ تَرْكُ الْوَاجِبِ الْأَصْلِيِّ فِي الصَّلَاةِ، أَوْ تَغْيِيرُهُ أَوْ تَغْيِيرُ فَرْضٍ مِنْهَا عَنْ مَحَلِّهِ الْأَصْلِيِّ سَاهِيًا؛ لِأَنَّ كُلَّ ذَلِكَ يُوجِبُ نُقْصَانًا فِي الصَّلَاةِ فَيَجِبُ جَبْرُهُ بِالسُّجُودِ“
ترجمہ: سجدہ سہو کے واجب ہونے کا سبب بھول کر نماز میں واجب اصلی کا چھوٹ جانا، یا اس میں تبدیلی ہے یا فرض کو اس کے اصل مقام سے ہٹا دینا ہے کیونکہ یہ سب امور نماز میں کمی کا باعث بنتے ہیں تو سجدہ سہو ذریعے ان کی تلافی واجب ہے۔[الكاساني ,بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ,1/164]
مزید لکھتےہیں
”أَنَّ الَّذِي وَقَعَ السَّهْوُ عَنْهُ لَا يَخْلُو أَمَّا إنْ كَانَ مِنْ الْأَفْعَالِ، وَأَمَّا إنْ كَانَ مِنْ الْأَذْكَارِ، إذْ الصَّلَاةُ أَفْعَالٌ وَأَذْكَارٌ، فَإِنْ كَانَ مِنْ الْأَفْعَالِ بِأَنْ قَعَدَ فِي مَوْضِعِ الْقِيَامِ أَوْ قَامَ فِي مَوْضِعَ الْقُعُودِ سَجَدَ لِلسَّهْوِ لِوُجُودِ تَغْيِيرِ الْفَرْضِ، وَهُوَ تَأْخِيرُ الْقِيَامِ عَنْ وَقْتِهِ، أَوْ تَقْدِيمُهُ عَلَى وَقْتِهِ“
ترجمہ: اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نماز کے یا تو کسی فعل میں سہو لاحق ہوا ہو گا یا کسی ذکر میں کیوں کہ نماز افعال اذکار (کانام) ہے اگر تو کوئی فعل ہو مثلاً وہ قیام کی جگہ قعدہ کر دے یا قعدے کی جگہ قیام کر دے تو اسے سجدہ سہو کرنا ہوگا اس لیے کہ اس نے فرض کی جگہ تبدیل کردی ہے کیونکہ قیام کو اس کے صحیح وقت سے مقدم یا موخر کر دیا ہے۔[الكاساني ,بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ,1/164]
علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں
”وَالتَّحْقِيقُ أَنَّ تَقْدِيمَ الرُّكُوعِ عَلَى الْقِرَاءَةِ مُطْلَقًا مُوجِبٌ لِسُجُودِ السَّهْوِ، لَكِنْ إذَا رَكَعَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ، فَإِنْ أَعَادَ الرُّكُوعَ صَحَّتْ صَلَاتُهُ وَإِلَّا فَسَدَتْ. أَمَّا إذَا رَكَعَ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ أَصْلًا فَظَاهِرٌ. وَأَمَّا إذَا قَرَأَ الْفَاتِحَةَ مَثَلًا ثُمَّ رَكَعَ فَتَذَكَّرَ السُّورَةَ فَعَادَ فَقَرَأَهَا وَلَمْ يُعِدْ الرُّكُوعَ فَلِأَنَّ مَا قَرَأَهُ ثَانِيًا الْتَحَقَ بِالْقِرَاءَةِ الْأُولَى فَصَارَ الْكُلُّ فَرْضًا فَارْتَفَضَ الرُّكُوعَ “
ترجمہ : تحقیق یہ ہے کہ رکوع کو مطلق قراءت پر مقدم کرنا یہ سجدہ سہو کو واجب کرتا ہے،لیکن اس نے رکوع کیا پھر کھڑا ہوا پھر قراءت کی اگر اس نے رکوع کا ادا کیا تو اس کی نماز صحیح ہو جائے گی ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی مگر جب اصلا قراءت سے پہلے رکوع کیا تو یہ امر ظاہر ہے مگر جب مثلا اس نے سورۃ فاتحہ کی قراءت کی پھر اس نے رکوع کیا تو اسے سورۃ یاد آگئی تو وہ لوٹا اور قرات کی اور رکوع دوبارہ نہ کیا تو اس نے جو دوبارہ پڑھا تھا وہ پہلی قراءت کے ساتھ لاحق ہو جائے گا بس سب فرض ہو جائے گااور رکوع ختم ہو جائے گا جب وہ رکوع کا اعادہ نہیں کرے گا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔
[ابن عابدين ,الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ,2/80]
بہار شریعت میں ہے:
”جو فعل نماز میں مکرر ہیں ان میں ترتیب واجب ہے لہٰذا خلاف ترتیب فعل واقع ہو تو سجدۂ سہو کرے مثلاً قراء ت سے پہلے رکوع کر دیا اور رکوع کے بعد قراء ت نہ کی تو نماز فاسد ہوگئی کہ فرض ترک ہوگیا اور اگر رکوع کے بعد قراء ت تو کی مگر پھر رکوع نہ کیا تو فاسد ہوگئی کہ قراء ت کی وجہ سے رکوع جاتا رہا اور اگر بقدر فرض قراء ت کر کے رکوع کیا مگر واجب قراء ت ادا نہ ہوا مثلاً الحمد نہ پڑھی یا سورت نہ ملائی تو حکم یہی ہے کہ لوٹے اور الحمد و سورت پڑھ کر رکوع کرے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر دوبارہ رکوع نہ کیا تو نماز جاتی رہی کہ پہلا رکوع جاتا رہا تھا۔“(بہار شریعت حصہ 4 صفحہ 711 مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبہ محمد یاسر عباسی
مورخہ14/دسمبر/2022