پروپیلین گلائکول (propylene glycol) کے استعمال کا حکم

پروپیلین گلائکول (propylene glycol) کے استعمال کا حکم

کیا پروپیلین گلائکول (propylene glycol) کے استعمال کی شرعاً اجازت ہے؟

بسم الله الرحمن الرحیم

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پروپیلین گلائکول، الکوحل ہی ہے جو پرفیوم، صابن، کاسمیٹکس، پلاسٹک وغیرہ دیگر کئی صنعتوں اور کھانے پینے کی مختلف اشیاء میں استعمال ہوتا ہے، فی زمانہ کثیر علماء کرام اور متعدد فقہائے کرام نے عموم بلوی کے پیش نظر، امت کی آسانی کے لئے بیرونی استعمال کی تمام اشیاء اور کھانے پینے والی چیزوں میں صرف ادویات میں، بطور علاج الکوحل کی اجازت دی ہے، لہذا پروپیلین گلائکول سے مرکب ایسی تمام اشیاء جو بیرونی استعمال کے لئے ہیں استعمال کرنے کی اجازت ہے، اور کھانے پینے کی اشیاء میں ما سوائے ادویات کے اسکو استعمال کرنے کی شرعاً اجازت نہیں.

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمة الرحمن سے پڑیا کے اس رنگ سے متعلق سوال ہوا، جس میں اسپرٹ ملی ہوتی تھی، تو آپ نے اپنے دور میں عموم بلوی اور دفع حرج کی وجہ سے اس کے پاک ہونے کا فتوی دیا، چنانچہ آپ فرماتے ہیں : ” بادامی رنگ کی پُڑیا میں تو کوئی مضائقہ نہیں اور رنگت کی پُڑیا سے ورع کے لئے بچنا اولٰی ہے پھر بھی اس سے نماز نہ ہونے پر فتوٰی دینا آج کل سخت حرج کا باعث ہے. والحرج مدفوع بالنص وعموم البلوی من موجبات التخفیف لاسیما فی مسائل الطھارۃ والنجاسۃ۔ یعنی نص سے ثابت ہے کہ حرج دُور کیا گیا اور عموم بلوٰی اسبابِ تخفیف سے ہے خصوصاً مسائلِ طہارت اور نجاست میں۔

لہذا اس مسئلہ میں مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہما سے عدول کی کوئی وجہ نہیں ہمارے ان اماموں کے مذہب پر پُڑیا کی رنگت سے نماز بلاشبہ جائز ہے۔ فقیر اس زمانے میں اسی پر فتوٰی دینا پسند کرتا ہے.

(فتاوی رضویہ،جلد4 ، ص 390 ،رضا فاؤندیشن ، لاهور)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : ” پڑیا کی نجاست پر فتوٰی دئے جانے میں فقیر کو کلام کثیر ہے ملخص اُس کا یہ کہ پُڑیا میں اسپرٹ کا ملنا اگر(۱) بطریقہ شرعی ثابت بھی ہو تو اس(۲) میں شک نہیں کہ ہندیوں کو اس کی رنگت میں ابتلائے عام ہے اور عموم بلوے نجاست متفق علیہا میں باعث تخفیف……نہ کہ محلِ(۳) اختلاف میں جو زمانہ صحابہ سے عہدِ مجتہدین تک برابر اختلافی چلاآیا نہ کہ(۴) جہاں صاحبِ مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف کا اصل مذہب طہارت ہو اور وہی امام ثالث امام محمد سے بھی ایک روایت اور اُسی کو امام طحاوی وغیرہ ائمہ ترجیح وتصحیح نے مختار ومرجح رکھا ہو نہ کہ(۵) ایسی حالت میں جہاں اُس مصلحت کو بھی دخل نہ ہو جو متأخرین اہلِ فتوٰی کو اصل مذہب سے عدول اور روایت اخرٰی امام محمد کے قبول پر باعث ہوئی نہ کہ(۶) جب مصلحت اُلٹی اس کے ترک اور اصل مذہب پر افتا کی موجب ہو تو ایسی جگہ بلاوجہ بلکہ برخلاف وجہ مذہب مہذب صاحب مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ترک کرکے مسلمانوں کو ضیق وحرج میں ڈالنا اور عامہ مومنین ومومنات جمیع دیار واقطار ہندیہ کی نمازیں معاذاللہ باطل اور انہیں آثم ومصر علی الکبیرہ (گناہ گار اور گناہِ کبیرہ پر اصرار کرنے والا۔ ت) قرار دینا روشِ فقہی سے یکسر دُور پڑنا ہے وباللہ التوفیق۔

(فتاوی رضویه ، جلد 4 ، صفحه381 ،رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

پاک و ہند کے کئی معتمد و مستند مفتیانِ کرام الکحل آمیز اشیاء کے متعلق، متفقہ فیصلے میں فرماتے ہیں : ” اس عہد میں (اسپرٹ یا الکحل آمیز ) انگریزی دواؤں کا استعمال عموم بلوی کی حد تک بن چکا ہے…..فیصل بورڈ کے ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ مذکورہ انگریزی دواؤں کے استعمال کی بھی بوجه عموم بلوی دفع حرج کے لئے اجازت ہے، البتہ یہ اجازت انہیں صورتوں کے ساتھ خاص ہے جن میں ابتلائے عام وحرج متحقق ہو. “

(جدید مسائل پر علماء کی آرائیں اور فیصلے، دسواں فقہی سیمنار ، جلد 1 ، صفحہ 129 ، مجلسِ شرعی جامعہ اشرفیہ مبارکپور)

استاد الفقہ ، ابوالحسن مفتی محمد ہاشم خان عطاری مدنی مد ظلہ العالی فرماتے ہیں : ” فی زمانہ الکوحل ملی پرفیوم ، سیاہی، پالش ،رنگ اور شیمپو وغیرہ اشیاء کا بیرونی استعمال جائز ہے، ان کے استعمال سے کپڑے وغیرہ ناپاک نہیں ہوں گے۔ اس میں تفصیل یہ ہے کہ الکوحل اور اسپرٹ خمر نہیں ہیں اور خمر کے علاوہ نشہ آور مائع کی حرمت و نجاست میں اختلاف ہے ، اور اس طرح کے مسائل میں جب کسی ایک قول پر فتویٰ دینے کی صورت میں امت حرج وتنگی میں پڑتی ہو تو دوسرے قول پر فتویٰ دینے کی رخصت ہوتی ہے چونکہ الکوحل کی نجاست کاحکم دینے میں آجکل امت کو سخت حرج کا سامنا کرنا پڑے گا کہ خارجی استعمال کی الکحل آمیز اشیاء میں مسلمانوں کی اکثریت مبتلا ہے اور عمومِ بلویٰ اور حرج اس طرح کے مسائل میں تخفیف کا تقاضا کرتے ہیں, لہٰذا الکوحل آمیز تمام اشیاء کے خارجی استعمال میں امامِ اعظم ابوحنیفہ اور ان کے شاگرد رشید امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھما کے قول کے مطابق طہارت کافتویٰ دینا ہی مصلحت کے مطابق اور اسی میں دفع حرج اور امت کے لئے آسانی ہے. “

(فتاوی اہلسنت دعوت اسلامی غیر مطبوعہ، فتوی نمبر 6090 ، تاریخ اجراء: 11 نومبر 2016)

فتاوی اہلسنت میں ایک اور مقام پر ہے : ” سائنسی ترقیات کے اس دور میں الکحل کا استعمال نشے کے علاوہ دیگر کئی مقاصد کے لئے بہت ساری صنعتوں میں بڑے پیا نے پر ہونے لگا ہے۔ مثال صفائی ستھرائی کا سامان (Cleaning Products) ، رنگ و روغن (paints)، کاسمیٹکس (Cosmetics)، ادویات سازی (pharmaceutical) و غیرہ میں اور ایسی بے شمار چیزوں کا استعمال مسلمانوں کے عوام و خواص میں عموم بلوی کی حد تک راٸج ہو چکا ہے۔ ایسی صورت حال میں ان تمام اشیاء کے ناپاک اور ممنوع و ناجائز ہونے کا حکم دینا عامہ امت مسلمہ کو گنہگار قرار دینا اور مشقت و حرج میں ڈالنا ہے، جو ہماری اس یسر و آسانی والی شریعت کے تقاضوں کے خلاف ہے …….. لھذا اس تفصیل کے مطابق عموم بلوی اور دفع حرج کی خاطر فی زمانہ الکحل آمیز ادویات اور خارجی استعمال کی تمام اشیاء کے پاک اور جائز الاستعمال ہونے کا حکم ہے۔

(فتاوی اہلسنت غير مطبوعہ، ریفرنسس نمبر UK 64 ، تاریخ اجراء: 12 مارچ 2020، دعوت اسلامی )

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 29 نومبر 2022، بمطابق 3 جمادی الاولی ، 1444ھ بروز منگل )

اپنا تبصرہ بھیجیں