وراثت کی تقسیم (بیوہ، دو بیٹے، دوبیٹیاں)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد حسین بٹ فوت ہوا، اس نے اپنے ورثا ء میں ایک بیوہ (سرداراں بی بی ) دوبیٹے (محمد امجد بٹ اور عصمت بٹ )اور دو بیٹیاں (ازرہ بی بی اور بشری بی بی)چھوڑیں ،جبکہ محمد حسین بٹ کا ایک بیٹا عظمت بٹ ،والدین،دادا،دادی اور نانی اس کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے ۔ابھی اس کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ محمد حسین بٹ کا بیٹا محمدامجد بٹ فوت ہوگیا ،اس نے اپنے ورثاء میں والدہ (سرداراں بی بی)، بیوی (شبانہ بی بی )،ایک بیٹا (محمد علی رضا ) اور چھ بیٹیاں (نمرہ، اقصی، لائبہ،حبیبہ، منیبہ، حسیبہ)چھوڑیں ۔محمد حسین بٹ کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی ؟نیز محمد حسین بٹ کا بیٹا عظمت بٹ جو اس کی زندگی میں فوت ہوا اس کے ورثاء میں ایک بیوی اور دو بیٹیاں ہیں ۔کیا محمد حسین بٹ کی وراثت میں ان کا حصہ ہے یا نہیں ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سوال میں بیان کردہ صورتحال اگر درست ہے تو بعد از امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے خرچے پھر میت کے ذمے جو قرض ہے اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے اس کی ایک تہائی میں سے جائز وصیت اگر کی ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد)محمد حسین بٹ کی جائداد منقولہ و غیر منقولہ کے کل 4608 حصے کریں ، ان میں سے بیوہ سرداراں بی بی کو 800، عصمت بٹ کو 1344 ، ازرہ اور بشری بی بی میں سے ہر کو 672 جبکہ امجد بٹ میت ثانی اس کے حصے اس کے ورثاء میں یوں تقسیم ہوئے کے بیوہ شبانہ کو 168 محمد علی رضا کو 238، جبکہ نمرہ ،اقصی ، لائیبہ ، منیبہ،حبیبہ اور حسیبہ میں سے ہر کو 119 حصے ملیں گے ، عظمت بٹ جو اپنے والد کی زندگی میں ہی انتقال کر گیا تھا اسکی اولاد اپنے دادا محمد حسین بٹ کی وراثت میں سے کچھ نہیں ملے گا ،کہ بیٹوں کی موجودگی میں پوتیاں وارث نہیں بنتی۔
یہ حصے قرآن مجید میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق نکالے گئے ہیں،چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ
فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-
ترجمہ : پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے (یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو وصیت تم کر جاؤ اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے۔)
( پارہ 4، سورہ نساء ،آیت نمبر 12)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهم ، ترجمہ اور زوجہ کے چوتھا حصہ اولاد کی عدم موجودگی میں اور اولاد کے ساتھ آٹھواں ۔
(…’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد6 ،ص 450۔)
بہار شریعت میں ہے کہ
اگر میت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی ہو تو اس کو آٹھواں حصہ ملے گا ۔
(بہار شریعت،جلد سوم ، حصہ 20،صفحہ 1126 مکتبۃ المدینہ کراچی)
قرآن مجید میں ماں کا حصہ اولاد کی موجودگی میں چھٹا بیان کیا گیا ہے چنانچہ
وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-
ترجمہ:اوراگر میت کی اولاد ہو تو میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے ترکے سے چھٹا حصہ ہوگا۔
( پارہ 4، سورہ نساء آیت نمبر 11)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
السدس مع الولد وولد الابن أو اثنين من الإخوة والأخوات من أي جهة كانوا،
ترجمہ ماں کا چھٹا حصہ ہے اولاد کے ساتھ اور بیٹے کی اولاد کے ساتھ یا دو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ چاہے کسی بھی جہت سے ہوں ،
(’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد 6 ،صفحہ 449)
بہار شریعت میں ہے کہ
اگر میت کی ماں کے ساتھ میت کا کوئی بیٹا یابیٹی یا پوتا پوتی ہو تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔
(بہار شریعت ، جلد سوم ، حصہ 20، صفحہ 1133 ، مکتبۃ المدینہ کراچی)
جب بیٹیوں کے ساتھ بیٹا بھی ہو تو وہ بیٹیوں کو عصبہ بنا دے گا ، اور مال اس طرح تقسیم ہو گا کہ بیٹے کو بیٹی سے دگناہ دیاجائے گا ، قرآن مجید میں ہے کہ:
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ- ترجمہ :بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے ،
( پارہ 4، سورہ نساء ، آیت نمبر 11)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين،
ترجمہ : اور جب بیٹے اور بیٹیاں آپس میں مل جائیں تو بیٹے بیٹیوں کو عصبہ بنا دیتے ہیں ، تو ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہو گا ،
(’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد 6 ،صفحہ 449)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال۔
ترجمہ : وہ یعنی عصبہ ہر وہ فرد ہے جس کے لئے کوئی حصہ بیان نہیں کیا گیا اور یہ ذوی الفروض سے جو کچھ بچے گا وہ لے لے گا اور جب اکیلا ہو تو تمام مال لے لے گا ۔
(الفتاوی الھندیہ، الباب الثالث فی العصبات،جزء 6،صفحہ نمبر 500)
خلاصۃ المیراث میں مناسخہ کا مسئلہ حل کرنے کا طریقہ ہے کہ
میت اول کا مکمل مسئلہ بنائیں یہ تصحیح اول ہو گی اور اس سے میت ثانی کو ملنے والے سہام کو مافی الید قرار دیں ، پھر میت ثانی کا مکمل مسئلہ بنائیں یہ تصحیح ثانی ہو گی ،
اس کے بعد تصحیح ثانی اور ما فی الید میں نسبت دیکھیں ، اگر دونوں میں تماثل ہو مسئلہ مکمل ہو گیا ، مزید کسی عمل کی حاجت نہیں ۔
اگر دونوں میں تباین ہو تو دونوں کا پورا پورا عدد محفوظ کر لیں اور توافق یا تداخل ہو تو دونوں کا وفق محفوظ کر لیں ،اس طرح دو محفوظ حاصل ہوں گے ، 1- تصحیح ثانی کا محفوظ 2- ما فی الید کا محفوظ ، اب مسئلے کی تکمیل کے لئے دو عمل درکار ہیں ،
پہلا عمل۔ تصحیح ثانی کے محفوظ کو تصحیح اول میں اور اوپر کے زندہ تمام وارثوں کے سہام میں ضرب دیں ۔
دوسرا عمل ۔ ما فی الید کے محفوظ کو میت ثانی کے وارثوں میں ضرب دیں ۔
(خلاصۃ المیراث، صفحہ نمبر 60، مکتبۃ المدینہ کراچی)
مسئلہ از 8×6=48×96=4608
می________ت
بیوہ(سرداراں) بیٹا(عصمت) بیٹا (امجد)بیٹی (ازرہ) بیٹی( بشریٰ)
۔ 1/8۔ بقیہ عصبہ (عصبہ کے حصے 6)
۔ 1×6=6 7×6=42(14,14, 7, 7)
۔۔ 6×96=576 ۔ 14×96=1344 ۔ (7,7)×96= 672,672
سرداراں بی بی 576+224=800
میت امجد بٹ ما فی الید 14 (وفق،7)
مسئلہ از 24×8= 192 (وفق96)
می_______ت
والدہ سرداراں بیوہ شبانہ بیٹا علی رضا بیٹیاں (نمرہ، اقصی، لائبہ،حبیبہ، منیبہ، حسیبہ)
۔1/6۔ 1/8۔ بقیہ عصبہ (عصبہ کے کل حصے8)
۔4×8=32 3×8=24 ۔17×8=136(34، 17،17,17,17,17,17)
۔ 32×7=224۔ 24×7=168۔ (17٫17٫17٫17٫17٫17٫34)×7= 238، 119,119,119,119,119,119۔
الأحیاء__المبلغ__4608
سرداراں بی بی، عصمت ، ازرہ بی بی ، بشریٰ بی بی ،شبانہ ، علی رضا، نمرہ ، اقصی ، لائبہ ، حبیبہ، منیبہ ، حسیبہ ،
۔800، 1344، 672،672، 168، 238، 119، 119,119,119,119,119۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ ارشاد حسین عفی عنہ
16/12/2022