وراثت کی تقسیم(بیوہ، والد ، بہن )

وراثت کی تقسیم(بیوہ، والد ، بہن )

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید فوت ہوگیا ہے،اس نے مال وراثت میں 4جانور چھوڑے ہیں، اس کے ورثاء میں اس کی بیوی(خورشیدبی بی)،باپ (نور محمد1بھائی (خضرحیات)اور1بہن (حبیب عرف میراں بی بی)ہے۔ابھی منظور احمد کی جائیداد تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اس کے والد نورمحمد فوت ہوگئے جن کے ورثاء میں ایک بیٹا (خضر حیات)اور ایک بیٹی (حبیب عرف میراں بی بی)ہے ۔اب وراثت میں سے کس کا کتنا حصہ ہوگا؟زیدکی کوئی اولادنہیں تھی ،والدہ اور نانی وغیرہ پہلے ہی وفات پاچکی تھیں اسی طرح نور محمد کی بیوی ،والدین ، دادا دادی اور نانا نانی وغیرہ بھی پہلے ہی فوت ہوگئے تھے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

پوچھی گئی صورت میں قرض و وصیت کو پورا کرنے اور کوئی مانع ارث نہ ہونے کی صورت میں کل مال کو4 پرتقسیم کریں گےزید کی بیوی(خورشید)کو 1حصہ دیاجائے گا۔باقی تین حصے زیدکے باپ(نور محمد)کو عصبہ ہونے کی وجہ سے ملنے تھے بھائی بہنوں نے محروم ہونا تھا ،لیکن کیونکہ نور محمد کا انتقال ہوگیا اور اسکابیٹا(خضر حیات)اور بیٹی (میراں) ہی اسکے بھی تنہا وارث ہیں اور زید کے بھی عصبہ ہیں لہذا سارابقیہ مال انھیں مل جائے گا ۔

قران پاک میں ہے: مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ ترجمہ:تقسیم کا ری وصیت اور دین کے بعد ہوگی۔ (القران،4/11)

قران پاک میں ہے: وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ ترجمہ:میت کی اولاد نہ ہو توبیویوں کو چوتھائی ملتا ہے۔ (القران،4/11)

سراجی میں ہے:اما الاب۔۔التعصیب المحض وذلک عند عدم الولد وولد الابن وان سفل۔ ترجمہ:باپ صرف عصبہ بنے گا جب اولاد یا پوتا نہ ہوں۔ (سراجی،احوال الاب،ص15،مکتبہ بشری)

سراجی میں ہے: والعصبۃ کل من یاخذ ماابقتہ اصحاب الفرائض۔ ترجمہ:عصبہ وہ ہے جو اصحاب فرائض سے بچا ہوا مال لے جائے۔ (سراجی،ترتیب تقسیم الترکہ،ص9،مکتبہ بشری)

سراجی میں ہے: عصبۃ بنفسہ:۔۔۔اولاھم بالمیراث جزء المیت۔۔ثم اصلہ ای ا الاب ثم الجد۔۔۔ثم جزءابیہ ای الاخوۃ۔ ترجمہ:عصبہ بنفسہ میں پہلے بیٹوں کا نمبر ہے پھر باپ کا پھر دادا کا پھر بھائیوں کا۔ (سراجی،باب مخارج الفروض،ص36،مکتبہ بشری)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:اگر میت نے بہن کے ساتھ بیٹا یا پوتایا باپ یادادا چھوڑا ہےتو بہن محروم۔ (علم المیراث،ص18،قادری پبلشرز)

عالمگیری میں ہے:( المناسخة) وهو أن يموت بعض الورثة قبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي ترجمہ:مناسخہ یہ ہے کہ وراثت کی تقسیم کاری سے پہلے ہی بعض وارثوں کا انتقال ہوگیا۔ (ھندیہ،،کتاب الفرائض،مناسخہ،6/470،دارالفکر بیروت)

سراجی میں ہے: عصبۃ بنفسہ:۔۔۔اولاھم بالمیراث جزء المیت ۔ ترجمہ:عصبہ بنفسہ میں پہلے بیٹوں کا نمبر ہے۔ (سراجی،باب مخارج الفروض،ص36،مکتبہ بشری)

قران پاک میں ہے: لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ- ترجمہ:بیٹوں کو بیٹی سے دگنا ملے گا۔ (القران،4/11)

سراجی میں ہے: َّواما لبنات الصلب۔۔۔مع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وھو یعصبھن۔ ترجمہ:حقیقی بیٹی کے ساتھ جب بیٹاموجود ہو تو بیٹے کو دگنا ملے گا اور یہ بیٹی کو عصبہ بنالے گا۔ (سراجی،احوال بنات الصلب،ص19،مکتبہ بشری)

تفصیل:

مسئلہ:4 (میت:زید)

بیوی(خورشید):1/4 (4X1/4=1)

بھائی(خضر حیات):محروم

بہن(میراں):محروم

بقایا:4-1=3

باپ(نور محمد):3

ٹوٹل: (1+3=4)

مسئلہ:3 (میت:نورمحمد)

1بیٹی(میراں )1=:

1بیٹا(خضر حیات)2= .(1X2=2)

ٹوٹل: (1+2=3)

الاحیاء:4

خورشید:1

خضر حیات:2

میراں:1

تیمور احمد صدیقی

01.12.22

6جمادی الثانی 1444

اپنا تبصرہ بھیجیں