نفاس کی حالت میں بیوی سے ہمسبتری کرنا اور نفا س والی عورت کو کھانا پکانے سے منع کرنا

نفاس کی حالت میں بیوی سے ہمسبتری کرنا اور نفا س والی عورت کو کھانا پکانے سے منع کرنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت کو بچا جننے کے بعد جو خون آتا ہے جس کو نفاس کا خون بولتے ہیں اس خون کے ایام میں اس سے صحبت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ کہا جاتا ہے کہ اس مخصوص ایام میں اس کے جسم و روم، بستر سب ناپاک ہوتا ہے اگر کوئی اس سے مس ہو جائے تو وہ ناپاک ہو جائے گا۔ اس کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا بھی نہیں کھایا جاتا اور اس کو کھانے پکانے سے منع کرتے ہیں۔ اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جس طرح عورت سے ماہواری کے دنوں میں صحبت کرنا ناجائز و حرام اور گناہ کا کام ہے اسی طرح نفاس کے دنوں میں بھی عورت سے صحبت کرنا ناجائز و حرام ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔ اگر ان دنوں میں کوئی حلال جان کر صحبت کرتا ہے تو کفر ہے، بغیر حلال جانے کرے تو کفر نہیں البتہ فاسق و مرتکب کبیرہ ہے، اسے توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے۔

حالت نفاس میں عورت کا جسم، مکان، بستر وغیرہ میں جب تک نجاست نہ لگے سب پاک ہیں، ان کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھانا بھی جائز ہے۔ بلکہ سوال میں مذکورہ طریقہ اختیار کرنا یعنی ان کے بستر، مکان وغیرہ کو ناپاک سمجھنا، ان کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا نہ کھانا، اور ان سے بالکل الگ رہنا ناجائز و گناہ اور ہندوؤں کا طریقہ ہے۔

حیض و نفاس کی حالت میں صحبت کرنا جائز نہیں جیساکہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

” وَ یَسْــٴـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ قُلْ هُوَ اَذًىۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ“

ترجمۂ کنز الایمان: اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔

(القرآن الکریم، السورۃ البقرۃ، الآیۃ222)

امام ابو بکر حدادی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”النفساء کالحائض“

یعنی : نفاس والی عورت کا حکم حائضہ عورت کی طرح ہے۔

حائضہ سے صحبت کے متعلق لکھتے ہیں:

”لا یأتیھا وان أتاھا مستحلا کفر، وان أتاھا غیر مستحل، فعلیہ التوبۃ و الاستغفار، وقیل: یستحب أن یتصدق بدینار. عقیل: نصف دینار. ولہ أن یقبلھا، ویضاجعھا، ویستمتع بجمیع بدنھا ما خلا ما بین السرۃ والرکبۃ. ملتقطاً“

ترجمہ: شوہر حیض (اور نفاس) کی حالت میں عورت سے صحبت نہ کرے، اگر حلال جان کر صحبت کی تو کفر ہے، اور اگر بغیر حلال جانے کی تو اس پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔ اور کہا گیا کہ ایک دینار صدقہ کرے اور یہ بھی کہا گیا کہ نصف دینار صدقہ کرے، ہاں شوہر عورت سے بوسہ لے سکتا ہے، ساتھ سو سکتا ہے، اور ناف سے گھٹنے تک کے علاؤہ پورے جسم کے کسی بھی حصہ سے نفع اٹھا سکتا ہے۔(الجوہرۃ النیرہ شرح مختصر القدوری، کتاب الطھارۃ ، جلد1، صفحہ87، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

حیض و نفاس کی حالت میں صحبت کرنے کے متعلق صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات1367ھ) فرماتے ہیں:

” ہمبستری یعنی جماع اس حالت میں حرام ہے۔ ایسی حالت میں جماع جائز جاننا کفر ہے اور حرام سمجھ کر کرلیا تو سخت گنہگار ہوا اس پر توبہ فرض ہے اور آمد کے زمانہ میں کیا تو ایک دینار اور قریب ختم کے کیا تو نصف دینار خیرات کرنا مستحب۔ اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عضو سے چھونا جائز نہیں جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شہوت سے ہو یا بے شہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حرج نہیں۔ ناف سے اوپر گھٹنے سے نیچے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں۔ یوہیں بوس و کنار بھی جائز ہے۔ “(بہار شریعت، نفاس کا بیان، جلد1، حصہ2، صفحہ382، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ دہلی)

ناپاک عورت کے ساتھ کھانا کھانا : ترمذی شریف میں امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ نے ”باب ما جاء فی مواکلۃ الحائض و سؤرھا “کے نام سے باب باندھ کر اس میں حدیث پاک ذکر کی:

”عن عبد اللہ بن سعد قال : سألت النبی ﷺ عن مواکلۃ الحائض، فقال: واکلھا“

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے حائضہ عورت کے ساتھ کھانا کھانے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے ساتھ کھاؤ۔ (ترمذی شریف، کتاب الطہارۃ، صفحہ261، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

عوام میں مشہور غلط فہمیاں : عورت کے مخصوص دنوں میں اس کا بستر، کپڑے، چارپائی، ناپاک ہونے اور اس کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا نہ کھانے کے معتلق اعلی حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات1340ھ) فرماتے ہیں:

” چوڑیاں ، چارپائی، مکان سب پاک ہیں ، فقط وہی چیز ناپاک ہوگی جسے خوں لگ جائے گاز بغیر اس کے ان چیزوں کو ناپاک سمجھ لینا ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔ مزید دوسرے فتوے میں ارشاد فرماتے ہیں: اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی جائز، اس اپنے ساتھ کھلانا بھی جائز۔ ان باتوں سے احتراز یہود و مجوس کا مسئلہ ہے۔ نفاس میں عورت کو زچہ خانے سے نکلنا جائز ہے ،اس کو ساتھ کھلانے یا اس کا جھوٹا کھانے میں حَرَج نہیں ۔ ہندوستان میں جو بعض جگہ ان کے برتن تک الگ کر دیتی ہیں بلکہ ان برتنوں کو مثل نجس کے جانتی ہیں یہ ہندؤوں کی رسمیں ہیں ،ایسی بے ہُودہ رسموں سے اِحْتِیاط لازم۔“ (بہار شریعت، جلد1، حصہ2، صفحہ384، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ دہلی)

ناپاکی کے دنوں میں عورت کا کھانا پکانا : عورت نفاس کے ایام میں کھانا پکا سکتی ہے جیساکہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات1396ھ) فرماتے ہیں:

”حیض کی حالت میں حائضہ عورت جس طریقہ سے عام کھانا پکا سکتی ہے اسی طریقہ سے نیاز فاتحہ کے لیے بھی کھانا شیرنی پکاسکتی ہیں۔ حیض کی وجہ سے جو نجاست عورت پر طاری ہوتی ہے وہ حکمی ہے حقیقی نہیں اس کا ظاہر جسم پاک اور صاف رہتا ہے اسی کو حدیث میں فرمایا: ان حیضک لیست فی یدک، ترجمہ: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں۔

اس کا مفاد یہی ہے کہ ہاتھ پاک ہے تو جیسے ہاتھ پاک ہے اسی طرح اس کا سارا ظاہر جسم پاک ہے البتہ موضع نجاست خون لگنے سے ناپاک ہے پھر اگر اسے دھو لیا جائے کہ خون زائل ہو جائے تو وہ بھی پاک۔“(فتاوی اشرفیہ، کتاب الطہارت، جلد5، صفحہ89، مطبوعہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابو حامد عمران رضا عطاری

26 جمادی الاولی 1444 ھ/ 23 دسمبر 2022 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں