منگنی کرنا اور اس موقع پر کپڑے دینےکا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ منگنی جائز ہے؟ اور منگنی میں جو لڑکی کے لیے کپڑے اور پیسے وغیرہ دیے جاتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں یہ ہندوؤں کی رسم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں منگنی شادی کا پکا ارادہ و وعدہ ہے اور منگنی کا ثبوت شرع سے ثابت ہے۔ منگنی میں تحائف دینا عوام میں رائج ہے جس میں شرعا حرج نہیں۔اور بغیر تحقیق کے اس کو ہندوؤں کے رسم کہنا درست نہیں۔باقی منگنی کے موقع پر غیر شرعی افعال کرنا جیسے مردو ں اور عورتوں کا اختلاط گانے باجے یا لڑکا لڑکی کا ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنانا یا مرد کو سونے کی انگوٹھی پہنانا یہ سب ناجائز ہے۔
علامہ تمرتاشی حنفی متوفی1004ھ اور علامہ علاء الدین حصکفی حنفی متوفی1088ھ لکھتے ہیں
”أَوْ هَلْ أَعْطَيْتنِيهَا إنْ الْمَجْلِسُ لِلنِّكَاحِ، وَإِنْ لِلْوَعْدِ فَوَعْدٌ“
ترجمہ: ایک شخص نے دوسرے سے کہا تو نے اپنی بیٹی مجھے دی دوسرے نے کہا میں نے دی اگر یہ مجلس نکاح ہو تو نکاح ہوگا اور اگرمجلس منگنی ہوتومنگنی گی۔[ابن عابدين، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، ١٢/٣]
شیخ الاسلام والمسلمین،امام اہلسنت،امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے اسی طرح کا ایک سوال ھوا:
”کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی لڑکی کی منگنی کرنے کے لئے سفر سے دوسرے شخص پرلکھا کہ میری لڑکی کی منگنی فلاں لڑکے کے ہمراہ کرنا لڑکا لڑکی دونوں نابالغ ہیں یہاں اس شخص نے جس کوفقط منگنی کی اجازت دی گئی تھی خود ولی ہوکر بعد منگنی کے نکاح بھی کردیا اس کے والد کو خبر ہوئی کہ لڑکی کا نکاح جس کو منگنی کا اختیار دیا تھا کردیااس سے یہ شخص خوش ہوا اور اس کے پڑھائے ہوئے نکاح پر انکار نہ کیا، اب یہ نکاح عند الشرع منعقد ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔“
جوابافرماتے ہیں:
” منگنی کی اجازت نکاح کی اجازت نہ تھی” فان ھذا عقد وذاک وعد وقد یفعل الوعد لینتظر لخاطب ثم ینظر ویتأتی فیہ فان وافق اجیب والامنع فلایکون الرضا بالوعد رضا بالعقد وھذا ظاھر جدا“کیونکہ نکاح عقد ہے اور منگنی صرف وعدہ ہے جبکہ وعدہ کبھی اس لئے کرلیا جاتا تاکہ منگنی کرنے والے کا جائز ہ لیا جائے اور غور کیا جائے اور تاخیر کی جاتی ہے تاکہ وہ موافق ہو تو منگنی قبول کی جائے ورنہ انکار کیا جائے لہذا وعدہ پر رضا کو عقد نکاح پر رضا مندی نہیں قرار دیاجا سکتا، یہ معاملہ ظاہر ہے۔(فتاوی رضویہ ج ،11ص187 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
شریعت کا یہ قاعدہ ہے
”الاصل في الاشياء الاباحه“
ترجمہ : یعنی اشیاء میں اصل اباحت (جواز )ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ نے اس موضوع پر ایک باب ” مطلب المختار ان الاصل في الاشياء الاباحه “قائم فرمایا۔(رد المحتار على الدر المختارج،1ص199)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبہ محمد یاسر عباسی
مورخہ15/دسمبر/2022