طواف کےبعد کےنفل عصر کےبعد پڑھنا

طواف کےبعد کےنفل عصر کےبعد پڑھنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ طواف کے بعد جو نفل پڑھے جاتے ہیں وہ عصر کے بعد پڑھ سکتے ہیں؟ لوگ کہتے ہیں یہاں حرم شریف میں مقرہ وقت نہیں ہوتا۔ برائے کرم ! رہنمائی فرمادیں۔

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

طواف کے بعد جو نفل پڑھے جاتے ہیں وہ عصر کے بعد نہیں پڑھ سکتے کیونکہ عصر کے بعد نفل پڑھنا مکروہ ہے لہٰذا یہ نوافل مکروہ اوقات کے علاوہ میں پڑھے جائیں۔ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یہاں حرم شریف میں مکروہ وقت نہیں ہوتا، یہ بات بے اصل ہے کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی میں ہے(صحیح مسلم کے الفاظ):

” عن ‌أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم « نهى عن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس، وعن الصلاة بعد الصبح حتى تطلع الشمس »“

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عصر کے بعد سورج غروب ہوجانے تک اور صبح (کے بعد) سورج طلوع ہوجانے تک نماز سے منع فرمایا۔(صحیح مسلم، جلد2، صفحہ206، مطبوعہ دار الطباعة العامرہ، تركی)

درمختار میں ہے:

” (وكره نفل) قصدا ولو تحية مسجد (وكل ما كان واجبا) لا لعينه بل (لغيره) وهو ما يتوقف وجوبه على فعله (كمنذور وركعتي طواف)“

ترجمہ(ان مکروہ اوقات میں) اور نفل قصداً (جان بوجھ کر) ادا کرنا مکروہ ہے، اگرچہ تحیۃ المسجد ہو اور ہر وہ چیز جو عین کی وجہ سےواجب نہ ہو بلکہ کسی غیر کے سبب واجب ہو یعنی ایسا وجوب کہ جو اس کے فعل پر موقوف ہو جیسے نذر اور طواف کی رکعتیں۔(درمختار، صفحہ54، مطبوعہ دار الكتب العلميہ، بيروت، لبنان)

ردالمحتار میں ہے:

”(قوله: على فعله) أي فعل العبد، والأولى إظهاره مثلا المنذور يوقف على النذر وركعتا الطواف على الطواف۔۔۔۔۔۔۔(قوله: وركعتي طواف) ظاهره ولو كان الطواف في ذلك الوقت المكروه ولم أره صريحا، ويدل عليه ما أخرجه الطحاوي في شرح الآثار عن معاذ ابن عفراء ” أنه طاف بعد العصر أو بعد صلاة الصبح ولم يصل، فسئل عن ذلك فقال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة بعد الصبح حتى تطلع الشمس، وعن صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس» ” ثم رأيته مصرحا به في الحلية وشرح اللباب“

ترجمہ:(ان کا یہ قول: اسکے فعل پر) یعنی بندے کے فعل پر، اور اس کا اظہار بہتر ہے مثلاً نذر مانے گئے نوافل جوکہ نذر ماننے پر موقوف ہوتے ہیں اور طواف کے نفل جوکہ طواف پر موقوف ہوتے ہیں۔۔۔(ان کا یہ قول: طواف کی دو رکعتیں) اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اگر طواف مکروہ وقت میں کرے حالانکہ میں نے یہ بات صریح نہ پائی لیکن پھر میں نے اس کی صراحت حیلہ اور شرح لباب میں دیکھی اور اس پر دلیل وہ ہے جو امام طحاوی نے شرح آثار میں معاذ بن عفراء سے نقل کیا کہ ’’آپ سے اس بارے میں سوال ہوا کہ اگر عصر کے بعد طواف کیا یا صبح کے بعد طواف کیا تو طواف کے نفل اسوقت نہ پڑھے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صبح کے بعد سے طلوع شمس تک اور عصر کے بعد سے غروب شمس تک نماز سے منع فرمایا۔ ‘‘(ردالمحتار، جلد1، صفحہ375، مطبوعہ دار الفكر بيروت، لبنان)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

” ويصلي ركعتي الطواف في وقت يباح له أداء التطوع فيه كذا في شرح الطحاوي“

ترجمہ: دورکعت نماز طواف ایسے وقت میں ادا کرے کہ جس میں نفل پڑھنا مباح ہو جیساکہ شرح طحاوی میں ہے۔(فتاویٰ عالمگیری، جلد1، صفحہ226، مطبوعہ دار الفكر، بيروت، لبنان)

بہار شریعت میں ہے:

طواف کے بعد مقامِ ابراھیم میں آکر آیہ کریمہ (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّیؕ ) پڑھ کر دو رکعت طواف پڑھے اور یہ نماز واجب ہے پہلی میں قُلْ یَا دوسری میں قُلْ ھُوَ اللہ پڑھے بشرطیکہ وقتِ کراہت مثلاً طلوع صبح سے بلندی آفتاب تک یا دوپہر یا نمازِ عصر کے بعد غروب تک نہ ہو، ورنہ وقتِ کراہت نکل جانے پر پڑھے۔ (بہار شریعت، جلد1، حصہ6، صفحہ1102، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی، پاکستان)

بہار شریعت میں مکروہات طواف میں ہے:

ایک طواف کے بعد جب تک اس کی رکعتیں نہ پڑھ لے دوسرا طواف شروع کردینا مگر جب کہ کراہت نماز کا وقت ہو جیسے صبح صادق سے بلندی آفتاب تک یا نماز عصر پڑھنے کے بعد سے غروب آفتاب تک کہ اس میں متعدد طواف بے فصل نماز جائز ہیں۔ وقت کراہت نکل جائے تو ہر طواف کے لیے دو رکعت ادا کرے۔(بہار شریعت، جلد1، حصہ6، صفحہ1114، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی، پاکستان)

واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ

محمد منور عطاری مدنی

بتاریخ: 08 دسمبر 2022

اپنا تبصرہ بھیجیں