طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے سے طلاق
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شوہر کی اپنی بیوی سے لڑائی ہوئی اور وہ بیوی کو اس کے گھر چھوڑ کر آیا اور واپس جب گھر والوں نے پوچھا کہ کیا ہوا تو اس نے جھوٹا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ” میں طلاقیں دے آیا ہوں۔“ حالانکہ ا س نے کوئی طلاق نہیں دی تھی اور نہ ہی طلاق کی کوئی نیت تھی۔ اس طرح کہنے سے کوئی طلاق ہوئی یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صورت مسئولہ (پوچھی گئی صورت)میں دو طلاق رجعی واقع ہو جائیں گی کیونکہ اس نے جو یہ کہا کہ ” طلاقیں دے آیا ہوں“تو لفظ”طلاقیں“ اردو میں جمع کا صیغہ ہے جس سے کم ازکم دو طلاقیں ہوجائیں گے، اگر اس لفظ سے تین کی نیت ہو تو تین بھی ہوسکتی ہیں۔چونکہ مذکورہ مسئلہ میں اس کی نیت ہی نہ تھی اس لیے دو طلاقیں یقیناً ہوگئیں۔باقی اگر کوئی یہ کہے کہ یہاں اس نے جھوٹا اقرار کیا ہے تو شرعا جب بندہ طلاقوں کا جھوٹا اقرار کرے تو قضاءً طلاق کے وقوع کا حکم لاگو ہو گا۔
ردالمحتار میں ہے:
وَلَوْ أَقَرَّ بِالطَّلَاقِ كَاذِبًا أَوْ هَازِلًا وَقَعَ قَضَاءً لَا دِيَانَةً
ترجمہ:اور جب شوہر نے طلاق کا اقرار کیا جھوٹ بولتے ہوے یا مذاق کرتے ہوے تو قَضَاءً طلاق واقع ھو جائے گی دِيَانَةً واقع نہیں ہو گی۔(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 236)
البحر الرائق میں ہے:
أَيْ فَقَوْلُهُ: طَلُقَتْ أَيْ قَضَاءً وَهُوَ مُوَافِقٌ لِمَا مَرَّ مِنْ أَنَّهُ إذَا أَقَرَّ بِالطَّلَاقِ كَاذِبًا وَقَعَ قَضَاءً لَا دِيَانَةً
ترجمہ:یعنی مصنف کا قول طلاق واقع ہو جائے گی اور یہ موافق ہے اسکے جو گزرا کہ بے شک جب اس نے طلاق کا جھوٹا اقرار کیا تو قضاء طلاق واقع ہو جائے گی دیانۃً واقع نہیں ہو گی۔(ابن نجيم، البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري،کتاب الطلاق،باب الفاظ الطلاق،جلد3، صفحہ 282)
سیدی امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں اسی طرح دی گئی طلاق کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:
پہلی صورت میں ایک طلاق ہوجانے کا حکم دیا جائے گا اگر چہ عنداﷲنہ ہو، جبکہ جُھوٹ کہا ہو کما فی الخیریۃ فیمن اقربالطلاق کاذبا(جیساکہ خیریہ میں طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے والے کی بحث میں ہے۔)((فتاوی رضویہ جلد12، صفحہ 383، رضا فاؤنڈیشن لاہور))
بہار شریعت میں ہے:
عورت کو طلاق نہیں دی ہے مگر لوگوں سے کہتا ہے میں طلاق دے آیا تو قضاء ہوجائے گی اور دیانۃً نہیں اور اگر ایک طلاق دی ہے اور لوگوں سے کہتا ہے تین دی ہیں تو دیانتہ ایک ہوگی قضاء تین، اگرچہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا۔(بہار شریعت، جلد 2، حصہ 8 ،صفحہ 119،مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
1/12/2022