سونا قرض لیا واپسی کے وقت اس کا ریٹ بڑھ چکا تو اس کے متعلق حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص گولڈ میں قرض دے (معلومات کے لئے مارکیٹ ریٹ حاصل کیا جو 5 لاکھ ہے 10 تولے کا) لیکن جب گولڈ دو سال بعد واپس کرتا ہے تو ریٹ 4 لاکھ ہوجاتا ہے۔ کیا ادھار لینے والے کو ایک لاکھ کا فائدہ گا کیونکہ واپسی تو گولڈ میں کرنی ہے؟ یہ فائدہ کبھی ادھار لینے (جب گولڈ ریٹ کم ہو جائے) کبھی دینے والے کو ہوگا (جب گولڈ کا ریٹ بڑھ جائے)۔ پوچھنا یہ ہے کہ یہ ادھار پر منافع تو نہیں ہے اور سود میں شمار ہوگا یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
پوچھی گئی صورت میں سونا ادھار پر لینا اور دینا شرعاً درست ہے اور گولڈ ریٹ کے کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں سود بھی شمار نہیں ہوگا؛ اس لئے کہ سونا مثلی چیز ہے اور مثلی چیز جب قرض میں لی جائے تو لوٹاتے وقت وزن میں اس کے برابر دینا لازم ہے اس کے مہنگے یا سستے ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ہاں اگر پیسے قرض دیے اور کہا کہ اس وقت ان پیسوں کا جتنا سونا ملتا ہے ،کل واپسی اتنا ہی سونا لوں گا تو یہ ناجائز وحرام ہے۔ پیسے قرض دیے ہیں تو واپس بھی پیسے ہی لیے جائیں گے۔
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
”(فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن… الخ)“
ترجمہ: دراہم ودنانیر کو قرض کے طور پر لینا صحیح ہے اور اسی طرح ہر وہ چیز جو ناپ، تول والی ہو۔ (تنویر الابصار مع درمختار، کتاب البیوع، فصل فی القرض، جلد7، صفحہ 407، دار المعرفۃ، بیروت)
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
”(استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف“
ترجمہ: کسی نے رائج اور عدالی سکے قرض لئے اور پھر ان کی مانگ ختم ہوگئی تو اس پر لئے ہوئے سکوں کی مثل لوٹانا لازم ہے اور کم قیمت کا تاوان بھی نہیں دے گا یہی حکم ہر مکیلی و موزونی شئے کا ہے؛ اس لئے کہ یہ بیان ہوچکا ہے کہ مثلی چیز کے قرض میں مثلی چیز لوٹائی جاتی ہے، اس کے مہنگے اور سستے ہونے کا اعتبار نہیں ہوتا، مبسوط میں اس مسئلہ کو بغیر اختلاف کے ذکر کیا ہے۔ (تنویر الابصار مع درمختار، کتاب البیوع، فصل فی القرض، جلد7، صفحہ 408، دار المعرفۃ، بیروت)
ردالمحتار میں ہے:
”فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا“
ترجمہ: جب کسی شخص نے کسی نوع کے سو دینار قرض لئے تو ضروری ہے کہ اسی نوع کے سو دینار واپس کرے کے جو وزن میں اس کے موافق ہوں یا انکے بدلے میں وزن میں برابر سو دینار واپس کرے نہ کہ گنتی میں۔ (ردالمحتار، کتاب البیوع، فصل فی القرض، مطلب فی استقراض الدرہم عددا، جلد7، صفحہ 429، دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”لو إستقرض من آخر حنطة فأعطى مثلها بعد ما تغير سعرها فإنه يجبر المقرض على القبول.كذا في مختار الفتاوى“
ترجمہ: اگر کسی نے دوسرے شخص سے گندم قرض لی تو اس کا نرخ بدل جانے پر بھی اتنی ہی (وزن کی مقدار) دینا ہوگی اور قرض خواہ کو اس کے قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا “مختار الفتاوی” میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب البیوع، الباب التاسع عشر فی القرض والاستقراض والاستصناع، جلد3، صفحہ202، دار الفکر، بیروت)
صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”جو چیز قرض دی جائے، لی جائے اس کا مثلی ہونا ضرور ہے یعنی ماپ کی چیز ہو یا تول کی ہو یا گنتی کی ہو مگر گنتی کی چیز میں شرط یہ ہے کہ اس کے افراد میں زیادہ تفاوت نہ ہو جیسے انڈے، اخروٹ، بادام اور اگر گنتی کی چیز میں تفاوت زیادہ ہو جس کی وجہ سے قیمت میں اختلاف ہو جیسے آم، امرود، ان کو قرض نہیں دے سکتے۔ یونہی ہر قیمی چیز جیسے جانور، مکان، زمین ان کا قرض دینا صحیح نہیں۔“
مزید لکھتے ہیں:
”ادائے قرض میں چیز کے سستے مہنگے ہونے کا اعتبار نہیں مثلاً دس سیر گیہوں قرض لئے تھے اُن کی قیمت ایک روپیہ تھی اور ادا کرنے کے دن ایک روپیہ سے کم یا زیادہ ہے اس کا بالکل لحاظ نہیں کیا جائے گا وہی دس سیر گیہوں دینے ہوں گے۔“(بہارِ شریعت، قرض کا بیان، جلد2، صفحہ 755-757، مطبوعہ: مکتبۃ المدینۃ، ملتقطا)
امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:
’’روپیہ قرض دیتا اور یہ شرط ٹھہرالیتا کہ ادا کے وقت گیہوں دیںتو یہ شرط باطل تھی، زید وخالد پر صرف اتنا روپیہ ادا کرنا تھا۔‘‘ (فتاوٰ ی رضویہ،جلد17،صفحہ327،رضافائونڈیشن،لاہور)
واللہ تعالی أعلم بالصواب
کتبه: ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی
️مؤرخہ 15جمادی الآخرۃ 1444ھ بمطابق 09جنوری2023ء، بروز پیر