زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ باپ اگر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد سب اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اس کا شرعی طریقہ کار کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنا مال تقسیم کرنا چاہے تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ سب بیٹیوں اوربیٹوں کوبرابر، برابردے ، اگر بیٹے کوبیٹی سے دوگنا دے تو یہ بھی جائزہےاگرچہ خلاف اَولی ہے ۔البتہ بلاوجہ شرعی اپنی اَولادمیں سے کسی کودوسرے سے زیادہ دینا یا کسی کو بلا وجہ شرعی محروم کر دینا جائز نہیں ہے۔ہاں اگر کوئی وجہ شرعی ہو،مثلاََ کوئی علم دین میں مشغولیت کے باعث دوسروں پردینی فضیلت رکھتاہوتو اس کو دوسروں سے زیادہ دے سکتے ہیں یونہی اگر کوئی مثلاً فاسق وفاجر ہے اوراس کو دینے سے اندیشہ ہے کہ وہ گناہوں میں مال صرف کرے گا تو پھر اس کو محروم کرنا بھی جائز ہے۔

معجم الکبیر میں ہے:

”عن ابن عباس رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: سووا بین اولادکم فی العطیۃ فلو کنت مفضلا أحدا لفضلت النساء“

حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تحائف کی تقسیم میں اپنی اولاد میں برابری رکھو اور اگر میں کسی کو کسی پر فضیلت دیتا تو عورتوں کو (یعنی بیٹیوں کو بیٹوں پر) فضیلت دیتا۔(المعجم الکبيرلطبرانی،الرقم: 11997، السنن الکبريٰ للبیہقی، الرقم: 11780)

ردالمحتار میں ہے:

” الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی ھو قول محمد“

ترجمہ:فتوٰی امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینا، مرد کو دو اور عورت کو ایک ، تین حصے بنانے سے بہتر ہے اور یہ تین حصے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا مذہب ہے۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الھبۃ،جلد4،صفحہ513،داراحیاء التراث العربی،بیروت)

حاشیۂ طحطاوی میں فتاویٰ بزازیہ سے ہے:

”الافضل فی ھبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار“

ترجمہ:بیٹے اور بیٹی کو دینےمیں افضل وراثت والا طریقہ ہے ، جبکہ امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک برابر دینا اولیٰ ہے اور یہی قول مختارہے۔( حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ،جلد3،صفحہ400،دارلمعرفۃ، بیروت)

امام اہلسنت اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوے ارشاد فرماتے ہیں:

”مذہبِ مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے۔ یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور”لِذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ “دینا بھی، جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ کاہے ، ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترکِ اولیٰ ہے۔ “(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ،جلد19،صفحہ231 ،رضا فاؤنڈیشن لاھور)

بخاری شریف میں ہے:

”حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي مِنْ مَالِهِ ، ثُمَّ بَدَا لَهُ فَوَهَبَهَا لِي ، فَقَالَتْ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَأَنَا غُلَامٌ ، فَأَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ سَأَلَتْنِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِهَذَا ، قَالَ : أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأُرَاهُ ؟ قَالَ :لَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ : عَنِ الشَّعْبِيِّ ، لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ “

ترجمہ:نعمان بن بشیر سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میری ماں نے میرے باپ سے مجھے ایک چیز ہبہ دینے کے لیے کہا ( پہلے تو انہوں نے انکار کیا کیونکہ دوسری بیوی کے بھی اولاد تھی ) پھر راضی ہو گئے اور مجھے وہ چیز ہبہ کر دی ۔ لیکن ماں نے کہا کہ جب تک آپ نبی کریم ﷺ کو اس معاملہ میں گواہ نہ بنائیں میں اس پر راضی نہ ہوں گی ۔ چنانچہ والد میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ میں ابھی نوعمر تھا ۔ انہوں نے عرض کیا کہ اس لڑکے کی ماں عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا مجھ سے ایک چیز اسے ہبہ کرنے کے لیے کہہ رہی ہیں ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ، اس کے علاوہ اور بھی تمہارے لڑکے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ، ہیں ۔ نعمان رضی اللہ عنہ ! نے بیان کیا ، میرا خیال ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس پر فرمایا ” تو مجھ کو ظلم کی بات پر گواہ نہ بنا ۔“ اور ابوحریز نے شعبی سے یہ نقل کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” میں ظلم کی بات پر گواہ نہیں بنتا ۔“(بخاری شریف، حدیث 2650)

علامہ طحطاوی فرماتے ہیں:

”یکرہ ذٰلک عند تساویہم فی الدرجۃ کما فی المنح والنہدیۃ اما عند عدم التساوی کما اذا کان احدھم مشتغلا بالعلم لابالکسب لاباس ان یفضلہ علی غیرہ کما فی الملتقط ای ولایکرہ وفی المنح روی عن الامام انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین الخ“

ترجمہ:درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں مکروہ ہے جیسا کہ منح اورہندیہ میں ہے لیکن مساوی نہ ہوں مثلا ایک علم دین میں مشغول ہے اور کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے یعنی مکروہ نہیں ہے۔ اورمنح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتاہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار، کتاب الھبۃ،جلد3،صفحہ299،دارالمعرفۃ ،بیروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہبِ مختار پر اولیٰ تسویہ( یعنی برابر ، برابر )، ہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو ، تو اس کی ترجیح میں اصلاً باک نہیں ۔“(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ،جلد19،صفحہ231 ،رضا فاؤنڈیشن لاھور)

بہار شریعت میں ہے:

”اولاد کو ہبہ کرنے میں لڑکی اور لڑکا دونوں کو برابر دے یہ نہیں کہ لڑکے کو لڑکی سے دو چند (دُگنا،ڈبل) دے دے جس طرح میراث میں ہوتا ہے کہ لڑکے کو لڑکی سے دونا ملتاہے ہبہ میں ایسا نہیں۔بعض اولاد کے ساتھ محبت زیادہ ہو بعض کے ساتھ کم یہ کوئی ملامت کی چیز نہیں کیونکہ یہ فعل غیر اختیاری ہے اور عطیہ (تحفہ) میں اگر یہ ارادہ ہو کہ بعض کو ضرر پہنچاوے تو سب میں برابری کرے کم وبیش نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے ہاں اگر اولاد میں ایک کودوسرے پر دینی فضیلت وترجیح ہے مثلاً ایک عالم ہے جو خدمت علم دین میں مصروف ہے یا عبادت ومجاہدہ میں اشتغال رکھتا ہے ایسے کو اگر زیادہ دے اور جو لڑکے دنیا کے کاموں میں زیادہ اشتغال رکھتے ہیں انھیں کم دے یہ جائز ہے اِس میں کسی قسم کی کراہت نہیں یہ حکم دیانت کاہے اور قضا کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے مال کا مالک ہے حالت صحت میں اپنا سارا مال ایک ہی لڑکے کو دیدے اور دوسروں کو کچھ نہ دے یہ کرسکتاہے دوسرے لڑکے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتے مگر ایسا کرنے میں گنہگار ہے۔ (بہار شریعت،جلد3،حصہ14،صفحہ81، مکتبۃ المدینہ کراچی)

فتاوی امجدیہ میں ہے:

” زندگی میں جو کچھ اولاد کو دینا چاہے سب کو برابر دے یہاں تک کہ لڑکے اور لڑکی میں بھی برابری ملحوظ رکھے ہاں اگر کم و بیش دینا کسی مصلحتِ شرعیہ کی بنا پر ہو اضرار مقصود نہ ہو مثلاً ایک خدمتِ دین میں مشغول ہے کہ کسب معیشت میں مشغول ہو تو اس خدمت میں نقصان واقع ہو گا اور دوسرا ایسا نہیں یا ایک فاسق فاجر ہے کہ مال کو ضائع کر دے گا تو ایسی صورتوں میں کمی بیشی جائز ہے اور اگر اضرار مقصود ہو تو گنگار ہے ۔“(فتاوی امجدیہ جلد 2 کتاب الھبہ ،ص 264 ،مکتبہ رضویہ ،کراچی )

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ :

انتظار حسین مدنی کشمیری

مؤرخہ23 جنوری 2023 بروز پیر شریف

اپنا تبصرہ بھیجیں