جمعہ کے دن عصا پکڑ کر خطبہ پڑھنے کا حکم

جمعہ کے دن عصا پکڑ کر خطبہ پڑھنے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مساجد میں عموما لکڑی کی چھڑی پڑی ہوتی ہے جسے جمعہ والے دن امام صاحب ہاتھ میں پکڑ کر عربی خطبہ پڑھتے ہیں ،کیا یہ عصا پکڑ کر خطبہ پڑھنا سنت ہے؟

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ہاتھ میں عصا پکڑ کر خطبہ دینے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء نے اسے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ، البتہ یہ کوئی ضروری کام نہیں کہ نہ کیا جائے تو گناہ ہو گا ،لہذا اختلاف علماء کی وجہ سے بغیر عصا کے ہی خطبہ دیا جائے۔

ہندیہ میں ہے:

”وَيُكْرَهُ أَنْ يَخْطُبَ مُتَّكِئًا عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا، كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ، وَهَكَذَا فِي الْمُحِيطِ“

ترجمہ: اور مکروہ ہے کہ خطیب کمان یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر خطبہ دے جیسا کہ خلاصہ اور محیط میں ہے۔((الفتاوى الهندية،کتاب الصلاۃ،الْبَابُ السَّادِسَ عَشَرَ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ،جلد1،صفحہ148))

فتاوی رضویہ میں ہے:

”خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینابعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ ،اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت مؤکدہ نہیں، تو بنظرِ اختلاف اُس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو،وذلک لان الفعل اذا تردد بین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولٰی واللہ تعالی اعلم ۔وہ اس لئے کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہو تو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔“((فتاویٰ رضویہ، کتاب الصلاۃ،باب الجمعہ،جلد 8 ،صفحہ 303 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور))

فتاویٰ امجدیہ میں ہے:

” خطبہ کے وقت عصا وغیرہ ہاتھ میں لینے کے بارے میں فقہاء کے اقوال بہت مختلف ہیں، ایک قول یہ ہے کہ مکروہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ جو شہر تلوار سے یعنی لڑکر فتح کیا گیا ہو وہاں تلوار وغیرہ ہاتھ میں لیکر خطبہ پڑھا جائے اور جو بطور صلح فتح ہوا ہو وہاں نہیں۔۔۔۔اور حدیث میں بھی نبی صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بروقت خطبہ قوس یا عصا دست مبارک میں لینا آیا ہے، لہٰذا قول کراہت صحیح نہیں معلوم ہوتا، اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ کا یہ عمل تھا کہ پہلے جب قوت تھی بغیر عصا خطبہ پڑھا کرتے تھے اور آخر عمر شریف میں جب ضعف کا غلبہ ہوا تو عصا پر ٹیک لگاتے۔ اور فقیر نے ایک بار دریافت بھی کیا تھا تو فرمایا کہ سنت ہونا ثابت نہیں۔“(فتاویٰ امجدیہ، جلد1، صفحہ287، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی، پاکستان)

وقار الفتاوی میں ہے:

”امام کو خطبے کے وقت عصا لینا ضروری نہیں ہے بلکہ جواز میں بھی اختلاف ہے بعض ائمہ عصا لینے کو بہتر کہتے ہیں اور بعض مکروہ اور جب کراہت اور استحباب میں اختلاف ہو تو ترک کرنا اولی ہوتا ہے۔“((وقارالفتاوی ،کتاب الصلاۃ،خطبہ کا بیان ،جلد 2 صفحہ 163))

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

10/12/2022

اپنا تبصرہ بھیجیں