تم طلاق سمجھو،طلاق ،طلاق ،جملے کا حکم

تم طلاق سمجھو،طلاق ،طلاق ،جملے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ شوہر نےاپنی مدخولہ بیوی سے لڑائی کے دوران طلاق کی نیت سے یہ تین جملے بولے: تم طلاق سمجھو ،طلاق طلاق۔ اس مکمل جملے سے کتنی طلاقیں ہوں گی۔

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صورت مسئولہ(پوچھی گئی صورت) میں ابتدائی کلمات، ” تم طلاق سمجھو”، اگرچہ شوہر نے بنیت طلاق کہے پھر بھی کسی طرح کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ یہ الفاظ طلاق کے لیے نہ صریح ہیں نہ کنایہ بلکہ لغو اور مہمل ہیں۔

ہاں البتہ بعد میں “طلاق طلاق” کیوں کہ بنیت طلاق کہے، جیسا کہ سوال میں مذکور ہوا تو ان سے دو طلاقیں رجعی واقع ہوئیں کیونکہ اس میں اضافت نیت میں موجود ہے۔ اگر اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی تو شوہر دوران عدت اپنی زوجہ سے رجوع کرسکتا ہے اگرچہ عورت راضی نہ ہو اور بعد عدت عورت نکاح سے باہر ہو جائے گی اور دوسرے مرد سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی اور اگر عورت راضی ہو تو بغیر حلالہ کے سابقہ شوہر سے بھی نئے مہر کے ساتھ نکاح درست ہے۔ اور اگر پہلے کوئی طلاق دی تھی تو عورت طلاق مغلظہ(تین طلاقوں) کے ساتھ اس پر حرام ہوگئی۔

فتاوی قاضی خان میں ہے

امراة قالت لزوجها مرا طلاق ده؛فقال الزوج٫دادہ انگار؛اوقال،کردہ انگار،لا يقع الطلاق وان نوى كانه قال لها بالعربيه احسبي انك طالق وان قال ذالك لا يقع الطلاق وان نوى

ترجمہ : بیوی نے شوہر سے کہا، مجھے طلاق دے،خاوند نے جواب دیا تو دی ہوئی،یا کی ہوئی خیال کر(سمجھ) لے، تو طلاق واقع نہیں ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت کی ہو،کیوں کہ عربی زبان میں اس کا معنی یوں ہے، کہ تو گمان کر لے کے تو طلاق والی ہے،اور اگر یوں بالفاظ عربی کہا تو طلاق نہ ہو گی چاہے طلاق کی نیت کی ہو۔(فتاوی قاضی ج،1ص457 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

ان کا کہنا کہ ہمارا صاف جواب طلاق سمجھا جائے؛ لغو اور مہمل ہے۔(فتاوی رضویہ ٫ج12ص،601 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

لفظ ” طلاق طلاق ” کے حوالے سے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ اسی طرح کے ایک مسئلہ میں حکم شرعی بیان فرمانے کے بعد مزید توضیح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

مگر یہ اس کے اقرار پر موقوف ہے کہ اس لفظطلاق طلاق سے زوجہ کو طلاق دینی مرادتھی اگر اقرار نہ کرے گا اُن الفاظ سے حکمِ طلاق نہ ہوگا اگر واقع میں اس نے نیتِ طلاق کی تھی اور مُکر جائے گا تو وبال اس پر رہے گامستحق عذابِ نار ہوگا، عورت کے پاس جانا اس کے لئے زنا ہوگا عورت پر الزام نہ ہوگا۔

پھر ہندیہ میں ہے:

سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفربھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقع

ایک نشے والے کی بیوی اس سے بھاگ گئی تو یہ اس کے پیچھے بھاگا اور کامیاب نہ ہوا تو(بالفاظ فارسی) کہا تین طلاق بعد میں اگر وُہ کہتا ہے کہ میں نے بیوی کو کہا تھا، تو طلاق واقع ہوجائے گی، اور اگر کچھ نہ کہاتو طلاق نہ ہوگی۔(فتویٰ رضویہ،12/362، رضافاونڈیشن لاہور)

فتاوی شامی میں ہے

“ولا یلزم کون الاضافۃ صریحۃ فی کلامہ لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ”

ترجمہ: اضافت کا صراحۃ ہونا اس کے کلام میں ضروری نہیں اس کی وجہ سے جو بحر میں ہے اگر خاوند نے کہا طلاق والی ہے اس سے کہا آپ نے کس کو مراد لیا اس نے کہا اپنی بیوی کو اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گئ ۔(در مختارمع ردالمحتار ،جلد 3، ص248)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کتبہ: محمد افضل مدنی عطاری

مورخہ29/نومبر/2022

اپنا تبصرہ بھیجیں