بےہوش ہوکردکان کے شیشے پر گرا اور شیشہ ٹوٹ گیا تو تاوان کاحکم
سوال :مفتی صاحب ایک شخص کسی کی دوکان میں گیا تو اس کو چکر آیا جس کی وجہ سے دوکان کے شیشے پر اس کا سر لگا اور شیشہ ٹوٹ گیا، کیا اس سے تاوان لیا جائے گا۔
بسم الله الرحمن الرحیم
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ
اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں مذکورہ شخص پر تاوان لازم ہے، کیونکہ شرعاً بطورِ خطا کسی کا مال ضائع کرنے پر اگرچہ گناہ نہیں ملتا لیکن تاوان ضرور لازم ہوتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن کے بچہ سے بھی اگر کسی کا شیشہ ٹوٹ جائے تو تاوان لازم ہے، یونہی بوجہ بیہوشی یا مرض، کسی پر گرنے سے بھی نقصان کا تاوان لازم ہوتا ہے نیز ہر جگہ تاوان لازم ہونے میں یہ ضروری نہیں کہ، نقصان کرنے والے نے ارادۃً نقصان کیا ہو یا اسکی غفلت سے نقصان ہوا ہو، بلکہ متعدد مقامات پر لاعلمی میں غیر ارادی و غیر اختیاری طور پر کسی کا نقصان کرنے پر بھی شرعاً تاوان لازم ہوتا ہے.
خطاءً کسی کا نقصان کرنے پر تاوان ہے البتہ گناہ نہیں، چنانچہ بدائع الصنائع میں علامہ ابو مسعود احمد کاسانی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں : ” إذا علم بذلك يضمن ويأثم، وإذا لم يعلم يضمن ولا يأثم؛ لأن الخطأ مرفوع المؤاخذة شرعا ” یعنی جانتے ہوئے غیر کے مال کو ضائع کرنے پر تاوان بھی ہے اور گناہ بھی، جبکہ لا علمی میں تاوان ہو گا گنہگار نہ ہو گا، کیونکہ شرعا خطا پر مؤاخذہ اٹھا لیا گیا ہے (یعنی شرعا پکڑ، گناہ وغیرہ نہیں)
[الكاساني، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ١٦٨/٧]
کسی بچے سے نقصان ہو جائے تب بھی تاوان لازم ہے، چنانچہ فتاوی شامی اور فتاوی ہندیہ میں ہے : ” إن ابن يوم لو انقلب على قارورة إنسان فكسرها وجب عليه الضمان في الحال ” یعنی اگر ایک دن کے بچے نہ کسی شخص کے شیشے پر کروٹ لی، شیشہ ٹوٹ گیا تو بچے پر اسی وقت تاوان لازم ہے.
[الفتاوى الهندية، کتاب الحجر، الباب الأول فی تفسیر الحجر، ,5/54
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين ، کتاب الحجر، ١٤٦/٦]
بدائع الصنائع میں ہے : ” لو أتلف الصبي والمجنون شيئا، فضمانه في مالهما ” یعنی اگر بچے یا پاگل نے کوئی چیز ضائع کی تو ان دونوں کے مال سے ضمان ہو گا.
[الكاساني ,بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ,7/171]
بہارشریعت میں ہے : ” اگر ایک دن کے بچہ نے کروٹ لی اور کسی شخص کی شیشہ کی کوئی چیز تھی وہ ٹوٹ گئی اس کا بھی تاوان دینا ہوگا۔”
(بہارشریعت، کتاب الحجر ،جلد 3 ، حصہ 15، صفحہ 203 ، مکتبۃالمدینہ کراچی)
کسی مرض کے سبب گرنے پر بھی نقصان کا تاوان ہے، چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے : ” رجل يمشي في الطريق فأدركه مرض فوقع مغمى عليه، أو أدركه ضعف فلم يقدر معه على المشي فوقع على إنسان فقتله، أو وقع على الأرض حيا ثم مات فعثر به إنسان فالضمان واجب على عاقلته، فإن كان وقع على إنسان فقتله فعليه الكفارة، ولا ميراث له منه ” یعنی راہ چلتے ہوئے کوئی بیمار ہوا جس سے بے ہوش ہو گیا یا کمزور ہو گیا جسکی وجہ سے وہ چلنے پر قادر نہ رہا اور کسی انسان پرگر پڑا جس سے وہ مر گیا، یا وہ بیمار زندہ زمین پر گرا پھر مر گیا اور اس سے کوئی انسان ٹکرایا تو اسکے عاقلہ پر تاوان ہو گا، پس اگر کسی انسان پر گر کر اسے قتل کر دیا تو اس گرنے والے پر کفارہ ہے اور مرنے والے کی میراث سے گرنے والے کے لیے کچھ نہیں.
[مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية، ٤٣/٦]
بہار شریعت میں ہے : ” کوئی راہ چلتا بے ہوش ہو کر یا ضعف کی وجہ سے کسی پر گر پڑا جس سے وہ مرگیا یا راہ چلتا گر کر مرگیا اور اس سے ٹکرا کر کوئی دوسرا شخص مرگیا تو راہ گیر کے عاقلہ پر مرنے والے کی دیت واجب ہے۔ دوسرے کی موت اگر گرنے والے سے دب کر ہوئی ہے تو گرنے والے پر کفارہ بھی ہے جو اس کے مال سے ادا کیا جائے گا۔ اور وراثت سے محروم ہوگا اور اگر راہ گیر زمین پر گرا اور دوسرا اس سے ٹکرا کر مرگیا تو کفارہ اور حرمان میراث نہیں ہے۔
(بہارشریعت، کتاب الحجر ،جلد 3 ، حصہ 15، صفحہ 203 ، مکتبۃالمدینہ کراچی)
متعدد وہ مقامات جہاں غیراردی طور پر خطاءً لا علمی میں دوسرے کا نقصان کرنے سے بھی تاوان لازم ہے :
(1) المحیط البرہانی و فتاوی عالمگیری میں ہے : ” رجل جلس على ثوب إنسان، وهو لا يعلم به، فقام صاحب الثوب، فانشق ثوبه من جلوسه، فإنه يضمن نصف الثوب كذا في خزانة المفتين. ” یعنی اگر کوئی لاعلمی میں دوسرے کے کپڑے پر بیٹھا، کپڑے والا اٹھا تو کپڑے پر بیٹھنے سے اس کھڑے ہونے والے کے کپڑے پھٹ گئے تو وہ لاعلمی میں بیٹھنے والا نصف کپڑے کا تاوان دے گا، ایسا ہی خزانۃ المفتین میں ہے.
[مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية، ٨٨/٦]
(2) فتاوی ہندیہ میں ہے : ” رجل دخل على رجل، فأذن له في الجلوس على وسادة، فجلس عليها، فإذا بجنبها قارورة، وفيها دهن لا يعلم، فاندقت، وذهب الدهن ضمن الجالس الدهن ” یعنی ایک شخص دوسرے کے پاس گیا، دوسرے نے اسے تکیہ پر بیٹھنے کی اجازت دی، پس وہ بیٹھ گیا، ساتھ میں ایک شیشے کا برتن تھا جسے میں تیل تھا، بیٹھنے والے کو تیل کا علم نہ تھا، پس وہ برتن ٹوٹا اور تیل گر گیا تو بیٹھنے والا ضامن ہو گا.
[مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية، ٨٨/٦]
(3) المحیط البرہانی میں ہے : “نظر في دن دهن مائع لغيره، فوقعت قطرة دم من أنفه في الدن، وتنجس الدن؛ صار ضامنا إذا كان النظر بغير إذن المالك” یعنی اگر کسی نے تیل کے مٹکے میں دیکھا، پس اسکے ناک سے خون کا قطرہ مٹکے میں گرا اور مٹکا ناپاک ہو گیا تو وہ ضامن ہو گا، جبکہ مالک کی اجازت کے بغیر دیکھا ہو.
[ابن مَازَةَ، المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ٤٨٩/٥]
(4) در مختار میں ہے : ” ساوم صاحب الزجاج فدفع له قدحا ينظره فوقع منه على أقداح فانكسروا ضمن الأقداح لا القدح ” یعنی شیشے والے سے بھاؤ کیا اس نے ایک پیالہ اسے دیکھنے کو دیا، اسکے ہاتھ سے وہ پیالہ دوسرے پیالوں پر گرا جس سے پیالے ٹوٹ گئے تو وہ پیالوں کا ضامن ہو گا البتہ اس پیالے کا ضامن نہیں جو مالک نے اسے دیکھنے کو دیا تھا.
اسکے تحت شامی میں ہے :” لأن القدح قبضه على سوم الشراء بلا بيان الثمن والأقداح انكسرت بفعله فيضمنها بين الثمن أو لا كما في الخانية ” کیونکہ گرنے والے پیالے پر بطور خریداری بغیر ثمن بیان کیے اس نے قبضہ کیا جبکہ دیگر پیالے اسکے فعل سے ٹوٹے پس وہ ضامن ہو گا ثمن بیان ہو ہو یا نہ، جیسا کہ خانیہ میں ہے.
[ابن عابدين، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، ٢٣٨/٥]
(5) وہ صورت جسمیں غیر کا مال استعمال کرنا شرعا جائز، پھر بھی تاوان لازم، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے : ” وكذا يجب الضمان بتناول مال الغير حال المخمصة مع إباحة التناول ” یعنی انتہائی بھوک کی حالت میں غیر کے مال سے تناول کرنے پر بھی تاون ہے، حالانکہ ایسی حالت میں مال غیر سے تناول جائز ہے.
[الكاساني ,بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ,7/168]
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی
نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ
( مورخہ 14 دسمبر 2022، بمطابق 19 جمادی الاولی ، 1444ھ بروز بدھ )